انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک لبیک کے متعدد لیڈروں کی ضمانت منظور کرلی
- ہفتہ 06 / نومبر / 2021
- 3880
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کئی رہنماؤں کو ان کے خلاف درج کئی مقدمات میں ضمانت دے دی ہے۔
ضمانت منظور ہونے والوں میں مولانا فاروق الحسن، غلام غوث بغدادی، پیر ظہیر الحسن، مولانا شرف الدین، انجینیئر حفیظ اللہ علوی، مولانا عبدالرزاق، محمد بدر منیر، قاری اشرف، محمد اکبر، مظفر حسین، محمد عمر اور مزمل حسین شامل ہیں۔ عدالت نے تمام ٹی ایل پی رہنماؤں کو ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے کمرہ عدالت نمبر ایک اور 3 میں بالترتیب جج اعجاز احمد بٹر اور جج حسین بھٹہ نے مقدمات کی سماعت کی۔ دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر ضمانت نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت میں ٹی ایل پی رہنماؤں کی نمائندگی مختلف وکلا نے کی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ صوبائی دارالحکومت میں مظاہرے کے دوران پرتشدد واقعات میں کم از کم 3 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد کے بعد مظاہرہ کرنے والے ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف لاہور کے مختلف تھانوں میں دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ عدالت نے ان تمام مقدمات میں انہیں ضمانت دے دی ہے۔
ٹی ایل پی نے 20 اکتوبر کو لاہور میں پنجاب حکومت پر اپنے سربراہ مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ سعد رضوی کو 12 اپریل سے پنجاب حکومت نے ’امن عامہ کو برقرار رکھنے‘ کے لیے حراست میں رکھا ہوا ہے۔
تاہم ٹی ایل پی رہنما پیر اجمل قادری نے بعد میں کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام‘ تھا جبکہ انہوں نے سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ لاہور میں پولیس کے ساتھ تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا۔
لاہور اور گوجرانوالہ میں مارچ کے دوران تصادم کے دوران 5 پولیس اہلکار شہید اور مارچ کے شرکا اور پولیس دونوں کے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
خبروں کے مطابق ٹی ایل پی کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حکومت ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف معمولی مقدمات کی پیروی نہیں کرے گی تاہم انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ ٹی ایل پی کی قیادت کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس اکاؤنٹس اور اثاثوں کو غیر منجمد کردیا جائے گا اور تنظیم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے اقدامات ہوں گے۔
پنجاب حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ تحریک لبیک پر پابندی ختم کرنے کی سمری صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کو بھیجیں گے۔ وفاقی کابینہ پابندی منسوخ کرنے کی منظوری دے گی اور پھر وزارت داخلہ اسے نوٹیفائی کرے گی۔
وفاقی حکومت اور ٹی ایل پی کے معاہدے کے بعد تقریباً 2 ہزار 100 ٹی ایل پی کارکنوں کو پولیس کی حراست سے رہا کیا گیا ہے