کیا ہم بھیڑوں کا ریوڑ ہیں؟

ہمارے بائیس کروڑ عوام میں سے چند لاکھ ضرور امیر ہوں گے باقی ہم کروڑوں تو غریب ہیں، جن میں اگر کچھ امیر تھے بھی تو ہماری صادق و امین حکومت نے انہیں کھینچ کر غریبوں میں پھینک دیا ہے۔

 کیونکہ ریاست مدینہ ثانی کو غریبوں سے اتنی محبت ہے کہ وہ ان کی میجارٹی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتی ہے اور الحمدللہ حکومت نےاس حوالے سےسابقہ ستر سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سابقہ سات دہائیوں میں نااہل سے نا اہل حکو متیں بھی غرابا کی تعداد اتنی زیادہ نہیں بڑھا سکیں، ہماری غریب نواز حکومت نے اپنے محض تین سالوں میں یہ معجزہ کر دکھایا ہے۔ اس کامیابی کی خوشی میں اب ہماری ایماندار حکومت نے ان غربا کے لئے ایک ارب بیس کروڑ روپے کا ریلیف پیکیج جاری فرمایا ہے، جو امیر سیٹھ لوگ ہیں انہیں بھی تلقینِ شاہی ہے کہ اپنے منافع بخش کاروبار سے کچھ خیر خیرات نکال کر غربا کو اچھی اور گرم چائے پلا دیا کریں۔ ہو سکے تو مہینے میں ایک دو بار انہیں کھانا بھی کھلا دیا کریں، کھانا کھا کر یہ رجے کہلائیں گے۔ الحمد للہ کہتے، دانتوں میں خلال کرتے کم از کم حکومت کو بددعائیں دیں گے نہ زبان طعن دراز کریں گے۔ حکومت نےبھی تو اس مقصد کے تحت لنگر خانوں کا جال بچھا رکھا ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ ایک چور پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھا رہا تھا۔ میرے پاکستانیو! کیا آپ نے سڑکوں کو چاٹنا ہے؟ سڑکوں سے قومیں ترقی نہیں کرتیں، قومیں ترقی کرتی ہیں زیادہ سے زیادہ مانگنے سے، جسے شک ہے وہ ہمارے ہسپتال میں داخل ہو کر دیکھ لے۔ میں ویسٹ میں رہا ہوں ، مجھ سے زیادہ میرے پاکستانیو! ویسٹ کو کوئی نہیں جانتا، ان لوگوں نے لنگر خانوں کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔ وہ تو اپنے لنگر خانوں کو ہوٹلز کا نام دے کر پیسے بٹورتے ہیں جبکہ ہم تو کھانے کے ساتھ فری پانی بھی مہیا کرتے ہیں جسے شک ہے وہ چند روز ان لنگر خانوں میں قیام پذیر ہو کر دیکھے۔ گھر ہی نہیں امریکی ہوٹلوں کے مزے بھی بھول جائے گا۔ یہ ہے ہماری منصوبہ بندی، یہ ہے ہمارا وژن، میں نے اور میری قابل ٹیم نے ماشااللہ تین سال بہت محنت کی ہے۔ ہم محض بنی گالا میں گھاس نہیں کاٹتے رہے، پیروں فقیروں کی دعاؤں سے لنگر خانوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں اور آج اس کا ثمر ریلیف پیکیج کی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔

اردو ہماری قومی زبان ہے، ہمیں احساس ہی نہیں یہ کتنی زبردست زبان ہے۔ اس کا ایک محاورہ ہے پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں آ گرنا، تو ہمارا یہ ریلیف پیکیج اس تین سالہ محنت شاقہ کا پکا ہوا پھل ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس ریلیف پیکیج کی برکت سے آئندہ چھ ماہ میں کس تیزی سے ہماری ڈوبی ہوئی معیشت اوپر اٹھتی ہے۔ آٹا، دال اور گھی پر اکٹھی تیس فیصد سبسڈی سے عوام کی آنکھیں ہی نہیں کھُلیں گی باچھیں بھی کھلِ جائیں گی۔ یقیناً اس خطیر رقم سے محض 13کروڑ نہیں 23کروڑ عوام پورے دو سال تک مستفید ہوتے رہیں گے۔ چالیس لاکھ خاندانوں کے لئے ہم جلد بلاسود قرضوں کا پروگرام بھی دینے جا رہے ہیں میرے پاکستانیو! آج کے گۓ گزرے دور میں ’مال غنیمت‘ تو نہیں مل سکتا، آپ سمجھ لو کہ یہ قرضے بھی ایک طرح سے غنیمت ہیں۔ میرے پاکستانیو! آج اگر ہمیں پٹرول مزید آٹھ روپے مہنگا کرنا پڑا ہے یا چینی ایک سو پچاس روپے کلو تک پہنچ گئی ہے تو اس مہنگائی کی وجہ ہم نہیں سابقہ حکومتیں ہیں۔ اگر آپ تحریک انصاف کی نظروں سے دیکھو تو یہ مہنگائی کوئی زیادہ نہیں۔ اپنے ہمسایہ دیگر ممالک سے موازنہ کرو تو یہ مہنگائی کچھ بھی نہیں۔

 مہنگائی تو ہندوستان کیا امریکا میں بھی بہت بڑھی ہے، پوری دنیا میں بڑھی ہے لیکن جتنی ہم نے کی ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہمیں عوامی غربت اور دکھوں کا احساس ہے۔ انڈیا ہو یا امریکا وہاں لوگوں کی تنخواہیں زیادہ ہیں، لوگوں کی قوت خرید زیادہ ہے، ہمیں احساس ہے کہ ہمارے ملک میں کرونا جیسی وبا کی وجہ سے معاشی ترقی نہیں ہو سکی یہ تو زیرو سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔ اسی لیے ہم نے مہنگائی کو کم سے کم رکھا ہے مگر اس تھوڑی سی مہنگائی سے بھی آپ نے گھبرانا شروع کردیا ہے۔ اپوزیشن آپ کو خواہ مخواہ ڈراتی رہتی ہے، اپوزیشن کا تو کام ہی ہمہ وقت تنقید کے نشتر چلانا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے آزاد میڈیا کو اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہیے، آپ لوگ اگر مائیک لے کر عوام کے پاس جائیں گے تو لازمی بات ہے وہ مہنگائی کے خلاف رونا چلانا شروع کردیں گے۔ حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ آپ عوام کے پاس جائیں ہی نہیں، حکومت وقت کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے خود ہی لکھ دیا کریں کہ سب اچھا ہے۔ اگر ہماری ذمہ دار صحافت اس قومی مفاد اور ذمہ داری کا احساس کرے تو پاکستان میں کہیں بھی کسی کو کوئی برائی یا خامی نظر نہ آئے۔ یوں بیرون ملک ہمارا جو تمسخر اڑایا جاتا ہے آپ کی قیادت کو اس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

میرے پاکستانیو! ایمانداری کے ساتھ آگے بڑھنا اور ترقی کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ آپ تو تھوڑی سی مہنگائی سے گھبرا گئے ہیں جبکہ میں آپ کو بتاتا ہوں آگے سردیاں آنے والی ہیں، ان سردیوں میں ہم عوامی ڈیمانڈ کے مطابق گیس مہیا کرنے سے یقیناً قاصر رہ جائیں گے۔ لہٰذا مجبوراً ہمیں گیس کی قیمتیں بھی تیل کی طرح بڑھانا پڑیں گی، کوئی نہیں آپ صرف دو سال مزید تنگی کے گزار لیں۔ اس کے بعد میرا وعدہ ہے کہ یہاں ہماری سونامی کی لہریں بہریں ہو جائیں گی۔ آپ دیکھیں ہم نے کے پی میں اربوں درخت لگائے ہیں، اپوزیشن اتنی نااہل ہے اس میں گنتی کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ بس الزام بازی ہے کہ درخت کم لگے ہیں۔ ان لوگوں نے اب ایک نیا الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہتے ہیں کہ اس ایمانداری کے دور میں نیب کے اندر اربوں کی کرپشن ہو گئی ہے۔ نیب نے کہا تھا کہ اس نے آٹھ سو اکیس ارب46 کروڑ اور نوے لاکھ کی ریکوری کی ہے جبکہ سرکاری خزانے میں جمع صرف ساڑھے چھ ارب کروائے ہیں باقی رقم کہاں غائب ہو گئی ہے ؟ یقیناً یہ ان چوروں نے ہی لوٹی ہے جو دو خاندان پچھلے تیس سالوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

 میں ان دونوں خاندانوں کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ اپنی دولت واپس لے آئیں، میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آدھی کردوں گا یہ میرا قوم سے پکا وعدہ ہے۔ اس پر کوئی زبان دان مجھے اس نوع کا محاورہ سنانے کی کوشش نہ کرے کہ ’’نہ ہوگا نو من تیل نہ رادھا ناچے گی‘‘۔ ورنہ ہم مراد سعید کو سامنے لے آئیں گے جو تین برس قبل کہتا تھا کہ میرا کپتان حکومت میں آئے گا اور اگلے روز لوٹے گئے دو ارب ڈالر واپس لائے گا۔ ایک ارب بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے ان کے منہ پر مارے گا دوسرا ارب عوام میں بانٹ دے گا۔ لیکن کیا کریں مغربی عدالتی نظام بھی بڑا کرپٹ ہے۔ مجھ سے زیادہ اسے کوئی نہیں جانتا، وہ جس نوع کے پکے ثبوت مانگتے ہیں وہ ہم کہاں سے لائیں؟ اب ہم تو صرف ان دو خاندانوں سے درخواست ہی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ میں ان لوگوں سے کبھی نہیں ملوں گا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملاؤں حالانکہ یہ ہاتھ ملانا تو ان کی کرپشن کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا کیونکہ مغرب میں تو اس طرح نہیں ہوتا۔

البتہ میں جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اس سے اگر میں نے ہاتھ ملایا ہے یا سینہ، تو میڈیا اس حوالے سے میرے سامنے کوئی سوال نہ اٹھائے کیونکہ میں بڑے چوھدری صاحب کو زبان دے چکا ہوں کہ آئندہ سے مجھے بھی اپنے اس چھوٹے بھائی جیسا ہی بھائی سمجھں، ویسٹ میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔