ٹی ایل پی پر سے پابندی اٹھا لی گئی، سعد رضوی بدستور نظر بند ہیں

  • سوموار 08 / نومبر / 2021
  • 4580

حکومت نے کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ تاہم جماعت کے امیر سعد حسین رضوی اب تک حراست میں ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے رواں سال اپریل میں ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن حالیہ عرصے میں حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اس کے پرانے اسٹیٹس کی بحالی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے بعد اب ٹی ایل پی کے ساتھ لفظ کالعدم نہیں لکھا جائے گا اور یہ جماعت ملک بھر میں مذہبی و سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکے گی۔

ٹی ایل پی کے تمام منجمند اکاؤنٹس کھول دیے گئے ہیں اور اب پارٹی کے ذمے داران اپنے اکاؤنٹس سے رقوم نکلوا یا جمع کرا سکتے ہیں۔ حکومتی نوٹی فکیشن کو انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کو بھی بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے جماعت کی درخواست پر غور کے بعد سفارشات تیار کر کے وزارتِ داخلہ کو ارسال کی تھیں۔ وزارتِ داخلہ نے یہ سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کی جسے کابینہ نے منظور کر لیا تھا۔ جس کے بعد اتوار کی شب وزارتِ داخلہ نے ٹی ایل پی سے پابندی ختم ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔

بعض حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس جماعت کو سیاسی دھارے میں لایا جا رہا ہے، لیکن یہ جماعت تمام انتخابات میں پہلے ہی حصہ لے رہی تھی کیوں کہ انہیں کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے ریفرنس کے ذریعے اس جماعت پر پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

تحریک لبیک پر پابندی ختم ہونے کے اعلان کے بعد ٹی ایل پی نے وزیر آباد مین دیا گیا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کارکنوں سے گھروں کو جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ پورا نہیں ہؤا۔ اس دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔