صلح کے مذاکرات اور عوامی مسائل
- تحریر نصرت جاوید
- سوموار 08 / نومبر / 2021
- 4500
قومی اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر کی درخواست پر تبلیغی جماعت نے اپنے سالانہ اجتماع کے اختتام سے قبل مہنگائی سے نجات کی دعائیں بھی مانگی ہیں۔ اس اہم مسئلے کے حل کے لئے تبلیغی جماعت سے رجوع کرنے سے قبل اسد قیصر صاحب حکومت کی بنائی اس مذاکراتی ٹیم کا حصہ بھی تھے جو لاہور کو راولپنڈی سے ملانے والے جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے مفتی منیب الرحمن صاحب کے ترلے منتوں کو مجبور ہوئی۔
دین والوں سے ہماری حکمران اشرافیہ کے رابطے واضح طور پر عندیہ دے رہے ہیں کہ سیاست میں ملوث دنیا داروں کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ اپنی زندگیوں میں آسانی کے لئے اب ہم فقط دعائیں ہی مانگ سکتے ہیں۔ مہنگائی سے نجات کے لئے تبلیغی جماعت سے رجوع مگر یہ اطمینان بھی دلارہا ہے کہ اسد قیصر جیسے حکمرانوں کو ہماری مشکلات کا کماحقہ ادراک ہے۔ ان کی جماعت اگرچہ مہنگائی کی بابت مچائی دہائی کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی۔ بدھ کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم صاحب نے میڈیا کو بلکہ ہدایت دی کہ وہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سیاپا فروشی کے لئے استعمال نہ کریں۔ تھوڑی تحقیق کے بعد عوام کو یہ بھی یاد دلایا جائے کہ مابعد از کرونا زمانے میں معیشت دنیا بھر میں تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔ مذکورہ بحالی نے تیل کی طلب میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے خوش حال ممالک کے شہری بھی اس کی وجہ سے بلبلا اٹھے ہیں۔ طلب اور رسد کے مابین تفاوت جو قیامت ڈھارہا ہے، اس کی وجہ سے نازل ہوئی اذیتیں پاکستان میں تاہم اب بھی قابل برداشت ہیں۔ ہم بدستور جنوبی اور وسطی ایشیا کا سستا ترین ملک ہیں۔
عمران خان صاحب کے کئی برسوں تک مداح رہے میڈیا کو مگر اپنا سودا بھی بیچناہے۔ اپنا دھندا چلانے کے لئے اسے آئی بالز یا ریٹنگ درکار ہوتے ہیں۔ عوام کے مسائل اگر ٹی وی سکرینوں پر بیان ہوتے نظر نہ آئیں تو لوگ ہمارے حق گو اینکر خواتین وحضرات کو بکاؤ ہونے کے طعنے دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کے ذہن ساز خطبوں کا اعتبار نہیں کرتے۔ شہری موبائل اٹھاکر خود بازار چلے جاتے ہیں اور رپورٹروں کی طرح عوامی مشکلات سے جڑی کہانیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اچھالنا شروع ہو جاتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے صحافیوں کا چلن اختیار کرنا ٹی وی سکرینوں پر سٹار بنے افراد کی بے باکی کی حدود عیاں کردیتا ہے۔ ان کی شہرت اور مقبولیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔
مسلسل جی حضوری سے اپنی ساکھ کھوتے میڈیا کی محدودات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تحریک انصاف کے دیگر ممالک میں موجود حامی وہاں پھیلی مہنگائی کو سوشل میڈیا پر لگائی ویڈیوز کی مددسے اجاگر کر رہے ہیں۔ ہمیں مگر یہ بتاتے نہیں کہ مثال کے طور پر برطانیہ میں فی کس آمدنی کیا ہے۔ اس ملک میں سوشل سکیورٹی نام کا ایک نظام بھی موجود ہے۔ ہر بے روزگار کو زندہ رہنے کے لئے گزارہ الاؤنس ملتا ہے۔ سکول کے بچوں کو وہاں دوپہر کا کھانا حکومت فراہم کرتی ہے اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو انڈرگراؤنڈ یا بس کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کے لئے ٹکٹ نہیں خریدنا ہوتا۔ وہ فری پاس کے حقدار ہیں۔ اس کے علاوہ طبی سہولتیں بھی عوام کی اکثریت کو مفت فراہم کی جاتی ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی وہاں کے کم آمدنی والے کنبوں میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقوم بانٹی ہیں۔ اس کے باوجود حال ہی میں ورجینیا نامی صوبے میں گورنر کا انتخاب ہوا تو گیارہ برس کے طویل وقفے کے بعد ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کا نامزد کردہ امیدوار جیت گیا۔ ورجینیا اگرچہ ڈیموکریٹس کا گڑھ شمار ہوتا رہا ہے۔ بائیڈن نے بھی وہاں دس پوائنٹس کی اکثریت سے گزشتہ نومبر میں صدارتی انتخاب جیتا تھا۔ ورجینیا کے لوگ مہنگائی سے پریشان نہ ہوتے تو بائیڈن اور اس کی جماعت کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے اپنا غصہ نہ نکالتے۔ ہمارے لئے مگر حکم یہ ہے کہ گھبرانا نہیں۔ عمران خا ن صاحب کو ہمارے سپریم کورٹ نے صادق وامین قرار دے رکھا ہے۔ وہ وجیہہ، دلکش اور ذاتی طور پر ایماندار ہیں۔ ہمارے مقتدر حلقے بھی ان کی راہ میں بچھائے کانٹوں کو صاف کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے بقراط عصر اور دور حاضر کے سرسید احمد خان جیسے عقل پرست جناب فواد چودھری جب اپنے تئیں جی ٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بحال کرنے میں ناکام ہو گئے تو مفتی منیب الرحمن صاحب کو متحرک کرنے والوں کے نام ہم سب کو معلوم ہیں۔
عمران حکومت کو استحکام فراہم کرنے والی مدد فقط اندرون ملک ہی میسر نہیں۔ جنرل مشرف کے آخری برسوں میں ہمارے ہاں دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ہزاروں بے گناہ شہری اس کی نذر ہوئے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ دین کے نام پر قائم ہوئے مذہبی انتہا پسندوں کا ایک گروہ افغانستان میں پناہ گزین ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت اور اشرف غنی کی حکومت اس کے سرپرست ہیں۔ ان ہی کی ایما پر یہ گروہ ہمارے ہاں دہشت گردی پھیلارہا ہے۔ امریکہ مگر اس برس کی 15 اگست کے روز ذلیل وخوار ہو کر افغانستان سے فرار کو مجبور ہوا۔ اس کے فرار نے بھارت اور اشرف غنی کے لئے پنجابی محاورے والے ”جتھے گیاں بیڑیاں تے اوتھے گئے ملاح“ والی کیفیت بھی بنادی۔ اب اس گروہ سے صلح کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔
طالبان حکومت کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے حامی افغانوں کو امریکہ والے ”حقانی نیٹ ورک“ پکارتے ہوئے دہشت گرد ٹھہراتے رہے۔ ان کے علاقوں میں بے پناہ ڈرون حملے بھی ہوئے۔ ماضی کی تلخیوں کو فراخ دلی سے بھلاتے ہوئے سراج الدین حقانی مگر پاکستان میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت اگر امن قائم ہو گیا تو ہماری معیشت بھی تیزی سے خوش حالی کی جانب گامزن ہونا شروع ہو جائے گی۔ یہ خوش حالی عمران خان صاحب کی بصیرت کا اثبات ہوگی جو شروع دن سے طالبان سے مذاکرات پر زور دے رہے تھے۔ ان کے خلاف ریاستی قوت کے استعمال کے شدید مخالف تھے۔ ایسے نظریات کی وجہ سے مغرب کے ٹکڑوں پر پلتے لبرل صحافی اور دانشوروں نے انہیں ”طالبان خان“ ہونے کے طعنے دیے۔ وقت مگر انہیں درست ثابت کرتا نظر آ رہا ہے۔
مہنگائی سے بھی لہٰذا گھبرائیں نہیں۔ عمران خان صاحب پر اعتبار کریں۔ اوکھے سوکھے ہو کر نومبر سے فروری تک فقط سردی کے چارماہ مہنگائی کے ساتھ گزارلیں۔ اس موسم میں گھروں کو گرم رکھنے کے لئے گیس بھی کماحقہ مقدار میں میسر نہیں ہوگی۔ موسم بہار کا آغاز ہوتے ہی لیکن ہماری مشکلات حیران کن تیزی سے ختم ہونا شروع ہوجائیں گی۔ لوگ نئی موٹرسائیکلیں خرید رہے ہوں گے۔ اپنے بچوں کو تفریحی مقامات کی سیر پر لے جانے کو بے چین بھی ہوں گے۔ اس وقت تک ہم یہ بھی دریافت کر لیں گے کہ چینی کا استعمال اپنی صحت کو سلوپوائزننگ کے ذریعے تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ تاریخ میں وادیٔ سندھ کہلاتے علاقوں میں دریاؤں کے کنارے آباد انسان اس لئے ترقی نہیں کرپائے کیونکہ وہ پراٹھوں کو شکر سے ملاکر چوری بناتے تھے۔ اسے کھاتے ہوئے دودھ کے بڑے بڑے گلاس بھی ختم کردیتے اور پھر درختوں کی چھاؤں میں بچھی چارپائیوں پر سوجاتے۔ ہیر کو درخت کی شاخ سے بنائی چھڑی مارکر انہیں جگانا پڑتا۔ اسی باعث ہمارے ہاں ارطغرل جیسے دلاور پیدا نہ ہوپائے۔ کانوں میں مندری پہنے رانجھے ہی نمودار ہوتے رہے جو محبوب کے حصول کے لئے جوگیوں کا روپ بھی دھارلیتے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)