حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا: فواد چوہدری

  • سوموار 08 / نومبر / 2021
  • 3870

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مکمل جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

پاکستان ٹیلی ویژن نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے حوالے سے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان سے آئین پاکستان کے تحت مذاکرات ہورہے ہیں، معاہدے کے تحت مکمل جنگ بندی پر آمادگی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  آئیندہ پیش رفت کو سامنے رکھتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع ہوگی۔

وزیراطلاعات ونشریات نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کا امن، معاشرتی اوراقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطررکھاجائےگا۔ افغان عبوری حکومت نےمذاکرات میں کردار ادا کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک طالبان سے مذاکرات کا تذکرہ بھی کیا تھا۔

قبل ازیں ایک ترک نیوز چینل کو گزشتہ ماہ انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے تسلیم کیا تھا کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کررہی ہے تا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور معافی کے بدلے صلح کر کے عام شہریوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے چند گروپس ہم سے مصالحت کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان گروپس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے روزنامہ  ڈان کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی حکام کی ملک میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری عسکریت پسندی کے خاتمے کی غرض سے ایک وسیع تر امن معاہدہ کرنے کے لیے کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ عارضی مفاہمت ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا تھا کہ افغانستان کے جنوب مغربی صوبے خوست میں تقریباً دو ہفتوں سے دونوں فریقین کے درمیان براہ راست آمنے سامنے ہونے والی بات چیت جاری تھی۔

بات چیت کا نتیجہ ملک بھر میں جنگ بندی کا اعلان کرنے کے لیے ایک عارضی مفاہمت کی صورت میں نکلا جو اعتماد سازی کے لیے ٹی ٹی پی کے کچھ معمولی جنگجوؤں کی رہائی سے مشروط ہے۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ پاکستان کی حراست میں موجود کتنے عسکریت پسندوں کو رہا کردیا جائے گا البتہ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کی تعداد 2 درجن سے زیادہ نہیں۔

یاد رہے کہ ستمبر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ جو کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے اراکین جرائم میں ملوث نہیں اور ٹی ٹی پی کے نظریات کو چھوڑ کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہیں تو حکومت عام معافی کا سوچ سکتی ہے۔

ادھر اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد  پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ پارلیمان میں کسی اتفاقِ رائے کے بغیر خود اپنے طور پر تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کرے۔

اجلاس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اجلاس کے دوران ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی دونوں ہی کے معاملے پر اپوزیشن نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔