افغانستان کی مدد کے پاکستان میں فنڈز قائم

  • منگل 09 / نومبر / 2021
  • 3440

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغانستان کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا ہے جس میں پاکستان کے عوام عطیات جمع کراسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں 2 کروڑ 30 لاکھ افراد خوراک کی کی کا شکار ہیں اور اب تک 8 بچے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ہم دنیا کو اپنے خدشات کا پہلے ہی اظہار کرچکے تھے لیکن اب ہم تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے جو افغان باشندوں کے لیے مناسب ہوں گے۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ سے متعلق بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وافر مقدر میں گندم اور چاول افغانستان بھیجنے اور افغانستان کی تمام درآمدات پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں آئندہ ماہ منعقد کیا جائے گا جہاں مسلم ممالک سے خوارک سے متعلق افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے اپیل کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اگر افغانستان کو خوراک کے بحران سے نہ بچایا گیا تو صورتحال ناقابل یقین تک خراب ہوجائے گی اور اس بارے میں ہر فورم اور سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ افغانستان کے لیے خصوصی فنڈ قائم کردیا ہے جس میں پاکستان کے عوام عطیات جمع کراسکتے ہیں۔ آئندہ چند روز میں پاکستان کا دورہ کرنے والے افغانستان کے وفد کے ساتھ انسانی المیہ سے متعلق بھی بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اثاثے منجمد ہونے کی وجہ سے وہاں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور انہیں بیرونی امداد بھی حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ افغانستان سے انتہائی مایوس کن خبریں آرہی ہیں کہ خوراک کے لیے بچوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ عالمی منڈی میں گیس اور آر ایل این جی کی قیمت بڑھنے کے پیش نظر اور گیس کا غیر قانونی استعمال روکنے کے لیے وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمت 6.5 ڈالر سے بڑھا کر 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کردی ہے۔ قیمتوں کا اطلاق 15 نومبر 2021 سے 31 مارچ 2022 تک ہوگا۔ اس اضافے کا گھریلو صارفین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کا کردار متنازع رہا ہے۔ جو بھی چیز آتی ہے وہ اسے تین گنا زیادہ کرکے دکھاتا ہے جس سے اپنا اور ملک کا نقصان کررہے ہیں۔  یہ بھی ایک مسئلہ ہے جسے بہت جلد ’ڈیل‘ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے 3 سال کوششیں کرلیں لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتے اور اب انہیں مزید 2 سال انتظار کرنا ہوگا بلکہ آئندہ پانچ سال بھی انتظار کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔ اپوزیشن کے پاس لیڈر ہے اور نہ ہی کوئی پروگرام ہے۔ اپوزیشن پہلے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھے، 90 کی دہائی نہیں ہے کہ ہروقت سازشیں کرتے رہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں مہنگائی تھم جائے گی۔ 2023 میں الیکشن کی جانب جائیں گے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات کا عمل آئین کے تحت ہوگا، اس لیے تمام متحارب گروپس کو پاکستان کے آئین کا احترام کرنا ہوگا۔

ٹی ٹی پی میں تمام پاکستانی ہیں اور ریاست انہیں ایک موقع دینا چاہتی ہے، اگر وہ پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کریں گے تو ہم انہیں یقنی طور پر ایک موقع دیں گے۔ اس وقت پاکستان کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مضبوط پوزیشن کے ساتھ بات کرنی چاہیے

انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات کے تعاون سے 911 کی ہیلپ لائن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد تمام دیگر ہیلپ لائن 911 میں ضم ہوجائیں گی۔