ہمارے ملک میں اخلاقیات تباہ ہونے سے معیشت زوال پزیر ہوئی: وزیراعظم
- منگل 09 / نومبر / 2021
- 3130
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں اخلاقیات تباہ ہونے کے ساتھ معیشت بھی گرنا شروع ہوگئی کیونکہ کرپشن اخلاقی زوال کا نتیجہ ہے۔
اسلام آباد میں سول سورسز اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن اخلاقی تباہی کی نشانی ہے۔ جس طرح کینسر کی وجہ ایک پھوڑا نکلتا ہے اسی جب ایک قوم میں جب اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو کرپشن نکل آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہانسان کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو آزمایا جاتا ہے، اچھے وقت میں کوئی بھی اچھا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزمائش میں پتہ چلتا ہے کہ آپ کا ایمان کتنا مضبوط ہے تو آپ کی آزمائش ابھی شروع ہوئی ہے۔ آپ کا مستقبل آپ کا منتظر ہے کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور کتنے بڑے انسان بنتے ہیں اور کیا حاصل کرنا چاہتےہیں۔ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جس کے خواب بڑے ہوں اور بڑے خواب دیکھتا ہے، جو آئیڈلسٹ ہوتا ہے۔ کبھی رئیلسٹ بڑا انسان نہیں بنا۔ جس آدمی نے سب سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا اگر وہ رئیلسٹ ہوتا تو کبھی سر نہیں کرتا کیونکہ اس سے پہلے جس نے بھی کوشش کی تھی یاتو وہ مرگئے تھے یا ناکام ہوئے تھے۔ رئیلزم کہتا تھا یہ نہیں چڑھ سکتا لیکن آئیڈلزم کہتا تھا سر کرنے کے لیے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی قوت ایمان کی ہوتی ہے، ایمان انسان کی اپنی تمام حدوں کو ختم کردیتی ہے۔ راستے میں ہمیشہ مواقع ملیں گے اور دو چوائسز ملیں گی۔ ایک راستہ وہ ہے جو لگتا بڑا مشکل ہے لیکن وہ راستہ جہاں نعمتیں ملتی ہیں۔ ہمیشہ دو راستوں پر فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ ایک آپ کی عظمت کا راستہ ہے اور دوسرا راستہ انسان کی تباہی کا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک کو عظیم بننا تھا اور ہمارے دور میں عظیم بن رہا تھا۔ 60 کی دہائی میں پاکستان کی بیوروکریسی سارے ایشیا میں نمبر ون سمجھی جاتی تھی، اس کا بڑا معیار اور عظمت تھی اور پھر آہستہ آہستہ ہم دوسرے راستے پر چلے گئے جو ہماری تباہی کا راستہ ہے۔ یاد رکھیں معاشی گراوٹ پہلے نہیں آتی بلکہ پہلے اخلاقیات گرتی ہے پھر آپ کی معاشی گراوٹ آتی ہے۔ جب آپ کی اخلاقیات تباہ ہوتی ہے تو اس کے بعد معیشت تباہی کی طرف جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں سارے غریب ملکوں میں کرپشن منفرد ہوگی کیونکہ ان کی اخلاقی اقدار گرجاتی ہیں، سارے امیر ملکوں میں ایک چیز کامن ہوگی کہ ان کے پاس اخلاقی قوت ہوگی انصاف دینے کے لیے۔ ایک معاشرہ جس کے اندر اخلاقیات نہیں ہوتی وہ انصاف بھی نہیں کرسکتا، وہ پھر این آر او دیتا ہے اور چوروں سے ڈیل کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو قوم انصاف نہیں کرسکتی، اگر آپ طاقت ور کو اوپر رکھ رہے ہیں تو آپ انصاف نہیں کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں آہستہ آہستہ اخلاقیات گری اور اخلاقیات کے ساتھ ہماری معیشت نیچے گئی۔