افغانستان میں خواتین کے قتل کے بعد خوف کی فضا
- بدھ 10 / نومبر / 2021
- 4240
افغانستان کے شمالی شہر مزارِ شریف میں چار خواتین کے قتل کے بعد خوف کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر طالبان اس واقعے میں ملوث نہیں ہیں تب بھی عوام کی جان و مال کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کو قتل کرنے کے واقعے میں ملوث دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے شمالی افغانستان میں ایک گھر سے چار خواتین کی لاشیں ملی تھیں۔ جن میں ایک انسانی حقوق کی سرگرم رکن بھی شامل تھیں۔
افغانستان میں جن چار خواتین کو ہلاک کیا گیا ان میں سماجی کارکن فروزون صافی بھی شامل ہیں جو افغانستان میں خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم رکن تھیں۔ واقعے کے بعد پورے افغانستان میں انسانی اور عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
صوبۂ بلخ کے ایک رہائشی نے نام نہ بتانے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان کا معاشی بحران تیزی سے طول پکڑتا جا رہا ہے اور ہر طرف افراتفری ہے۔ اس صوتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ان خواتین کے بارے میں بھی یہی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ ملک چھوڑنے کے لیے وہاں جمع ہوئی تھیں جہاں بعد ازاں ان کی لاشیں ملی ہیں۔
شینکئی کڑوخیل کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کی بات مان لی جائے تب بھی چاروں خواتین کی خونریزی میں ان کی جان و آبرو کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ برسرِ اقتدار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے واقعات کی فہرست طویل ہے اور صرف بلخ تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے افغانستان میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ انہیں عالمی برادری اور افغان عوام کی تائید حاصل ہو تو انہیں خواتین اور انسانی حقوق کی پامالی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔
ان کے بقول خواتین کو وہ تمام بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو انہیں فراہم کیے گئے ہیں۔ خواتین کو کاروبار، طرز زندگی، تعلیم، اور روزگار کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طالبان افغان عوام کو یہ سہولیات دینے میں ناکام رہے اور قتل و غارت کی سرگرمیاں ایسی ہی جاری رہیں تو بہت جلد افغان عوام طالبان کے خلاف برسرِ پیکار ہو جائیں گے جس کا فائدہ نہ طالبان کو ہو گا نہ افغان عوام کو اور ایک مرتبہ پھر پورا خطہ جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔