نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

  • بدھ 10 / نومبر / 2021
  • 6490

نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے عصر ملک کے ساتھ  شادی  کا اعلان کرتے ہوئے نکاح کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ شادی 9 نومبر کو برمنگھم میں ہوئی۔

ملالہ  نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا  کہ آج کا دن میری زندگی کا ایک قیمتی دن ہے۔ عصر اور میں زندگی بھر کے ہمسفر بن گئے ہیں۔ ہماری برمنگھم میں نکاح کی چھوٹی تقریب ہوئی جس میں ہمارے خاندان شریک تھے۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، ہم اپنے آگے کے سفر میں اکٹھے چلنے کے لیے پرجوش ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کے شوہر عصر ملک پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے جنرل منیجر ہیں۔ تصاویر میں ملالہ یوسف زئی نے گلابی رنگ کا عروسی لباس زیب تن کیا جبکہ عصر ملک نے تھری پیس سوٹ کا انتخاب کیا۔

ملالہ کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے بھی اس حوالے سے ایک ٹوئٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں۔ ہم مسرت اور شکرگزاری کے جذبوں سے سرشار ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کی دوست نے بھی نکاح کی تقریب کی ایک تصویر انسٹا گرام پر شیئر کی۔ عصر ملک نے بھی اپنے انسٹا گرام پر ایک مختلف تصویر شیئر کی۔ ملالہ یوسف زئی نے جون 2021 میں ووگ میگزین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا فی الحال شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ بچے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس بیان کے بعد ان پر شدید تنقید کی گئی تھی اور ٹوئٹر پر ان کا نام ٹاپ ٹرینڈ پر بھی رہا۔ اس پر ملالہ کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے کہا تھا کہ شادی سے متعلق ان کی بیٹی کے بیان کو انٹرویو کے سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کیا گیا۔

دسمبر 2014 میں محض 16 سال کی عمر میں دنیا کا اہم ترین ایوارڈ ’نوبیل انعام‘ حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی 9 نومبر کو پاکستانی نوجوان عصر ملک سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ ملالہ یوسف زئی کو تو دنیا بھر کے لوگ جانتے ہیں، تاہم ان کے شریک حیات سے متعلق نہ صرف دنیا کے دیگر ممالک بلکہ پاکستانیوں کو بھی بہت کم معلومات ہے۔

ملالہ یوسف زئی کی جانب سے 9 نومبر کی شب نکاح کی تصدیق کے بعد پاکستانی انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ عصر ملک سے متعلق ہی معلومات تلاش کرتے دکھائی دیے۔ عصر ملک اگرچہ عوامی شخصیت نہیں ہیں، تاہم وہ کھیل اور میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ وہ اسپورٹس منیجمنٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

عصر ملک کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مختصر پروفائل کے مطابق وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں جنرل منیجر ہیں۔ عصر ملک کو پی سی بی نے 29 مئی 2020 کو این ایچ پی سی میں ہائی پرفارمنس منیجر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ اس سے قبل وہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطان کی منیجمنٹ سے وابستہ تھے۔

عصر ملک کا تعلق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے متوسط خاندان سے ہے اور انہوں نے اپنی پوری تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کی ہے۔ وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے تعلیمی یافتہ ہیں۔ عصر ملک نے ٹوئٹر پر جون 2017 میں اکاؤنٹ بنایا تھا اور انہوں نے تاحال محض 982 ٹوئٹس کی ہیں۔

اگر عصر ملک کے انسٹاگرام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے وہاں صرف 21 پوسٹس کی ہیں اور ان کے وہاں 7 ہزار سے زائد فالورز ہیں۔ انسٹاگرام پر عصر ملک نے 55 شخصیات اور اداروں کو فالو کر رکھا ہے اور انہوں نے جن شخصیات کو فالو کیا ہے، اس میں ملالہ اور ان کی تنظیم ملالہ فنڈ بھی شامل ہے۔

عصر ملک نے ملالہ یوسف زئی کے ساتھ سب سے پہلی تصویر بھی انسٹاگرام پر ڈھائی سال قبل جون 2019 میں شیئر کی تھی۔ انہوں نے ملالہ کے ساتھ کھچوائی گئی جو سب سے پہلی تصویر شیئر کی تھی، اس میں ملتان سلطان ٹیم کے مالک علی خان ترین، سابق کرکٹر ثقلین مشتاق، اداکار عدنان ملک اور ملالہ کے چند ساتھی بھی موجود ہیں، یہ تصویر انگلینڈ میں پاکستان کی کرکٹ سیریز کے دوران کھینچی گئی تھی۔

علاوہ ازیں عصر ملک نے ٹوئٹر پر بھی ملالہ یوسف زئی اور بولی وڈ اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ کھچوائی گئی تصویر بھی رواں برس جولائی میں نوبل انعام یافتہ کارکن کی سالگرہ کے موقع پر شیئر کی تھی۔ عصر ملک اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ملالہ سے متعلق پوسٹس، ان کے بیانات، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے رہے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کا نکاح  برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہوا جس کے بعد انہوں نے مقامی پارک میں فوٹوشوٹ بھی کروایا تھا۔ ان کے فوٹوشوٹ کی تصاویر اور مختصر ویڈیوز انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئیں اور دنیا بھر کے لوگوں نے سادگی اور روایتی مشرقی انداز کی ان کی تصاویر کی تعریف کی۔

ملالہ یوسف زئی نے شادی کی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے فوٹو گرافر میلن فیزہائی کا ذکر بھی  کیا۔ ملالہ یوسف زئی کا فوٹوشوٹ کرنے والی خاتون فوٹوگر یورپی ملک سویڈن سے ہیں۔ تاہم وہ کیریئر کے سلسلے میں امریکی شہر نیویارک میں رہتی ہیں۔

میلن فیزہائی کو صنفی تفریق، تشدد اور مہاجرین سے متعلق فوٹوگرافی کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ ان کی خصوصیات میں مہاجرین کی شادیوں کی فوٹوگرافی کرنا بھی شامل ہے۔ میلن فیزہائی نے شاندار فوٹوگرافی کے باعث متعدد ایوارڈز بھی حاصل کر رکھے ہیں۔ وہ نیویارک ٹائمز، نیشنل جیوگرافک، ایپل، نائیکی، ٹائمز میگزین، واٹر ایڈ اور اقوام متحدہ (یو این) کے ساتھ بھی کام کرتی رہی ہیں۔

میلن فیزہائی  دنیا کے 30 ممالک میں کام کر چکی ہیں اور انہوں نے زیادہ تر عالمی فلاحی اداروں کے منصوبوں پر کام کیا۔ وہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ چند سال سے کام کرتی رہی ہیں۔ خاتون فوٹوگرافر ملالہ یوسف زئی کی سماجی تنظیم ’ملالہ فنڈ‘ کے لیے فوٹوگرافی کرتی ہیں۔

میلن فیزہائی، ملالہ یوسف زئی کا فوٹوشوٹ کرنے والی تنہا فوٹوگرافر نہیں تھیں بلکہ انہیں ملالہ فنڈ کے ساتھ کام کرنے والے دیگر فوٹوگرافرز کی معاونت بھی حاصل رہی۔ میلن فیزہائی نے اپنے انسٹاگرام پر ساتھی فوٹوگرافر ’نوئوی‘ اور دیگر افراد کا بھی شکریہ ادا کیا۔

ملالہ یوسف زئی کا فوٹوشوٹ کرنے والی دوسری خاتون فوٹوگرافر ’نوئوی‘ بھی ملالہ فنڈ کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں اور انہیں بھی مہاجرین اور صنفی تفریق پر فوٹوگرافی کا وسیع تجربہ ہے۔ دونوں خواتین فوٹوگرافرز کو ملالہ کا فوٹوشوٹ کرنے کے لیے دیگر چند افراد اور فوٹوگرافی شپنگ کمپنی کی معاونت بھی رہی۔

جہاں ملالہ یوسف زئی کے فوٹوشوٹ کی تعریفیں کی جا رہی ہیں، وہیں ان کا میک اپ کرنے والی خاتون آرٹسٹ کو بھی سراہا جا رہا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کا روایتی پاکستانی انداز میں میک اپ کرنے والی آرٹسٹ برطانوی میک اپ آرٹسٹ ’اینا‘ ہیں جو کہ پاکستانی نژاد ہیں۔

اینا برطانیہ بھر میں روایتی مشرقی اور خصوصی طور پر جنوبی ایشیائی برائیڈل میک اپ کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں اور انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ملالہ کی تصویر بھی شیئر کی۔ اینا نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ملالہ یوسف زئی نے اپنی زندگی کے سب سے اہم ترین دن کے لیے ان کا انتخاب کیا۔