وزیراعظم نے ٹی ایل پی کےخلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی، فوجی قیادت نے مخالفت کی
- بدھ 10 / نومبر / 2021
- 4400
حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مندرجات آئندہ 10 روز میں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی تازہ ترین تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دینے کے برعکس فوجی قیادت نے اس کی مخالفت کی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے دوران سیاسی قیادت کو آن بورڈ لینے کے بعد حکومت نے اصولی طور پر ٹی ایل پی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمل درآمد کے دوران معاہدہ خفیہ رکھا گیا تھا۔
بریفنگ کے شرکا نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ سینئر فوجی حکام نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ معاہدہ کس طرح ہوا اور اسے اتنے عرصے تک خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ ان عہدیداروں کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ٹی ایل پی کے مظاہرین کو سڑکوں سے ہٹانا تھا تاکہ صورتحال معمول پر آسکے۔
اس تناظر میں اس بات کا خدشہ موجود تھا کہ ابتدا میں ہی معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے سے ایک عوامی بحث جنم لے سکتی ہے جس سے اس کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی تھی جو احتجاج ختم کرنے سے منسلک تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی نے احتجاج ختم ہونے کے بعد پورا معاہدہ منظرِ عام پر لایا جائے گا۔
تاہم معاہدہ طے پانے سے قبل یہ معاملہ نازک تھا کہ ان مظاہرین سے کس طرح نمٹا جائے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے راستے میں کھڑی کی گئی تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے تھے۔
تیزی سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ٹی ایل پی کے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دے دی اس اجازت کے بعد فوجی قیادت نے آپریشنل پہلوؤں اور ہجوم کے خلاف طاقت کے استعمال کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا۔
انہوں نے حساب لگایا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں کیا کیا شامل ہوگا اور اگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار گولی چلاتے تو کتنا جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ قیادت نے اس جائزے میں ہلاکتوں کے ممکنہ ردِعمل اور رائے عامہ پر اس کے مرتب ہونے والے اثرات کو بھی شامل کیا۔
پارلیمانی بریفنگ کے دوران فوجی قیادت نے ان میں سے کچھ معلومات شرکا کے ساتھ شیئر کی تھیں لیکن اب بہت سی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 29 اکتوبر کو ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹی ایل پی کے خلاف طاقت کے استعمال کے مضمرات اور فوائد سامنے رکھے۔
اس اجلاس میں شریک افراد نے اس بات کی تصدیق کی کہ آرمی چیف نے کہا تھا کہ اگر فیصلہ ساز ٹی ایل پی کے خلاف طاقت کے استعمال کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں تو فوج حکم پر عمل کرے گی۔
انہوں نے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے گزشتہ واقعات، سانحہ ماڈل ٹاؤن اور لال مسجد کا حوالہ دیا اور اجلاس کے شرکا کو دونوں واقعات کے نتائج یاد کرائے گئے۔ اس ملاقات سے پہلے ہی حکومت سخت رویہ اختیار کر چکی تھی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران کی حکومت کسی کو قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
وزیر اطلاعات نے ٹی ایل پی کو ایک ’عسکریت پسند‘ تنظیم قرار دیا تھا جس کے بھارت سے روابط تھے۔ تاہم فوجی قیادت نے طاقت کے استعمال کے خلاف مشورہ دیا اور کہا کہ یہ کوئی حل نہیں ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اس کے بعد 'خونریزی سے بچنے' کے لئے تصفیہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس مقصد کے لئے مفتی منیب الرحمٰن کو ثالثی کے لئے کراچی سے لایا گیا۔ مذاکرات میں شامل سینیئر حکام کو یقین ہے کہ معاہدہ 'بالکل ریاست کے حق میں' ہے اور ٹی ایل پی کے پاس دوبارہ پرتشدد مظاہروں کی طرف لوٹنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔
فوجی قیادت کی جانب سے پیر کی بریفنگ میں شریک افراد کو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا جو کہ حالیہ دنوں موضوع بحث ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بریفنگ کے بعد تصدیق کی تھی معاہدے کے لئے مذاکرات کے دوران حکومت اور ٹی ٹی پی نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
اعلیٰ ترین ذرائع نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ حکومت کا خیال ہے کہ اس کے پاس بہتر پوزیشن کے ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے 6 سے 8 ماہ کا وقت ہے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ واضح ہیں۔ ٹی ٹی پی کو ملک کے آئین اور قوانین کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جو افراد سنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور صرف معمولی جنگجوؤں کو رہا کیا جائے گا۔ اعلیٰ ترین ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امریکیوں کے چھوڑے گئے مہلک ہتھیار طالبان حکومت سے خرید رہا ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگیں۔ پاکستان، طالبان حکومت سے ان ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ واپس خرید رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق امریکی افواج نے تقریباً 2 لاکھ مہلک ہتھیار چھوڑے ہیں۔ طالبان کو پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔
ان ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی ان ہتھیاروں کی بڑی تعداد خرید چکا ہے۔ انٹیلی جنس افسران ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس دوران فوجی قیادت نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی بریفنگ کے شرکا کو بتایا کہ جب بنیادی معاہدہ طے پاجائے گا تو اسے حتمی منظوری کے لیے سیاسی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کے باضابطہ طور پر دستخط کرنے سے پہلے ہی اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے معاہدے کو مسترد کیا تو فوج، ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی شروع کردے گی۔