اے پی ایس کیس میں وزیر اعظم کی سپریم کورٹ میں پیشی، ذمہ داروں کا تعین کرنے کی یقین دہانی

  • بدھ 10 / نومبر / 2021
  • 3070

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان آرمی پبلک اسکول حملے سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں عدالت کی جانب سے طلب کرنے پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو واقعے کے تمام ذمہ داران کا تعین کرنے اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے آرمی پبلک اسکول حملے سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمدر اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے حکومت کو چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ چار ہفتوں بعد عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائے جس پر وزیرِاعظم کے دستخط موجود ہوں۔

اسلام آباد میں بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آرمی پبلک اسکول حملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ ابتدا میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان پیش ہوئے اور گزشتہ سماعت پر دیے گئے حکم پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ آرمی پبلک اسکول میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کی اعلیٰ سول و عسکری حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر حکومت سے ہدایت لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔

آرمی پبلک اسکول حملے میں جاں بحق بچوں کے والدین نے سابق آرمی چیف راحیل شریف، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام، سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار و دیگر حکام پر مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔ خیال رہے کہ سولہ دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے حملوں میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اپریل 2018 میں بچوں کے والدین نے انصاف کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ان کی درخواست کو اس وقت کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران بار بار والدین جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے رہے اور اکتور 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پشاور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا۔​  2020 میں سامنے آنے والی رپورٹ میں سانحے کو سیکیورٹی کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔

تین ہزار صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غداری کے سبب سیکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا اور دہشت گردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا۔ دہشت گردوں کو مقامی افراد کی طرف سے ملنے والی سہولت کاری ناقابلِ معافی ہے۔

بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وزیرِ اعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وہ وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالتی حکم سے آگاہ کریں گے۔ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب، یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیرِ اعظم کو بلائیں، ان سے خود بات کریں گے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمے داران کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے۔ دعویٰ بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں۔ اربوں روپے انٹیلی جنس پر خرچ ہوتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے۔ چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی۔ اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی۔ اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔

اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کچھ دیر کا وقفہ کیا اور سماعت ساڑھے 11 بجے دوبارہ شروع ہوئی۔ وقفے کے بعد جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت کے طلب کرنے پر عمران خان سپریم کورٹ پہنچے جہاں عمران خان نے اپنا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کا اسامہ بن لادن اور افغانستان سے لینا دینا نہیں تھا۔ پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ غیرجانب دار رہنا چاہیے تھا۔ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون ہے دشمن کون۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان دوسروں کی جنگ لڑتا رہا جس میں ہمارے 80 ہزار لوگ جان سے گئے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اس لیے جیتا کہ قوم پیچھے کھڑی تھی۔ اس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بتائیں اب تک کس کو پکڑا گیا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ حکومت نے کوئی اہم اقدام اٹھائے ہیں توعدالت کو بتایا جائے۔ آئین پاکستان ہر پاکستانی کے جان و مال کا تحفظ دیتا ہے۔

عدالتی استفسار پر وزیراعظم نے کہا کہ سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی۔ جب سانحہ ہوا تو صوبے میں ہماری حکومت تھی۔ واقعے کے دن ہی پشاور گیا اور اسپتال جاکر زخمیوں سے ملا۔ واقعے کے وقت ماں باپ سکتے میں تھے۔ صوبائی حکومت جو مداوا کرسکتی تھی وہ کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے۔ والدین کا مؤقف ہے کہ پورا سیکیورٹی سسٹم کیا تھا۔

چیف جسٹس نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ بااختیار وزیرِاعظم ہیں۔ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ شہدا کے والدین کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ آرمی کے اس وقت کے جو کرتا دھرتا تھے، وہ مراعات کے ساتھ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ سپاہی سے پہلے ذمہ داران اعلیٰ افسران تھے۔ سات سال سے کسی بڑے کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ مظلوم کے لئے اہم ہے کہ ظالم کے خلاف کارروائی ہو۔ کیا ہم پھر مذاکرات کرکے سرنڈر کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پھر سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں اور  فریقین گزشتہ دنوں ہی ایک ماہ کی جنگ بندی پر متفق ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ اس وقت کے حکام کے خلاف کارروائی ہو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے حکم کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔

بعد ازاں عدالت میں وزیراعظم نے تمام ذمہ داران کا تعین کرنے اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے اقدامات کرکے چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عملدرآمد رپورٹ وزیرِاعظم کے دستخط سے جمع کرائی جائے۔ وفاقی حکومت لواحقین کا مؤقف بھی سنے۔