پاکستان کی عدلیہ بنگلہ دیش کی عدلیہ کی پیروی کرے

آزاد کشمیر کے کسی بھی ادارے کی اگر اصلاح کی بات کی جائے تو اکثر کہا جاتا کہ آزاد کشمیر کی حیٹث ہی کیا ہے؟  سار ے اختیارات پاکستان کے پاس ہیں ۔

میں اس سے کلی تو نہیں لیکن جزوی طور اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے اب تک جو نشیب و فراز دیکھے ہیں ان کی روشنی میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ اگر آپ لالچ،  حرص، منافقت اور عصبیت کے اسیر نہیں تو آپ کمزور ترین پوزیشن اور مشکل ترین حالات میں بھی دوسروں کی قیمت پر ذاتی فائدہ اٹھانے سے گریز کر سکتے ییں۔ لیکن اگر ہمارے اندر خدا خوفی نہیں تو ہم بہترین اور آسودہ ترین پوزیشن میں ہونے کے باوجود اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے دوسروں کو لوٹنے کی کوشش کریں گے۔  اس وقت ہمارے نظام میں سفارش، رشوت اور واقفیت کی بنیاد پر غلط کام بھی صحیح کر دیا جاتا ہے  اور رشوت نہ دی جائے تو  صحیح کام بھی غلط کر دیے جاتے ہیں۔ اداروں کے سربراہ سے بات کی جائے تو یوں لگتا ہے کہ سنئیر اور جو نئیر دو مختلف دنیا میں رہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی کارستانیوں کا کوئی علم نہیں ہوتا ۔ کلرک جان بوجھ کر رشوت نہ دینے والے سائل کی فائل میں سقم چھوڑ دیتے ہیں تاکہ سائل نصحیت پکڑے اور رشوت کے کلچر کا حصہ بن جائے۔ 

میں نے اس کالم کے لیے امریکہ اور روس سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک کے عدالتی نظام کا جائزہ لیا ہے لیکن پاکستان کے کسی ادارے کے کسی زمہ دار سے اگر بات کی جائے تو وہ کہے گا  کہ یہ  یورپ نہیں۔  پاکستان کی ابھی عمر ہی کیا ہے؟  یورپ کو ترقی کی منازل طے کرنے میں صدیاں لگیں ہیں۔  دوسرے لفظوں میں وہ اپنے عوام کو کئی صدیاں انصاف کے لیے انتظار کرنے کا درس دے رہے ہوتے ییں۔ اس لئے میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی عدلیہ کا ترقی یافتہ ممالک کی عدلیہ کے ساتھ نہیں بلکہ  بنگلہ دیش کی عدلیہ  کے ساتھ موازنہ کر کے بنگلہ دیشی  عدالتی نظام کی پیروی کی تجویز دوں گا، جس کی عمر ان دونوں سے کم ہے۔ اور یہ دونوں بنگالیوں کو ہر لحاظ سے اپنے سے کم تر سمجھتے تھے۔ مگر بنگلہ دیش ہر شعبے میں  پاکستان اور آزاد کشمیر سے  اب آگے ہے ۔ بنگلہ دیش بھی کچھ عرصہ آمریت کا شکار رہا ہے لیکن  وہاں عدلیہ نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو   ایگزیکٹو سے آزاد کرایا اور پھر قانون کی حکمرانی کا ماحول پیدا کیا ۔ 

پاکستان کاسب سے بڑا جرم  یہ ہے کہ اپنے انگریز آقا کے قانون کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ شریعت کا نفاذ بھی عمل میں لایا۔ یوں شریعت کا مزاق اڑایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سیاسی و  فوجی حکومت نے عدلیہ کے کردار کو اپنے مفادات کے تابع رکھنے کی کوشش کی جبکہ  ہم  اپنے روزمرہ کے معمولات میں بے دریغ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، دوسروں کااستحصال  کر رہے ہوتے ہیں ۔ دھوکہ اور کرپشن کر رہے ہوتے ہیں اور سا تھ الحمداللہ، ماشااللہ اور سبحان اللہ بھی کہہ رہے ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عدالتی نظام کی بنیاد بھی برطانوی راج کے نظام پر ہے۔ وہاں کی عدلیہ بھی کافی عرصہ سیاسی مداخلت کا شکار رہی مگر بنگالی عدلیہ کی آزادی میں سب سے اہم اور بنیادی کردار خود عدلیہ نے اداکیا۔   

مدثر حسین اور عدلیہ کے دیگر 441 ججوں نے رٹ پٹیشن نمبر 2424 دائر کی جس میں عدلیہ کو ایگزیکٹو سے الگ کرنے کے لیے 12 نکات پیش کئے گئے۔ جن میں جوڈیشل سروس کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی شامل تھا۔  یکم  اپریل 1997 کو سماعت شروع ہوئی اور 7 مئی 1997 کو اپیلیٹ ڈویژن نے  پیٹیشنرز کے حق میں  تاریخی فیصلہ دیا ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اور عدلیہ کی بھاری تعداد انصاف کا بول بالا چاہتی ہے لیکن اس میں بنیادی کردار ججوں اور وکلا کو ادا کرنا چاہئے۔  

پاکستان  اور آزاد کشمیر میں قانون کی عملداری میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاستدان، وکلا اور  سفارش پر بھرتی ہونے والے ججز ہیں۔  یہ ایک عجیب اصول ہے کہ سول کورٹ میں بھرتی ہونے کے لیے  ججوں کو مقابلے کے امتحانات پاس کرنے ہوتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے ججز سیاسی بنیادوں پر تعینات ہو جاتے ہیں۔  پاکستان اور آزاد کشمیر کے جو ججز آزاد عدلیہ کے حامی ہیں، ان ترقی یافتہ ممالک کے ججوں کی پیروی نہیں کر سکتے جو حاکم اور ایک عام شہری کو ایک ہی ترازو پر تولے ہیں۔ تو کم ازکم انہیں بنگلہ دیش کی عدلیہ کی پیروی تو ضرور کرنی چاہیے ۔ معاشرے کے اندر بے شمار لوگ اداروں کی اصلاحات کے لئے تعاون کرنا چاہتے ہیں لیکن سب سے پہلے اداروں کو خود اپنی آزادی اور فروغ کے لیے قدم اٹھانا چاہیے۔

اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ ادارے خود اپنے اختیارات اور حقوق کے لیے متحد و منظم ہونے کے بجائے ان کے ملازمین  ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے سیاستدانوں کی خوشنودی میں مصروف رہتے ہیں۔ جب تک ہر فرد اپنے منصب سے انصاف نہیں کرے گا اور ہر خاص و عام  اپنا حق مانگنے سے پہلے اپنا فرض ادا نہیں کرے گا تب تک اجتماعی تبدیلی ناممکن ہے۔