ریاست مدینہ ثانی کی بے بسی کیوں ؟

تقدیس کے لبادے میں ہمارے یہاں ’’ریاست مدینہ‘‘ کے نام سے اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی بالعموم یہی خیال کرتے ہیں کہ گویا اس نام کی کوئی ریاست کبھی قائم ہوئی تھی حالانکہ اس دور کے عربستان میں ریاست کے معیار پر پورا اترنے والا کوئی ایسا تصور، سرے سے موجود نہ تھا۔

قبائل کی طاقت ہی سرداران کی طاقت ہوتی تھی اور مختلف قبائل کو ملا کر جو اجتماعی نظم قائم ہوا اس کے خدوخال بیان کرنا شاید ہمارے بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آئیں گے۔ البتہ یہی چیز بہت جلد رائج الوقت امپائر کی شکل اختیار کر گئی، یہ ایک طرح سے شخصی حکمرانی یا اشرافیہ کی حکومت تھی۔ ہمارے سکولز اور کالجز سے لے کر دینی مدارس تک تعلیمی نصاب کے نام سے جو سلیبس پڑھایا جاتا ہے، ہماری مساجد کے خطبات بھی اسی کی جگالی کرتے ہیں۔ یوں قومی بیانیے کا ایک ایسا پریشر بنا دیا گیا ہے کہ میڈیا میں بیٹھے اثر و رسوخ والے بھی اس کے برعکس مواد لانے کی جسارت سے قاصر ہیں۔ اس روا روی کی مطابقت میں آگے بڑھتے ہوئے جو جتنا بڑا گنوار ہوگا، اتنا بڑا علامہ کہلوائے گا۔ ایسے پس منظر یا ماحول میں جو بڑی کرسی پر براجمان ہو جائے گا وہ جو بھی ہانکے گا سبحان اللہ ہی کہاجائے گا۔

تازہ ارشاد ہے کہ ’جس معاشرے میں اخلاقیات تباہ ہوں وہاں کرپشن کا ناسور نکل آتا ہے، پھر وہ این آر او دیتا ہے۔ چوروں لٹیروں سے ڈیل کرتاہے، طاقتور کو اوپر رکھ کر انصاف نہیں کیا جا سکتا‘۔ کیا یہاں کچھ سوالات کی جسارت کی جا سکتی ہے؟ سب سے پہلے تو یہ کہ حالیہ برسوں میں یہاں اخلاقیات کا جنازہ کس نے نکالا ہے؟ کون سا پلے بوائے ہے اچھا اخلاق پھیلانے میں جسے اپنی زبان پر کبھی کنٹرول رہا ہے نہ دیگر اعضا پر۔ حالانکہ حکم دیا گیا تھا کہ تم مجھے حفاظت کی ضمانت دو اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز کی…..وغیرہ۔ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جو زبان حالیہ برسوں میں استعمال کی گئی ہے اس کا نتیجہ سوائے اخلاقیات کی تباہی کے اور کیا نکلنا تھا؟

پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ بالخصوص نواز دور کا انفراسٹرکچر سب کے سامنے ہے مگر حالیہ تین برسوں میں جو خطیر قرضے لئے گئے ہیں، بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا ہے؟ دوسروں کو چور چور کہنے سے کوئی چور نہیں ہو جاتا تین برس ہو گئے ماشااللہ آپ کو حکمرانی کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے۔ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن آپ نے پکڑی ہے؟ اگر آپ کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو آپ کو الزام بازی کا حق کس نے دیا ہے؟ دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت، اچھالنے سے بڑی بداخلاقی اور کیا ہو سکتی ہے؟ کیا خوب فرمایا جا رہا ہے کہ ’’برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے‘‘۔ جب آپ کو یہ علم ہے تو آپ نے حالیہ تین برسوں میں اس کی روک تھام کے لئے کیا کیاہے؟

وہ کون تھا جو عوامی اجتماعات میں کہتے نہیں تھکتا تھا کہ ’’مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو‘‘۔ آج یہ غریب قوم پوچھ رہی ہے کہ موجودہ شدید ترین مہنگائی کا باعث بننے والا غیرت کےنعرے لگانے والا ان بدترین حالات میں بھی جب اس کی حکومت ہر حوالے سے فیل ہو چکی ہے، وہ کرسی سے چمٹا ہوا کیوں ہے؟ کیوں مستعفی نہیں ہو جاتا؟ ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے باقاعدہ ثبوت بھی ایک باوقار قومی ادارے کی طرف سے سامنے لائے جا چکے ہیں۔ کیا اس میں اکیلی بیچاری فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے تئیں اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھی؟ واضح کیا جائے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ اگر سرکار کو اتنی سمجھ ہے کہ طاقتور کو اوپر رکھ کر انصاف نہیں کیا جا سکتا تو پھر سرکار یہ واضح کرے کہ وہ طاقتور متشدد اور مسلح گروہوں کے ساتھ خفیہ معاہدے کس آئین، قانون اور اخلاقی اصول کے تحت قبول کر رہی ہے۔ جن لوگوں نے ہمارے بچوں کو ببانگ دہل پوری سفاکی کے ساتھ قتل کیا، آپ کس برتے پر ان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے قومی وقار کو ملیا میٹ کرتے ہیں اور ایسے معاہدے قبول کرتے ہیں جو ریاست پاکستان کے چہرے پر کالک ملنے کے مترادف ہیں۔

کیا ریاست پاکستان میں امن و امان کے ذمہ دار ادارے اور ان کے جوان اس ریاست کے بچے نہیں ہیں؟ قانون کی علمبرداری میں اگر وہ اپنی جانیں گنواتے ہیں تو کیا محض اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لئے، ان کے خون کا سودا کیا جانا چاہیے؟ انہیں سیدھی گولیاں مارنے والوں کی تحقیق و تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ قاتلوں کو کیوں کٹہرے میں نہیں لایا جا رہا ؟ ان کے بچے یتیم ہو گئے ہیں تو کوئی حکومتی کارندہ انہیں دلاسہ دینے تک نہیں گیا ؟ کیا وہ سب مظلوم حرام موت مرے ہیں؟ قانون اور انصاف کے چہرے پر یہ کالک کون مل رہا ہے یہ کونسا اصول، انصاف یا قانون ہے کہ جن لوگوں کو چند روز قبل آپ پوری قوم کے سامنے انڈین ایجنٹ قرار دیتے ہو، ’’را‘‘ سے رقوم وصولی کے الزام لگاتے ہوں، دہشت گرد اور قاتل گردانتے ہوں، ان کے متعلق اب یوٹرن لیتے ہوئے اعلان کر رہے ہو کہ خبردار اب انہیں کوئی کالعدم نہ کہے۔ اگر ان کے ساتھ سابق غلط معاہدوں سے آپ پھرے تھے یا وہ پھرے تھے تو اس میں قصوروار آپ ہیں قوم کا تو کوئی قصور نہیں، جس کی اصل بربادی ہو رہی ہے۔

طاقت اور دہشت کے آگے جھکنا اور کیا ہوتا ہے؟ اب کالعدم سپاہ صحابہ، کالعدم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، کالعدم لشکر طیبہ، کالعدم جیش محمد یا الطاف حسین کی ایم کیو ایم بھی کیا یہ سوال نہیں اٹھا سکتیں کہ یہاں تو عزت و وقار اس کو ملتا ہے جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے عسکری جتھہ لےکر سڑکوں پر نکلے، قومی املاک کو کروڑوں اربوں کا نقصان پہنچائے، قانون کے محافظوں کے سینوں میں گولیاں اتارے۔ اس کے بعد انہیں قومی دھارے میں شامل کرتے ہوئے یہاں سیاست میں استعمال کرنے یا چمکانے تک کے تمام حقوق مرحمت فرما دیے جائیں ۔ آج کہاں ہیں نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے اور اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری اٹھانے والے؟ جو پوری دنیا کے سامنے اس نوع کی تفصیلات بیان کرتے نہیں تھکتے تھے کہ ان دہشت گردوں نے ہمارے ستر ہزار لوگوں کی جانیں لی ہیں قریہ قریہ ان لوگوں نے خود کش حملوں کے ذریعے ہماری زندگیاں اجیرن بنادی ہیں، انڈیا نے انہیں ہمارے خلاف منظم کر رکھا ہے۔ انہیں بھاری فنڈنگ کی جاتی ہے۔ یہ کہ طالبان کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں، جو افغان عوام پرحملہ آور ہوں وہ گڈ طالبان اور جو ہماری فورسز پر حملے کریں وہ برے طالبان۔

آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ جو برے تھے وہ بھی اب اچھے گردانے جائیں گے، اس لئے کہ پاکستانی ریاست ان کا مقابلہ کرنے اور ان قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا یارا نہیں رکھتی۔ وہ ان کے سامنے بے بس ہے کہ انہیں معاف کر دے۔ اس کے بعد آپ قوم کو بھاشن دیتے ہیں کہ ہم کسی طاقتور کو این آر او نہیں دیتے کسی کو اوپر نہیں رکھتے۔ یعنی دہشت کے سامنے سرنگوں ہونے کے بعد اب قومی نمائندوں کو بریفنگ دینی ہے اور معاملہ الحمدللہ پارلیمنٹ میں لانا ہے۔ جو امریکا و انڈیا کی ایجنٹ حکومت تھی اس نے تو ان لوگوں کو جیلوں میں بند کر رکھا تھا مگر اب جب ہماری اپنی ہمدرد گڈ طالبانی حکومت آئی ہے تو اس نے ان سب کو آزادیاں دیتے ہوئے ہمارے بالمقابل لاکھڑے کیا ہے؟

اس گڈ ہمدرد حکومت کی ساورنٹی پوری دنیا سے منوانے کیلئے جلاب ہمارے دفتر خارجہ کو کیوں لگے ہوئے ہیں اس لئے کہ ہماری داخلہ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسیاں بھی ولولہ انگیز ہیں۔