بلوچستان یونیورسٹی کے دو لاپتہ طالب علموں کی بازیابی کے لئے احتجاج

  • جمعرات 11 / نومبر / 2021
  • 3690

بلوچستان کی سب سے بڑی درس گاہ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل سے دو طلبہ کی مبینہ جبری گمشدگی کے واقعے کے خلاف طلبہ تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔

طلبہ تنظیموں نے اپنے ساتھیوں کی گمشدگی کے خلاف یونیورسٹی کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے اور مرکزی دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے احتجاجاً امتحانات کا بھی بائیکاٹ کر دیا ہے۔طلبہ کی گمشدگی کا مبینہ واقعہ یکم نومبر کو پیش آیا تھا۔

بلوچستان یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم ’بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ (بی ایس او) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات بالاچ قادر نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گمشدہ طلبہ کے نام فصیح اللہ اور سہیل احمد ہیں۔ لاپتا ہونے والے دونوں طالب علم پوزیشن ہولڈر ہیں۔ ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بالاچ قادر نے مزید کہا کہ یکم نومبر کو فصیح اللہ اور سہیل بلوچ صبح سے شام تک اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ بلوچستان یونیورسٹی میں موجود تھے۔ شام پانچ بجے یونیورسٹی کے قریب سے وہ دوستوں سے الگ ہوئے اور اس کے بعد سے وہ لاپتا ہیں۔

بالاچ کے مطابق ان کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ دونوں طالب علموں کے رابطہ نمبر بند ہیں جس کے بعد ان کی ہاسٹل میں تلاش شروع کی گئی البتہ ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طلبہ کی گمشدگی کی اطلاع یونیورسٹی انتظامیہ کو دی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ البتہ انتظامیہ ہاسٹل کے پاس نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج دکھانے سے گریز کر رہی ہے۔

دوسری جانب مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے فصیح اللہ اور سہیل کی گمشدگی کے خلاف تھانہ سریاب میں ان کے بھائی شہنشاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی شہنشاہ نے بیان دیا کہ ان کے بھائی اور ہم جماعت بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ پاکستان اسٹڈیز کے طالب علم ہیں اور ہاسٹل کے کمرہ نمبر 22 میں ایک ساتھ رہائش پذیر ہیں دونوں کے موبائل نمبر بند ہیں اور ان کی گمشدگی کی اطلاع دی جاتی ہے۔

پولیس نے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی ہے۔ طلبہ کی مبینہ گمشدگی کے خلاف بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے طلبہ تنظیموں کے کارکنوں نے احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ جب تک فصیح اللہ اور سہیل احمد بازیاب نہیں ہوتے ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ طلبہ نے امتحانات کا بھی بائیکاٹ کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں اتوار کو بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسننگ پرسنز‘ نے طلبہ کی مبینہ گمشدگی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تنظیم کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر بلوچستان میں لوگوں کو لاپتا کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس پر ان کی تنظیم کو شدید تشویش ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے متحرک رکن ماہ رنگ بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے۔ البتہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ بلوچستان میں لوگ تعلیمی اداروں، حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ صوبائی حکومت لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے رکن صوبائی اسمبلی ثنا اللہ بلوچ نے واقعے پر ایک پیغام میں کہا کہ بلوچستان کی نئی حکومت نے عہد کیا ہے کہ وہ صوبے میں قانون کی حکمرانی پر عمل کریں گے۔ ​بلوچستان یونیورسٹی کے طالبِ علم بلوچستان میں نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کی نئی لہر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے ایک بیان میں دو طلبہ کی مبینہ گمشدگی کی مذمت کی ہے۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں طلبہ سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں اس کے باوجود بلوچستان یونیورسٹی سے طالب علموں کی گمشدگی جیسے واقعات پیش آرہے ہیں۔

بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ سے دو طلبہ کی گمشدگی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی عدم فراہمی کے الزامات کے حوالے سے رابطہ کیا گیا۔ البتہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے نو نومبر کو ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں رجسٹرار بلوچستان یونیورسٹی نے موجودہ صورتِ حال میں جامعہ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سرکاری سطح پر ایک بیان میں وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے طلبہ تنظیموں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وزہر اعلیٰ نے یونیورسٹی کے باہر طلبہ کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے تنظیموں سے مذاکرات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔