سعد رضوی سمیت تحریک لبیک کے متعدد کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول سے خارج
- جمعرات 11 / نومبر / 2021
- 4370
پنجاب حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ مولانا سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول کی لسٹ سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ سعد رضوی کے علاوہ تحریکِ لبیک سے منسلک درجنوں افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں۔
فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں ایسے افراد کے نام ڈالے جاتے ہیں جن پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی یا فرقہ واریت پھیلانے کا شبہ ہو۔ حکومتِ پنجاب کے نوٹیفیکشن کے مطابق علامہ سعد رضوی کا نام ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ وہ اس تنظیم کے سربراہ ہیں جسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سات نومبر کو تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اس لیے تنظیم کے سربراہ کا نام بھی فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا کردیا گیا تھا اور اس تنظیم کا نام کالعدم تنظیموں سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد ٹی ایل پی نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کردیا تھا۔ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے جماعت کو قومی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔
صوبہ پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں ان میں زیادہ کا تعلق لاہور، گوجرنوالہ، گجرات اور راولپنڈی سے ہے۔ اہلکار کے مطابق سٹیٹ بینک اور نادرا اور پاسپورٹ آفس کو بھی اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے کیونکہ فورتھ شیڈول میں ہونے کی وجہ سے ان افراد کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے بلکہ ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیے گئے تھے۔
تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن مفتی عمیر کے مطابق ان کی جماعت کے سات سو سے زیادہ افراد فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل تھے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس شخص کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل ہوتا ہے وہ شخص متعقلہ تھانے میں اطلاع دیے بغیر کسی دوسرے شہر نہیں جاسکتا۔
مفتی عمیر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول میں رہ گئے ہیں ان کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کررہے ہیں اور ان حکام نے ان کی جماعت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تاہم قانونی ماہرین کے مطابق فورتھ شیڈول سے نکلنے کے باوجود سعد رضوی کے خلاف درج مقدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کا کہنا ہے کہ علامہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے نکلنے کے باوجود ان کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے سربراہ کی نظربندی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے اور جب بھی لاہور ہائی کورٹ کا کوئی بھی ڈویژن بینچ ان کی نظربندی سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا تو وہ سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کو سامنے رکھے گا جس میں عدالت عظمی نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی دفعات کو مدنظر رکھے۔
سعد رضوی کو جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔