وزیر اطلاعات نے شعیب اختر اور نعمان نیاز کی صلح کروادی

  • ہفتہ 13 / نومبر / 2021
  • 4680

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر اور سرکاری ٹی وی پر ایک شو کے میزبان نعمان نیاز کے درمیان لائیو پروگرام میں لفظی تکرار اور پروگرام سے دونوں کو ہٹانے کے بعد اب دونوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔

سنیچر کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے شعیب اختر اور نعمان نیاز کی صلح کے حوالے سے ٹویٹ کی۔

فواد چوہدری نے دونوں کی تصویر اپ لوڈ کی اور کہا کہ’ بات اتنی نہیں تھی لیکن کیا ہے کہ سوشل میڈیا اب اتنا بڑا ہے کہ چھوٹی سی باتیں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔‘ پی ٹی وٹی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو کلپ میں نعمان نیاز شعیب اختر سے معافی مانگتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو کلپ میں نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’شعیب اختر میں بہت معذرت چاہتا ہوں اس کے لیے جو بھی سکرین پر ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تیس سال کی یاری ہے یار، وہ نہیں ختم ہونی چاہیے۔‘

پھر ویڈیو میں شعیب دکھائی دیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ’بس ٹھیک ہے سر یہ آپ کو بہت پہلے کہہ دینا چاہیے تھا‘، جس کے جواب میں نعمان کہتے ہیں ’کبھی بھی بہت دیر نہیں ہوتی۔‘ شعیب اختر اور پاکستان ٹیلی وژن کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ 26 اکتوبر کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شو ʹگیم آن ہےʹ کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز اور شعیب اختر کے درمیان آن ایئر بحث و تکرار تھی۔

پاکستان ٹیلی وژن نے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کو ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے آن ایئر استعفے کی وجہ سے پاکستان ٹیلی وژن کو بڑے مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اس نوٹس میں شعیب اختر کی جانب سے پی ٹی وی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے جواب میں شعیب اختر نے پی ٹی وی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پی ٹی وی سپورٹس ان دنوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر خصوصی نشریات کر رہا ہے جس کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز تھے۔

اس پروگرام میں مہمانوں کے طور پر ویسٹ انڈیز کے سر ویوین رچرڈز اور انگلینڈ کے ڈیوڈ گاور کے علاوہ پاکستان سے شعیب اختر، راشد لطیف، اظہر محمود، عمر گل اور ثنا میر شریک تھے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے بعد یہ پروگرام معمول کے مطابق جاری تھا کہ اس میں نعمان نیاز اور شعیب اختر، فاسٹ بولر حارث رؤف کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اختلاف رائے کا شکار ہوئے اور اس کا اختتام شعیب اختر کے بطور احتجاج سٹوڈیو سے جانے پر ہوا۔