تحریک انصاف کی حکومت کے اتحادیوں کا عدم اطمینان، اپوزیشن عدم اعتماد لاسکتی ہے

  • ہفتہ 13 / نومبر / 2021
  • 3500

وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی پالیسیوں پر اتحادیوں کے کمزور پڑتے اعتماد اور اپوزیشن کی جانب سے مرحلہ وار حکومت گرانے کی دھمکی کے دوران حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ہفتے میں تیسری ملاقات کی ہے۔

 وزیر اعظم کی زیرِ صدارت جمعہ کو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سندھ اور بلوچستان کے گورنرز، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس سے قبل وہ جمعرات اور سوموار کو پارٹی رہنماؤں اور اتحادی جماعتوں سے ملاقات کر چکے ہیں۔

ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اتحادی جماعتوں نے بھی وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے 2 مرکزی اتحادیوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے اہم معاملات پر اتحادیوں کے ساتھ مشاورت نہ کرنے اور حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اندرونی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں حکومتی اتحادیوں کے بدلتے ہوئے رویے پر بھی بات چیت ہوئی اور اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت کا حکومت پر اعتماد بکھر چکا ہے کیونکہ ایم کیو ایم، حکومت کو درست سمت میں جاتے ہوئے نہیں دیکھ رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم حکمران پی ٹی آئی کی بری حکمرانی (گورننس) کی ذمہ داری نہیں بانٹ سکتی کیونکہ اہم قومی معاملات پر انہیں کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کے استعمال سے متعلق متنازع قانون سازی پر ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اہم قانون سازی پر اعتماد میں نہیں لیا گیا اور آخری وقت پر ہمیں دستاویزات تھما دی گئیں، ہم کس طرح اس قسم کی قانون سازیوں کی حمایت کرسکتے ہیں‘۔

خالد مقبول صدیقی نے حکومت سے علیحدگی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ (حکومت) اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیتی تو ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کبھی بھی ناقص معاشی پالیسیوں کی حمایت نہیں کر سکتی جس سے ملک میں بے مثال مہنگائی ہوئی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے بھی اپنی جماعت کی جانب سے اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نے اہم فیصلہ سازی میں مسلم لیگ (ق) سے مشاورت نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً بجٹ منظور کرانے کے لیے تو وہ ہم سے بات کرتی ہے ورنہ نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنے طریقے نہ سدھارے تو ہمیں حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب اپوزیشن، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی یا اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا سوچ رہی ہے تاکہ پارلیمان میں حکومت کی موجودہ طاقت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور خرم دستگیر نے ڈان نیوز کے پروگرام میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد جلد پیش کردی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک کامیاب ہوئی تو وزیر اعظم کے خلاف بھی ایسی ہی تحریک پیش کی جاسکتی ہے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ ’چیئرمین سینیٹ یا اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف 2 ماہ میں تحریک پیش کی جاسکتی ہے‘۔