ادارے حقائق کو سمجھیں اور اپنے کردار کا جائزہ لیں: فضل الرحمٰن

  • ہفتہ 13 / نومبر / 2021
  • 5060

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ادارے حقائق کو سمجھیں اور اپنے کردار کا جائزہ لیں۔ جو ہوا میں اڑ کر اقتدار میں آئے انہیں عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے۔

کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا قوم کی رسوائی کا سبب بننے والے حکمرانوں کو حکومت کا کوئی حق نہیں ہے۔ حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی ریلی کراچی کے بعد کوئٹہ، لاہور، پشاور اور اسلام آباد پہنچے گی اور پاکستان میں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت آئے گی جو ان کے مسائل کو سمجھے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے پاکستان کو موجودہ بحران سے نہ نکالا اور ’ناپاک اور ناجائز‘ حکمران کو بحیرہ عرب میں غرق نہیں کیا تو پاکستان کی بقا کا سوال پیدا ہوگا۔  جہاں اقتصادی بحران آئے ہیں وہاں انقلاب نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں موجودہ لوگوں نے عوام کے سامنے ایک فرضی دنیا بنائی، جو کچھ اقتدار سے پہلے کہا گیا اور آج کے ان کے کردار کو بھی سنیں، انہیں معلوم ہی ہے کہ ملک کیسے چلاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کاروباری شخص اور فرد مایوسی سے دوچار ہے۔ اس ملک اور حکومت سے مایوس ہورہا ہے۔ آج سیاسی قیادت نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ پی ڈی ایم قوم کی امید ہے انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کو بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ حقائق کو سمجھیں اور اپنے کردار کا جائزہ لیں، ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ہیں اس پر نظر ڈالیں۔ ادارے اپنے عمل پر شرمندگی کا اظہار کریں، قوم سے معافی مانگیں اور تب جا کر ایک قوم بن کر ملک کو بچا سکیں گے۔ پی ڈی ایم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چلتا ہوا پاکستان اس نہج پر پہنچا دیا کہ پوری دنیا میں کوئی ہماری بات سننے والا نہیں ہے۔ ملک کو مشکل وقت سے نکالنے کا واحد حل نئے انتخابات ہیں۔ پی ڈی ایم آج پاکستان میں آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے نظام کو آئین کے مطابق چلانے کی بات کرتا ہے اور جو یہ چاہتا ہے کہ جمہوری اور آئینی عمل میں غیرآئینی اور غیرقانونی مداخلت کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہیں اور ملک کی بہتری کے لیے کام کریں کیونکہ ملک اور اس کے عوام کو درپیش مشکلات کی وجہ آئین سے انحراف ہے۔