وینس کی گلیوں میں

آپ نے شرم سے پانی پانی ہونا یا کسی کا پتہ پانی ہونے والا محاورہ ضرور سنا ہوگا۔ گو کہ بنگال آکر بھی بہتوں کو پانی پانی ہونے کا موقع ملا ہوگا مگر وینس میں آکر چہار سو پانی ہی پانی دیکھ کر پانی کے سارے محاورے یاد آجاتے ہیں۔
اپنے زمانہ عروج میں سلطنت وینسا کا دارالحکومت وینس یورپ کا ایک بڑا اور ماڈرن شہر مانا جاتا تھا  یہ ادب و فنون لطیفہ کامرکز ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے فن کاروں اور موسیقاروں کی زمانے بھر میں طوطی بولتی تھی۔ یہاں کے تجار ساری دنیا سے تجارت کیا کرتے تھے۔ اور امرا بیشتر دولت کے حامل عام آدمی کو اس حق مہیا کرنے سے گریزاں خوب عیاشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہاں کے مشہور تاجر خاندان سے ایک فرد ماکوپولو اپنے سفر نامے چین کی وجہ سے بہت مشہور رہا ہے۔ 
چارسو سے کچھ اوپر کے لگ بھگ مربع کلو میٹر کا رقبہ جس میں سے نصف پانی کی نہریں، اور ان سے بنا ایک ایسے ہی عجیب و غریب شہر کا نام وینس ہے جسے دیکھے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا۔ پھر بھی اس کا حال آپ کو سناتا ہوں۔  ایڈریا نامی سمندر جو کسی خلیج کی مانند اٹلی اور بوسنیا اور البانیہ وغیرہ کو پاٹ رکھتا ہے۔ بذات خود ایک عجوبہ ہے یہ صرف 820 کلومیٹر لمبی اور 160 کلو میٹر چوڑی مڈل میئر کی خلیج بلقان میں گھسی ایسی پٹی ہے جو چٹانوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔ اس کا شمالی حصہ صرف 40 سے 200 میٹر ہی گہرا ہے۔ جب کے اپنے جنوبی حصے میں یہ 1260 میٹر گہرا ہوتے ہوئے سمندر سے مل جاتی ہے۔ البانیہ اور اٹلی کی مابین صرف 71 کلو میٹر کے فاصلے سے آبنائے اوٹرانٹو بن جاتا ہے۔

اسی سمندری خلیج میں جابجا پائے جانے والے زمینی ٹکروں کو یکجا کرکے ایک شہر کی صورت میں کھڑے ہوجانا وینس کا کمال ہے۔ شہر میں یا یوں کہہ لیں کہ جزیرے پر اترنے سے پہلے آپ کو اپنی ساری سواریاں، سائیکل، رکشہ، کار یا موٹر سائیکل باہر چھوڑنی پڑتی ہیں۔ چونکہ آگے کا راستہ بالکل پانی ہی پانی ہے۔ ایک بڑی نہر اور بے شمار ذیلی نہریں یہاں سڑکوں کا نعم البدل ہیں۔ جہاں ٹیکسی اسٹینڈ پر ٹیکسی آتی ہے مگر آپ کو اس میں سوار ہوتے وقت ڈولتی کشتی میں اترنے کی مشق کرنی پڑے گی۔ کوڑے اٹھانے کی گاڑی ہو یا ایمبولینس سب کچھ پانی میں تیرتی ہوئی آپ کے پاس پہنچی گی اور آپ ڈولتی کشتی سے وہی کام لیں گے جو کام عام دنیا میں کاروں یا ٹرکوں سے لیاجاتا ہے۔ یہاں تنگ پتلی گلیاں ہیں جہاں صرف ایک فرد ہی پیدل گزر سکتا ہے۔ یہ گلیاں ایک جزیرے پر مکانوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہیں۔ اور ان کے اختتام پر چھوٹی سی پلیا آتی ہے۔ جو ایک جزیرے کو دوسرے سے ملانے کا کام دیتی ہے۔ اس پلیا کو بناتے وقت یہ خیال رکھا گیا ہے کہ اسے آرچ کی شکل میں ایسے بنایا جائے کہ اس کے نیچے سے اس کی چوڑائی کے مطابق پتلی ناؤ یا کشتی اور کہیں کہیں لانچ بھی گزر سکے۔
انیس سو بیس تیس تک ہوائی کشتیاں یعنی پانی میں اترتے ہوائی جہاز ہی کے ذریعہ ہوائی سفر ممکن تھا اور اب پھر ایک ائیر پورٹ بنا دیا گیا ہے۔ یہ ائیر پورٹ وینس کے قریبی علاقے ٹیریسرا میں واقع ہے۔ مسافروں کو ایئرپورٹ سے ایک بس کے ذریعہ وینس کے قریب تک پہنچایا جاتا ہے جہاں سے ایک کشتی بس انہیں وینس پہنچاتی ہے۔  وینس پہنچ کر مگر آپ سائیکل، رکشہ یا کاروں کی موجودگی سے بالکل مبرا بے فکری سے پیدل چل کر پورے شہر کو کھنگال سکتے ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے اترتے آپ پورا شہر چھان ماریں۔۔۔۔ مگر آپ اگر کو محتاط رہنا ہوگا۔ یہاں کی گلیاں کسی بھول بھلیاں سے کم نہیں۔ ساری گلیاں ایک جیسی اور سارے پل یا پلیا ایک بناوٹ کے۔ یہاں انسان راستے خوب بھول جاتا ہے۔ آج کل ویسے نیویگیشن کے ذریعہ راستے ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔
وینس قدیم زمانے سے سیر تفریح، تہوار اور محبت کے کھیل منانے کا شہر رہا ہے۔  صدیوں سے یہاں خواتین اپنے فنکارانہ صلاحیتوں کے لیے مشہور رہی ہیں۔ ییاں سولہویں صدی سے ہی ایسے چھپے ہوئے کیٹلاگ عام تھے جن میں نووارد افراد کی سہولت کی خاطر ان خواتین کے پتے دیے ہوتے تھے جو مہمانوں کی دلجوئی کا سامان کیا کرتی تھیں۔ وینس اب جنوبی اٹلی میں علاقہ وینٹن کا صدر مقام اور سو سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔ یہاں چند ایک سڑکیں اور زیادہ تر نہریں سڑکوں کا کام دیتی ہیں۔ جن میں گرینڈ کنال جس پر واقع محلات جو گوتھک اور ریلیاں ادوار کی نشانیاں ہیں دیکھنے کے قابل ہیں۔ مرکزی بازار پر ایستادہ مارکوس ڈوم بازنطینی دور کی موزائیک سے مرصع ہے جس میں گھنٹہ مینار بھی ہے جس سے پورے شہر کا نظارہ ممکن ہے۔ یہاں کی آبادی دو لاکھ ایکسٹھ ہزار کے قریب ہے۔ کل چارسو پل جنہیں پلیا کہنا زیادہ مناسب ہے اس مختصر سے رقبے میں موجود ہیں۔
کورونا کی وجہ سے ماسک لگانا ایک مجبوری ہے اور اس ماسک کو لگاتے وقت صرف وبا سے محفوظ رکھنا ہی پیش نظر رہتا ہے۔ مگر وینس میں جابجا بکتے ماسک کی کہانی بالکل الگ ہے۔ طرح طرح کے ماسک، مختلف اشکال اور رنگوں کے چمکتے سنہرے یا روپہلے ماسک۔ وینس کو ماسکوں کا شہر بھی کہا جاسکتا ہے۔ نو سو سال قبل ہی سے وینس میں کارنیوال منایا جاتا تھا۔ اور ماسک کی وجہ سے انسان پہچانے جانے سے بچا رہتا تھا۔ چونکہ طبقاتی فرق کو مٹانے کے لیے یہی ماسک کام میں آتے تھے۔ اور اس طرح دوران کارنیوال ماسک پہن کر امیر وغریب، رعایا اور حاکم کا فرق باقی نہیں رہتا تھا۔ تب شاہی افراد غریبوں کا بھیس بناکر یا عورتیں مردوں کا روپ دھارکر یا مرد عورتوں کا سوانگ بھر کر عوام میں گھل مل کر تفنن و طبع کا ساماں پیدا کیا کرتے تھے۔ اور یوں وینس زمانہ قدیم ہی سے تفریح اور دلداری کا مرکز تھا۔
اٹلی کے سفر کے لیے ہم لوگ برلن سے تقریباً تین بجے صبح اندھیرے گھر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ چھ بج کر پانچ منٹ پر ایزی جیٹ کا طیارہ ہمیں لے کر کر وینس کی جانب محو پرواز تھا۔
کوویڈ کی وجہ سے سفری دشواری کاغذوں میں اور ای میل میں زیادہ بیان ہورہے ہیں اوراصل میں مسائل اتنے ہیں نہیں جتنے بتائے جارہے ہیں۔ ہاں ویکسین لینا ضروری ہے۔ احتیاط کرنا اور ماسک کا لگانا بہت ضروری ہے۔ ایک گھنٹے چالیس منٹ بعد ہمارا طیارہ جزیرہ وینس کے قریب اتر گیا۔۔۔۔۔ یورپین یونین کی سرحد کے اندر رہتے ہوئے کوویڈ کے باوجود وہی سرحدی جانچ پڑتال سے مستثنی گزر گاہ اب بھی قائم ہے۔
ایئرپورٹ سے ایک بس ہمیں وینس کی سرحد تک لائی اور بوٹ بس کے ذریعہ ہمارا سفر شروع ہوا۔ کہیں چوڑی نہر کہیں تنگ گلی کی مانند بحری گزرگاہ سے گزرتے بوٹ بس آگے بڑھتی رہی۔ ہم نے دیکھا کہ ٹریفک جام بھی ہوا اور وہی کالے دھویں کے مرغولے اڑاتی لانچ ٹریفک اژدہام میں پھنسی بھی رہی۔ ہمارے اسٹاپ کا نام اوسپیڈالے تھا۔ ہم لوگ اترے اور ہجوم کے پیچھے پیچھے چلنے لگے کہ جس طرف سب جائیں گے باہر نکلیں گے ہم بھی نکل جائیں گے۔ مگر یہ کیا، بے شمار لوگوں کے قافلے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہم بھی اوسپیڈالے کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے ہوتے بچے۔ دراصل اطالوی زبان سے نابلد جو ہم نہیں سمجھ سکے تھے وہ لفظ تھا اوسپیڈالے یعنی اسپتال۔ شکر ہے کہ ہم ایمرجنسی وارڈ تک نہ پہنچے آپ سوچ سکتے ہیں ایمر کی تو خیر ہے  ورنہ جنسی تمام چیزیں کافی پریشانی کاموجب بنتی ہیں۔

اٹلی آکر اطالوی زبان تو میں نے کم ہی سیکھی مگر ادھر ادھر دوکانوں اور ریستوراں میں اتنے بنگلہ دیشی دوستوں سے گپ شپ رہی کہ میری بنگلہ ایک دم رواں ہوگئی۔ شاید اٹلی میں ایشیائی غیر ملکیوں میں سب اول نمبر پر بنگلہ دیشی دوستوں کا ہی شمار ہوتا ہے۔وینس میں کل تیس گھنٹے گزارنے اور تیس میں سے شاید پندرہ گھنٹے سیڑھیاں چڑھنے اور اترنے میں گزار کر ہم اپنی اگلی منزل یعنی پیسا کو روانہ ہونے لگے۔ ہاں وینس میں البتہ ایک  شام پہلے شہر کے اندر تیس منٹ کا مخصوص پتلی ناؤ سے چکر لگانا بہت اچھا تجربہ رہا۔ گوندل نامی یہ کشتی کا نام شاید ہنڈولا  سے نکلے لفظ سے ہی بنا ہے کہ اس میں سفر کے دوران انسان خود کو کسی پنگوڑے میں ہی محسوس کرتا ہے۔
ہمارے پاس وقت کافی تھا اور ہم وینس کو مزید کھنگالنا بھی چاہتے تھے، واپس لوٹنے کی صورت میں ہوٹل کو ڈھونڈنے کی پریشانی سے ہم لوگ بے فکر ہو چکے تھے۔ بس آگے ہی آگے جانا تھا سو نیویگیشن لگایا اور چل پڑے۔ چھوٹی نہروں کو کراس کرتے ہوئے ہم ریالٹو پل پر آگئے اور تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چلتے ہوئے ہم کشاں کشاں وینس کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ آخری پل سے گزر کر ہم جب اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو میں پچھلے تیس گھنٹے کے دوران سیڑھیاں چڑھنے اترنے سے تنگ آکر سوچ رہا تھا کہ اب وینس میں بس یہ آخری ہی چند سیڑھیاں رہ گئیں ہیں عبور کرنے کو۔ تاہم موسم اتنا خوبصورت ملا کہ ہم نے اسے بخوشی گوارا کر لیاتھا۔
ہمارا سفر ٹرین کے ذریعہ وینس کے قریب ایک دوسرے شہر سے بک تھا۔ دس منٹ کے لوکل ٹرین کے سفر کے بعد ہم میسترا پہنچ گئے۔ وینس میں جس قدر چہل پہل ہے میسترا اتنا ہے پرسکون شہر معلوم ہوا۔ یقیناً عام دنوں میں یہاں اور زیادہ رونق ہوتی ہوگی۔ مگر سنیچر کی وجہ آج بھیڑ بھاڑ کم تھی۔ ایک اطالوی ریستوراں میں دوپہر کے کھانے میں پیزا سے سیر ہوکر ہم لوگ اگلی منزل کی جانب بڑھنے کے لیے اسٹیشن آگئے۔ ویسا کبھی آپ نے پیزا کھاتے وقت سوچا کہ پیزا کا کس ملک کی ڈش ہے اور اس کا رنگ ایسا کیوں ہے۔ پیزا اٹلی کے شہر نیاپل میں پہلی مرتبہ سن اٹھارا سو اسی کے لگ بھگ نیاپل کے حکمران نے بنوایا تھا اور اس میں بالزیکم سبز رنگ کی، ٹماٹر سرخ رنگ کا اور سفید رنگ کے پنیر کے امتزاج سے قومی جھنڈے کی مشہابت کو مقدم رکھتے ہوئے اسے قومی ڈش قرار دیا۔ ان کی بیگم مارگیریٹا کے نام پر آج بھی مقبول عام پیزا  دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔
میسترے سے انٹرسٹی وقت پر چلی۔ پلیٹ فارم پر داخلے سے پہلے ہمارا درجہ حرارت ناپا گیا اور سفر کے دوران ٹکٹ کے ساتھ ساتھ کوویڈ پاس بھی چیک ہوا۔ ویکسین کے مکمل لگوانے کے ثبوت کے بغیر ریستورانوں کی طرح اٹلی کی تیز رفتار ٹرین میں بھی سفر کرنا ممکن نہیں۔میسترے سے ہماری ٹرین فلورینز پہنچی راستے میں  مختلف چھوٹے بڑے اسٹیشن آتے رہے۔ بولوگنا نامی ایک اور بڑا شہر بھی پڑا۔ فلورینز میں صرف سات منٹ کے وقفے سے ہماری اگلی ٹرین روانہ ہونے والی تھی۔ مگر ہماری ٹرین فلورینز قبل از وقت ہی پہنچ گئی تھی چنانچہ اگلی ٹرین پکڑنے کے لیے کچھ زیادہ وقت مل گیا۔
جرمنی کی طرح اٹلی کی ٹرینیں بھی بہت تیز رفتار ہیں۔ نہایت صاف ستھری اور تمام تر جدید سہولتوں سے مرصع۔ ایسے نظام میں صرف سات منٹ کے وقفے سے بھی تبدیلی ٹرین کچھ دشوار نہیں۔
شام کا ڈھلتا سورج تو ہمیں دواں سفر ہی خدا حافظ کہہ چکا تھا۔ چھ بج کر تیس منٹ پر جب ہماری ٹرین پیسا کے مرکزی ریلوے اسٹیشن میں داخل ہورہی تھی تو اندھیرا خوب چھا چکا تھا۔ ہوٹل روانہ ہونے سے قبل ہم نے شام کے کھانے کے لیے بریڈ، دودھ اور تھوڑے سے پھل خریدے اور بس پکڑ کر ہوٹل روانہ ہوگئے۔ دوسرے دن صبح سویرے ناشتے سے فارغ ہوکر جو باہر نکلے تو اتوار کی وجہ سے سب کچھ بند تھا۔  اور یورپ کے بعض چھوٹے علاقوں کی طرح یہاں بھی اتوار کو چرچ میں گاڈ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ وہ چھوٹی گومٹھی یا کھوکھا جہاں سے بس کا ٹکٹ خریدنا مقصود تھا، وہ بھی۔ ہوٹل کے پاس ہی ایک رینٹ اے کار والے کے پاس گئے کہ کوئی گاڑی ہی کرانے پر لے لوں مگر بے سود وہ بھی بند تھی۔ بس میں سوار ہوتے وقت ٹکٹ خریدا جائے اور سفر کیا جائے، یا بس کنڈکٹر دوران سفر ٹکٹ بیچے بالکل عام سی بات ہوتی ہے مگر کوویڈ میں عام کچھ بھی نہیں۔ کوویڈ کی وجہ سے بسوں میں ٹکٹ بکنا بند ہو چکے ہیں۔ ایسا سارے یورپ میں ہورہا ہے۔
مجھے سخت تاؤ آرہا تھا۔ میں نے اپنے موبائل فون پر نیویگیشن لگایا یا اور بیگم سے کہا کہ ہم پیسا کے سرنگوں، ٹیڑھے مینار کو دیکھنے کی خواہش کے سامنے سر خم کرتے ہیں اور ایک گھنٹے پندرہ منٹ کے پیدل سفر کی مشقت برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ ہم نے بیگم سے کہا ہم سفر شروع کرتے ہیں اور راستے میں دیکھتے چلتے ہیں کہ کوئی ٹیکسی مل جائے۔ بیگم نے لفٹ لینے کی بے سود بہت کوشش کی، مگر کوویڈ میں ہم خود کسی کو اپنی کار میں نہیں بٹھاتے تو ہم کیسے امید کرتے کہ کوئی ہمیں لفٹ دیتا۔۔۔۔
پہلے لڑتے جھگڑتے پھر پھل فروٹ خرید کر کھاتے پیتے  کبھی راستے میں کسی رس کی دکان سے پھلوں کا رس پی کر تازہ دم ہو کر ہم پیسا کے جھکے مینار کے سامنے کھڑے تھے۔ پیسا شہر اٹلی کے علاقے ٹوسکنی میں واقع ہے اور وینس کی طرح شمالی اٹلی میں ہی مگر مخالف سمت اور آڈریٹک سمندر کی بجائے لگیورک سمندر میں کھلتا ہے۔جو میٹیرین سمندر کے شمال میں واقع ہے۔ پیسا شہر اپنے ٹیڑھے مینار کی وجہ سے اور مشہور سائنس داں گیلیو کے مسکن کی وجہ سے مشہور ہے۔ کہتے ہیں کہ گلیلیو نے اپنے تجربات پیسا کے ٹیڑھے مینار سے ہی کیے تھے۔ سن تیرہ سو بہتر میں چھپن میٹر اونچا تعمیر کیا جانے والا یہ سفید سنگ مرمر سے بنا مینار تیار ہونے کے بعد ایک طرف سے دھنس گیا تھا۔ گویا فن تعمیر کی ایک غلطی اور تعمیر کرنے والے کی زمین کی نسبت غلط تجزیے کو آج دنیا شاہکار کے طور پر یاد رکھے ہوئے ہے۔
پیسا مینار کے برابر میں ہی رومی کیتھیڈرل دھاری دار سنگ مر مر سے بنا پوری شان و شوکت سے کھڑا ہے۔ جو پی آتزا دی مراکولی پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ گانوں کی مشق کے لیے ایک باپٹسٹوریم بھی ہے جس میں آوازوں کی گونج سے صوتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہاں پر قریب ہی ایک قدیمی قبرستان بھی ہے۔
دریائے اورنو کے دونوں طرف بسے شہر کے درمیان تاریخ کا ایک لمبا عرصہ بکھرا پڑا ہے۔ قدیم محلات اور فوجی چھانیوں کی موجودگی میں کبھی آزاد پیسا ایک ریاست کی صورت میں اپنی حکومت کا صدر مقام بھی تھا۔ جس اپنی آزادی کو فلورینز شہر کے حق میں چھوڑنی پڑی۔ آج بھی ملٹری اکیڈمی کی موجودگی اور نصف کے قریب اس کے طلباء کی قیام گاہ نے پیسا کوشہر کی رونق سے محروم رکھا ہے۔ البتہ یہاں کے قریب و جوار میں خوبصورت ساحل سمندر قابل دید ہیں۔