کیا ادارے تائب ہوجائیں گے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 14 / نومبر / 2021
- 13120
گزشتہ روز کراچی میں پی ڈی ایم کے لیڈروں نے اداروں کو اپنی غلطیاں ماننے اور حقائق تسلیم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مقررین کا دعویٰ تھا کہ اداروں کو ماضی میں کی گئی غلطیوں کا جائزہ لے کر ان پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے تاکہ ملک کو مسائل سے نکالنے کا راستہ تلاش کیا جاسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اداروں سے مراد عسکری قیادت ہے اور اب ان سے علی الاعلان کہا جارہاہے کہ وہ ملک پر من پسند حکومت نافذ کرنے کے طریقہ سے باز رہیں۔
پاکستانی سیاسی تقاریر میں یہ لب و لہجہ بالکل نیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے گزشتہ سال اکتوبر میں گوجرانوالہ کی ریلی سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے پہلی بار نہ صرف اداروں بلکہ ان کے سربراہان کے نام لے کر غیر آئینی اقدامات سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔ اس وقت اس بیان کو حیران کن اور سنسنی خیز قرار دیا گیاتھا۔ بعض ایسے تجزیہ نگار بھی تھے جن کے نزدیک نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لے کر اور ان پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام لگا کر سنگین سیاسی غلطی کی تھی جس کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس جلسہ میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس موقع پر تو کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا لیکن بعد میں بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ نواز شریف کا بیان ان کے لئے حیران کن اور چونکا دینے والا تھا۔
سوچنا چاہئے کی ایک سال کی مدت میں ایسے کون سے حالات نمودار ہوئے ہیں کہ جس لب و لہجہ اور طرز گفتگو نے ملک کی اہم ترین سیاسی پارٹی کے چئیر مین کو چونکا دیاتھا اور جس کی وجہ سے تجزیہ نگار مسلم لیگ میں پھوٹ پڑنے سے لے کر اس کے لیڈروں کے لئے نت نئی مشکلات کی پیش گوئیاں کرنے لگے تھے، اب وہی بات گلی کوچے میں ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ پہلے سیاسی معاملات میں عسکری مداخلت کے حوالے سے کچھ اشارے یا استعارے استعمال کئے جاتے تھے لیکن اب اس کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ پہلے کالموں یا ٹی وی پروگراموں میں اس ’نازک‘ موضوع پر بات کرنے کے لئے ہزار پردے ڈال کر اور گھما پھرا کر یہ کہنے کی کوشش کی جاتی تھی سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں طے ہونے کی بجائے بعض خاص دفاتر اور عہدیداروں کی صوابدید کے مطابق طے ہوتے ہیں جو شاید ملک کے آئینی جمہوری انتظام کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔ کہاں یہ صورت تھی کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے اگر فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھتے ہوئے اداروں کے ملوث ہونے کا ذکر کیا تو پہلے اس کی کردار کشی کی گئی پھر باقاعدہ ریفرنس لا کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ان کے عہدے سے فارغ کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم سپریم کورٹ کے سامنے ان کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
یہ تبدیلی ملک میں سیاسی و انتظامی طاقت کے حامل اداروں کے لئے قابل غور ہونی چاہئے۔ بنیادی طور پر یہ غور و فکر اس حوالے سے اہم ہے کہ اب رائے عامہ سیاست میں عسکری قیادت کی مداخلت اور ملک میں حکمرانی کے حوالے سے عسکری لیبارٹریز میں کئے جانے والے تجربات کے خلاف ہموار ہوتی جارہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ شہباز شریف وزیر اعظم بننے کے لئے اپنی باری لینے کی شدید خواہش میں کسی طرح نواز شریف کو عسکری اداروں کے ساتھ کسی مفاہمت پر راضی کرلیں اور آئیندہ حکومت سنبھالنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں ’ووٹ کو عزت دو‘ جیسے نعرے کی گونج سنائی نہ دے۔ لیکن یہ واضح ہونا چاہئے کہ اسی نعرے کی طاقت نے دراصل عوام کو یہ آگاہی دی ہے کہ ملک کے معاملات اس طریقہ کے مطابق طے نہیں پاتے جو ملک کے دستور میں بتایا گیاہے اور جس میں اداروں کو حکمرانی کی بجائے اطاعت شعاری سے منتخب حکومت کے احکامات پر عمل کا پابند کیا گیا ہے۔
اس نعرے کی طاقت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جو شریف خاندان کو ملک کے تمام مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہیں اور ان پر فوج کے پالتو ہونے سے لے کر بدعنوانی اور وطن دشمنی تک کا ہر الزام عائد کرنے میں مستعد رہتے ہیں، وہ خود بھی اس نعرے کی ضرورت اور اہمیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ فوج کے ساتھ مفاہمت و مصالحت کے ساتھ امور مملکت طے کرنے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت نے ’ایک پیج‘ کی اصطلاح ایجاد کی تھی اور سیاسی بیانات میں تواتر سے یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ درحقیقت سابقہ حکمرانوں کی بددیانتی اور کرپشن کی وجہ سے فوج ان سے نالاں رہتی تھی جبکہ عمران خان انتہائی شفاف کردار کے حامل ایماندار وزیر اعظم ہیں، جن کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ اسی لئے ادارے بھی ان کا ہر حکم ماننے پر مجبور ہیں۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کا سحر ہی تھا کہ فوج کا معترف و شکر گزار ہونے کے باوجود عمران خان کو متعدد بار یہ دعویٰ بھی کرنا پڑا کہ ’آرمی چیف میرے نیچے ہے‘ اور میں دراصل فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔ اس طرح وزیر اعظم ایک پیج کا نمائیندہ ہونے کے باوجود یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ ملک میں حکومتی و سیاسی معاملات عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونے والے لوگوں کے ذریعے ہی طے ہوسکتے ہیں۔ کوئی بھی دوسرا طریقہ مستعمل ہونےکے باوجود قبول عام حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
2018 کا انتخاب منعقد ہونے سے پہلے جو ماحول بنایا گیا تھا، اس سے ہی یہ واضح ہوگیا تھا کہ ادارے درحقیقت ملک میں ایک ایسی دوررس تبدیلی چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی اپیل کم کی جائے اور عمران خان کی صورت میں عوام کو ایسا قائد فراہم کیا جائے جسے ایک طرف عوام میں مقبولیت حاصل ہو تو دوسری طرف تمام عسکری ادارے اس کی پشت پر ہوں۔ اس منصوبہ کو نئے پاکستان کی تعمیر کا نام دیا گیا جس میں بدعنوانی اور بے ایمانی کا خاتمہ کرکے ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ استوار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا جہاں ملک کے ہر باشندے کو انصاف میسر ہوتا۔ لوگوں کے روز مرہ مسائل ختم ہوجاتے،معاشی سہولت پیدا ہوتی اور عوام کو بتدریج روزگار اور اپنا گھر ملنے لگتا۔ یہ ایسی خوابناک صورت حال تھی کہ جمہوریت، آئینی ضرورتوں اور پارلیمنٹ کے اختیار کی باتیں غیر اہم اور غیر ضروری محسوس ہونے لگیں اور عوام کی بڑی اکثریت نے تحریک انصاف کو ووٹ نہ دینے کے باوجود اس کی نگرانی میں بننے والی حکومت کو اس امید پر قبول کرلیا کہ اب ان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
گو کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے اور ان کے دوران کی جانے والی دھاندلی کا شور مچا، بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارک دیتے ہوئے ’نامزد وزیر اعظم ‘ بھی قرار دیا لیکن حکمرانی کا نیا تجربہ ہائیبرڈ نظام کے نام سے ملک پر ٹھونس دیا گیا۔ ہائیبرڈ کی ترکیب ہی سے ظاہر ہے کہ اس میں دو قسم کی توانائی استعمال ہوتی ۔ اسے سیاسی اصطلاح کے طور پر متعارف کرواکے دراصل یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ اگرچہ ملک کا آئین منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے ہی امور حکومت و مملکت طے کرنے کا تقاضہ کرتاہے لیکن معروضی حالات اور ماضی قریب کی ’ناکام ‘ سیاسی حکومتوں کی وجہ سے ، عوام کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لئے جمہوری قوت میں عسکری توانائی کا ’تڑکا‘ لگا کر ایک ایسا نظام نافذ کرنا ضروری ہے جو روزمرہ مشکلات کا خاتمہ کرسکے اور ملک کو عوام کی حقیقی خواہشات کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ یہ سوچ اگرچہ عوامی دانش سے انکار پر مبنی تھی لیکن گوناں گوں مسائل اور سابقہ حکومتوں اور سیاسی قیادت کے خلاف عام طور سے پیدا کئے ماحول میں ترقی و خوشحالی کے خواب کی تکمیل کے لئے، اس انتظام کو تسلیم کرلیا گیا۔ عمران خان کی سحر انگیز قیادت اور قومی بحالی کے نعروں نے بھی کردار ادا کیا۔
کسی بھی دوسرے تجربہ کی طرح اگر یہ تجربہ بھی واقعی عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں کامیاب ہوجاتا اور عوام کو روزمرہ زندگی میں نمایاں تبدیلی محسوس ہوتی تو شاید ان کی بڑی اکثریت آئین کی عمل داری اور ’ووٹ کو عزت دو ‘ جیسے نعروں کے ’جال‘ میں نہ پھنستی اور وقتی طور پر ہی سہی اس ’معروضی حقیقت‘ کو تسلیم کرلیا جاتا کہ عمران خان جیسا دیانت دار لیڈر ہی ملک کو بحران سے نکال کر خوشحالی اور عزت و وقار کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔ خواہشات کی بنیاد پر کھڑا گیا خوابوں کا یہ محل چونکہ حقیقی نہیں تھا اور اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے کسی قسم کی انتظامی، معاشی یا سیاسی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی ، اس لئے جلد ہی معروضی حقیقت کے سراب کی سچائی سب کے سامنے آگئی۔ سابقہ حکمرانوں کے بے اختیار ہونےسے بظاہر کرپشن کے سارے راستے بند ہوگئے تھے لیکن ملک مسلسل معاشی زوال کی طرف گامزن رہا۔ کوورنا وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا لیکن حقیقی ناکامی اعلیٰ سطح پرمسلط کئے گئے لیڈروں کی نااہلی ، ناتجربہ کاری اور غیر مصالحانہ رویہ کی وجہ سے دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک پیج کا سحر ماند پڑ گیا ہے اور ایک سے زیادہ معاملات میں سول اور عسکری قیادت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔
ان حالات میں صرف عمران خان اور تحریک انصاف کو مورد الزام ٹھہرا کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ اب لوگ جانتے ہیں کہ ملک میں جمہوری انتظام کے نام پر ہائیبرڈ نظام استوار کر نے والی حقیقی قوت کون سی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان طاقتوں سے ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کراچی کے جلسہ میں انہی قوتوں سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے اور ان سے تائب ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک کے سیاسی منظر نامہ کی حقیقت اب یہی ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی انحطاط سے عاجز آئے ہوئے عام لوگ عمران خان یا تحریک انصاف کی بجائے فوج کو ان مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ فوج کو بھی اس صورت حال کا احساس ہے اور وہ اس ناکام تجربہ کی ہلاکت خیزی سے خود کو بچانا چاہتی ہے۔
تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا عسکری قیادت واقعی غلطی تسلیم کرنے، معافی مانگنے اور مستقبل میں ایسی تجربہ گاہیں بند کرنے کے لئے تیار ہے۔ دیانت داری کی بات تو یہ ہے کہ اس کا بڑا انحصار ملک کی سیاسی قوتوں پر بھی ہوگا۔ جب تک سب سیاسی پارٹیاں حصول اقتدار کے لئے خفیہ رابطوں اور اعانت کے طریقہ کو مسترد نہیں کریں گی، کسی ادارے کے معافی مانگنے سے ہائیبرڈ تجربوں کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔