لیورپول ہسپتال کے باہر ٹیکسی میں دھماکا، پولیس نے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا
- سوموار 15 / نومبر / 2021
- 3830
برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ ہسپتال کے باہر ٹیکسی میں ہونے والے دھماکے کو دہشت گردی کا واقعہ تصور کیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک واقعے کا مقصد واضح نہیں ہو سکا۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق لیورپول ویمنز ہسپتال کے باہر ہونے والے اس دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔ شمالی مغربی انگلینڈ میں انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ رس جیکسن نے کہا ہے کہ اتوار کو ہونے والے اس دھماکے میں دھماکا خیز ڈیوائس کا استعمال کیا گیا جسے ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔
اس دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے سبب ایک شخص ہلاک اور ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا۔ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ یہ ڈیوائس کس طرح بنائی گئی، واقعے کے مقاصد کیا تھے اور اس میں کوئی اور فرد ملوث ہے یا نہیں۔
اتوار کو محکمہ انسداد دہشت گردی نے واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں تین نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ مزید ایک شخص کو پیر کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جیکسن نے کہا کہ اس واقعے کی ٹائمنگ کی وجہ سے اس کے مقاصد پر شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ دھماکا جنگ کے شہدا کی یاد میں برطانیہ بھر میں منعقد ہونے والی تقریبات سے چند لمحے قبل ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک تفتیش کاروں کو اس واقعے کے ان تقریبات سے منسلک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن اس سلسلے میں ابھی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ابھی اس واقعے کی وجوہات جاننا باقی ہیں لیکن تمام حالات و واقعات کو دیکھنے کے بعد اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس سربراہ نے بتایا کہ ٹیکسی نے 10 منٹ کی دوری سے مسافر کو اٹھایا اور انہیں ہسپتال پہنچایا جہاں یہ دھماکا رونما ہوا، ڈرائیور اس دھماکے میں بچنے میں کامیاب رہا اور اسے ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔
برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ پریتی پٹیل نے کہا کہ وہ ناخوشگوار واقعے کے حوالے سے مستقل اپ ڈیٹ لے رہی ہیں۔