داخلی سلامتی کا چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 15 / نومبر / 2021
- 4390
پاکستان کی داخلی سلامتی کا چیلنج ایک بڑا سنجیدہ سوال ہے۔کیونکہ جو بھی ریاست ترقی کرتی ہے یا اپنی ساکھ کو داخلی یا خارجی سطح پر قائم کرتی ہے تو اس کا ایک مضبوط پہلو داخلی سلامتی کا چیلنج ہوتا ہے۔
داخلی سلامتی کا تعلق محض قومی سیکورٹی پالیسی تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ عملی طور پر یہ ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک مضبوط، مربوط اور شفاف عمرانی معاہدہ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارا ریاستی وحکومتی سمیت ادارہ جاتی نظام جس انداز سے چلایا جارہا ہے اس سے ریاست یا حکومتو ں کا چیلنج کم نہیں بلکہ زیادہ شدت اختیار کررہا ہے۔ عمومی طور پر داخلی سلامتی کے چیلنج سے نمٹنے کااہم او رموثر طریقہ بتدریج یا تسلسل کے ساتھ مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا عمل ہوتا ہے۔ جمہوری یا سیاسی نظام کی بڑی کامیابی کا دارمدآر بھی اصلاحات کے ایجنڈے سے جڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ حالات، واقعات اور تجربات کی بنیاد پر ہونے والی اصلاحات جن میں پالیسی، قانون سازی یا عملدرآمد کا نظام ہوتا ہے وہی کامیابی کی کنجی ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان کی داخلی سلامتی کا مسئلہ محض کسی ایک جماعت یا حکومت سے جڑا نہیں ہوتا یہ ایک مکمل ریاستی معاملہ ہے جس میں ریاست، حکومتی یا سیاست یا انتظامیہ سے جڑے افراد یا ادارے مل کر کوئی مشترکہ حکمت عملی کے تحت داخلی سلامتی کے مسئلہ کو یقینی بناسکتے ہیں۔پاکستان کے داخلی بحران کا علاج کسی بھی صورت میں سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی یا فہم وفراست، تدبر اور گہری سوچ وفکر درکار ہے اس کا فقدان بھی ہمارے مسائل کو بڑھارہا ہے۔سیاسی سطح پر محازآرائی، کسی کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنا، ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہ ہونا، سیاسی وضع داری اور رواداری کا فقدان، الزامات اور گھٹیا منفی سیاست اور حکومتوں کو منفی انداز میں بنانے یا ختم کرنے کے کھیل نے عملی طور پر ملک میں سیاسی عدم استحکام اور سیاسی انتشار کو بڑھادیا ہے۔لیکن سیاسی جماعتیں اور قیادتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے کسی نئی مثبت سیاست کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
سب سے اہم مسئلہ حکمرانی یا گورننس کے بحران کا ہے۔ بدقسمتی سے ریاستی و حکومتی یا سیاسی سطح پر ہم حکمرانی کے تناظر میں دنیا کے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ دنیا زیادہ سے زیادہ سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنا کر مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنی اہم سیاسی ترجیحات کا حصہ بنا کر عام لوگوں کے مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناتی ہیں۔لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت بظاہر جمہوری سیاست کا وایلا تو مچاتی ہے مگر مرکزیت پر مبنی نظام اور زیادہ سے زیادہ اختیارات کو ایک سطح تک محدود کرنے کی سوچ سے آزاد ہونے کے لیے تیار نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں میں ریاست یا حکومت کے تناظر میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے، اس کی بڑی وجہ حکمرانی کے نظام کی عدم شفافیت ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا انتظامی،قانونی اور پولیس کا ڈھانچہ مفلوج ہوگیا ہے یا یہ واقعی اپنی اہمیت کم کرچکا ہے۔لیکن جس انداز سے طاقتور طبقات یا ادارے اصلاحات کے ایجنڈے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے حکومت اور فیصلہ ساز لوگوں کو ایسی اصلاحات سے دور رکھتے ہیں جو ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔ویسے بھی کمزور اور چند ووٹوں یا اتحادی جماعتوں کی بنیاد پر کھڑی حکومتیں بڑی تبدیلی یا اصلاحات کے عمل میں وہ نتیجہ نہیں دے سکتیں جو ریاستی ضرورت بنتا ہے۔ ہماری سیاسی ضرورت ایک مضبوط سیاسی نظام اور حکومت سے ہی وابستہ ہے اور اسی کی طرف ہمیں پیش رفت کرنا ہوگی۔ سیاسی نظام میں بڑی اصلاحات کرنا ہوں گی اور یہ کام روائتی طرز کی سیاست یا پہلے سے موجود نظام میں ہلکے پھلکے پیچ ورک کی بنیاد پر ممکن نہیں۔ہمیں کچھ نئی سوچ بچار کرنا ہوگی۔کیونکہ جو سیاست یہاں چلائی جارہی ہے وہ طبقاتی مفادات کی عکاسی بھی کرتی ہے اور نجی ملکیت یا سرمائے کی بنیاد پر چلائے جانے والی سیاسی جماعتیں یا نظام حقیقی جمہوریت کے تقاضوں کے منافی ہے۔بالخصوص ہمیں روپے، پیسے یا دولت کی بنیاد پر چلائی جانے والی سیاست کے آگے ایک مضبوط بندھ باندھنا ہوگا کیونکہ اس سے سیاست او رجمہوریت دولت کی مرہون منت بن گئی ہے جو خود حقیقی سیاست او رجمہوریت کی دشمن ہے اور اس سے جمہوریت طاقت ور طبقات کے دائرہ کار تک ہی محدود رہے گی۔
ریاست یا حکومت اپنے نظام میں اصلاحات کو بنیاد بنانے کی بجائے روزمرہ اور انسانی حقوق سے جڑے بنیادی حقوق جن کی آئین سمیت ریاستی نظام ضمانت دیتا ہے اس پر توجہ دینے کی بجائے نجی شعبوں میں ریاستی نظام کو دینا لوگوں کی زندگیوں کو اور مشکل بنارہا ہے۔ کیونکہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست، حکومت سمیت ادارہ جاتی نظام ریگولیٹ کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ نجی ادارے جن میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی ادارے بھی شامل ہیں وہاں ہونے والی لوٹ مار کی جوابدہی کے کے لیے کوئی تیار نہیں او رلوگوں کو جان بوجھ کر نجی شعبہ کے رحم و کرم پر ڈالنا بھی خود ایک بڑے ظلم کی نشاندہی کرتا ہے۔نجی شعبہ کو ضرور مراعات دی جائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پبلک شعبہ کی دیکھ بھال بھی اس انداز میں کرے کہ لوگ ان سے استفادہ حاصل کرسکیں او ریہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ریاست و حکومت ایک طاقت طبقات کی نمائندگی کرنے کی بجائے عام او رکمزور آدمی کے ساتھ کھڑی ہو۔اس کے لیے بڑی ترجیح پولیس اور عدالتی نظا م کی اصلاحات اور غیر معمولی تبدیلیوں کو اپنا ایجنڈا بنانا ہوگا۔
معاشی نظام میں توازن پیدا کرنا، دوسروں پر کم سے کم انحصار کرنا اور معاشی پالیسیوں میں بڑے طاقت ور طبقات کے مفادات کے مقابلے میں عام آدمی کے معاملات پر زیادہ توجہ دینا، حکمرانی کے نظام کو سادہ اور کم خرچ کرنا، آسائشوں پر مبنی حکمرانی کا نظام اور بلاوجہ کی حکمرانی کے نظام میں شا ن و شوکت کو ختم کرکے خود بھی اپنا ریاستی و حکومتی خرچ کم کریں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں کہ وہ اپنے معاملات کا خود سے بھی داخلی احتساب کریں۔ایک اچھی اور ذمہ دار ریاست یا حکومت بروقت اور ضرورت کے تحت فوری فیصلے کرنے او ران کی مینجمنٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسی بنیاد پر ہماری ریاست اور حکومت کو آگے بڑھنا چاہیے۔داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں صرف ووٹ کی عملی سیاست سے باہر نکل کر کچھ بڑا کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی چاہیے۔ ہمیں ریاست کے نظام کی شفافیت کے لیے پورا ایک بڑا روڈ میپ درکار ہے جو سب فریقین کی مدد سے تیار ہو تاکہ اس کی ملکیت یا اونر شپ سب لے سکیں۔