مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے 4 کشمیری ہلاک کردیے

  • منگل 16 / نومبر / 2021
  • 3350

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہر سری نگر میں کارروائی کے دوران 4 افراد کو قتل کردیا ہے۔

خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ ریاست کے پولیس سربراہ وجے کمار کا کہنا تھا کہ مبینہ انتہاپسندوں نے پولیس اور سپاہیوں پر فائرنگ کی جب انہوں نے ان کے چھپے ہونے کی خفیہ اطلاع پر سری نگر میں ایک کاروباری سینٹر کا گھیراؤ کیا تھا۔ فائرنگ کے تبادلےکے دوران دو شہری اور دو مبینہ جنگجو مارے گئے۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجی انہیں خون ریز واقعے کے دوران انسانی ڈھال کےطور پر استعمال کر رہے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے شہریوں کی شناخت شاپنگ سینٹر کے مالک محمد الطاف بھٹ اور ایک تاجر مدثر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ وجے کمار نے کہا کہ احمد ڈینٹل سرجن اور رئیل اسٹیٹ کے ڈیلر تھے جنہوں نے مذکورہ عمارت میں ایک دفتر کرایے پر دیا تھا اور وہ خفیہ کارکن تھا۔ بھارتی فورسز یہ اصطلاح حریت پسندوں کے ہمدردوں اور ان کے عوامی حامیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

عینی شاہدین اور قتل ہونے والے دو شہریوں کے لواحقین نے پولیس کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے علاقے کا محاصرہ کرکے شاپنگ سینٹر کےمالک اور تاجر کو اٹھایا تھا اور درجنوں شہریوں کی موجودگی میں انہیں عمارت کے اندر لے گئے تھے۔

ایک دکاندار نذیر احمد کا کہنا تھا کہ قابض فورسز نے درجنوں دکان داروں کو قطار میں کھڑا کیا اور اسی طرح شوروم میں بھی جمع کیا گیا اور ان کے موبائل فون اٹھالیے گئے۔ قابض فوجیوں نے بعد میں شاپنگ سینٹر کےمالک بھٹ سے ان کے ساتھ عمارت کے اندر جانے کا کہا اور ان کے ساتھ تاجر مدثر احمد کو بھی لے جایا گیا۔

محمد الطاف بھٹ کے بھائی عبدالماجد بھٹ کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا گیا اور بے گناہ مارا گیا۔ عبدالماجد بھٹ اپنے گھر میں میڈیا سے یہ بتارہے تھے جہاں ان کے رشتہ دار الطاف بھٹ کی جسد خاکی کی منتقلی کے منظر تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بھائی معصوم تھے۔

خیال رہے کہ بھارت نے حالیہ ہفتوں میں ٹارگٹ کلنگز کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث دنیا کے سب سے زیادہ ملٹرائزڈ زونز میں سے ایک مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید ہزاروں پیراملٹری اہلکار بھیج دیے ہیں۔