مہنگائی باہر سے آرہی ہے، ایک نیا پیکیج دیں گے: وزیر اعظم

  • منگل 16 / نومبر / 2021
  • 3650

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے ملکی ترقی کا منصوبہ بناتے ہوئے الیکشن کا نہیں سوچا  بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل پیش نظر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ مہنگائی سے لوگ بہت پریشان ہیں، آئندہ دنوں میں پیکج لانے والے ہیں۔ للہہ تا جہلم شاہراہ کا سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انوہں نے کہا کہ ساری دنیا میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہورہا ہے۔  انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کرارہے ہیں تاکہ شفاف عمل ہو لیکن مجھے حیرت ہے کہ ہماری اپوزیشن کو مشین سے کیوں ڈر لگ رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری کوشش رہی کہ ملک میں پائیدار ترقی کرنی ہے۔ جب ملک میں انتخابات نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سوچا جائے تو قوم ترقی کرتی ہے۔ چائنہ کی ترقی کا راز ہے کہ انہوں نے پائیدار ترقی کے بارے میں سوچا۔ سب سے پہلے انہوں نے غربت ختم کی اور پھر ترقیاتی منصوبے تشکیل دیے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اربوں روپے مالکیت کی میٹرو بنا کر سوچا جائے کہ میں الیکشن جیت جاؤں گا، قوم ایسے آگے نہیں بڑھتی۔

انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہم نے الیکشن کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سوچا۔ عمران خان نے خبردار کیا کہ ملکی ترقی میں نمایاں کردار پانی کا ہے، زمین موجود ہے لیکن قلت آب کے باعث کئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ جس میں قابل ذکر نقصان زراعت کو ہورہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قلت آب کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ 50 برس میں پہلی مرتبہ 3 بڑے ڈیمز بن رہے ہیں اور آئندہ 10 برس میں 10 ڈیمز بنیں گے۔ ان ڈیمز کی پلاننگ 40 سال پہلے ہوئی تھی۔

جب ہم نے درخت لگانے کے منصوبے متعارف کرائے تو ہمارا مزاق اڑایا گیا۔ سابقہ حکومتوں میں جنگلات ختم کردیے گئے، نیشنل پارکس نہیں بنائے گئے، دنیا نے سابقہ حکومتوں کی تعریف نہیں کی۔ برطانوی وزیر اعظم موسمیاتی تبدیلی کے سمٹ میں پاکستان کی مثال دیتا ہے، جس پر اپوزیشن مزاق اڑا رہی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ورلڈ بینک کہتاہے کہ موجودہ حکومت میں غربت کم ہوئی ہے، مشکل وقت ہے لیکن مکمل اعتماد ہونا چاہیے ہم اس مہنگائی سے بھی نکل جائیں گے۔ مہنگائی بیرون ملک سے آرہی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، آئندہ دنوں میں ایک بڑا ریلیف پیکج لانے والے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا جہاں حکمران اور اس کے وزرا کرپشن کرتے ہوں۔ پہلے دن سے اپوزیشن ہر محاذ پر مخالف رہی ہے اور حکومت گرانے کی باتیں کرتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ 5 سال بعد جب کارکردگی کا گراف سامنے آئے گا تو اپوزیشن کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔