نواز شریف کے حق میں تیسری بڑی گواہی عدلیہ کی طرف سے سامنے آئی ہے: مریم نواز

  • بدھ 17 / نومبر / 2021
  • 3120

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا بیان حلفی نواز شریف کے حق میں تیسری بڑی گواہی ہے جو عدلیہ کی طرف سے سامنے آئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مجھے اور نواز شریف کو اللہ کی ذات پر یقین تھا لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ دن جلدی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’وہی جعلی حکومت و عدالتیں اور وہی طاقت کا غلط کا استعمال ہے لیکن یہ قدرت کا نظام ہے کہ نواز شریف کے حق میں تیسری بڑی گواہی عدلیہ کی طرف سے سامنے آئی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو جس نے سزا دی ارشد ملک صاحب مرحوم انہوں نے نواز شریف کے حق میں اپنی زندگی میں گواہی دی۔ اس کے علاوہ شوکت عزیز صدیقی نے بھی دوران ملازمت نواز شریف کے حق میں گواہی دی۔ اب گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کی گواہی سامنے آگئی ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ان کے سامنے فون پر یہ ہدایت دی کہ نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہ دیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب ان سے پوچھا کیا کہ آپ یہ کیوں کر رہے ہیں کہ تو انہوں نے کہا کہ پنجاب اور گلگت بلتستان کی عدالتوں میں فرق ہے۔ شوکت عزیز صدیقی کو نواز شریف سے متعلق گواہی پر انصاف دینے کے بجائے نوکری سے فارغ کردیا گیا اور مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل میں لے گئے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس کے بعد ارشد ملک کی شہادت موصول ہوئی تو ان پر کارروائی کی جاتی یا تحقیقات کی جاتی تو آپ نے اس معاملے کو ختم کردیا۔ ایک ملک کے وزیر اعظم کو جعلی سزا دینے کے لیے آپ نے جج کو نوکری سے برخاست کرتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج نے جو انکشافات کیے ہیں اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں توہین عدالت کا نوٹس دیا ہے۔ حالانکہ آپ کو انہیں سننا چاہیے تھا، سب سے پہلا نوٹس اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو جانا چاہیے تھا۔

مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار کا یہ کہنا کہ مجھے کیا ضرورت پڑی کہ میں عدالتوں کے چکر لگاؤں، یہ آپ کی جانب سے زیادتی کی گئی ہے، جب ہم پانچ سال سے عدالتوں کے چکر لگا سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں لگا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف کا معیار دیکھیں کہ پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والی عدالت کو اس بنیاد پر اوورٹرن کردیا جاتا ہے کہ اس خصوصی عدالت کی منظوری کابینہ نے نہیں دی۔ لیکن نواز شریف کے فیصلے میں تین ججوں نے گواہی دی اور انہیں جعلی سزا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ طاقت کے زور پر جیت جائیں گے تو یہ سب کے سامنے ہے۔ جو صورتحال ہے اس کا ایک ہی حل ہے کہ اگر اس ملک کو ان مشکلات سے نکالنا ہے، جس میں اسے عمران خان دھکیل چکے ہیں، تو اس کا حل آزاد اور شفاف انتخابات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ بیٹھوں گی اور معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا اور آج نیب نے خود ہی آج وقت مانگ لیا۔ اس سے قبل ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ دلائل مکمل کریں اور ثبوتوں کے ساتھ یہ بات ثابت کریں کہ وہ اپارٹمنٹ کی بینیفیشل اونر ہیں۔

اس پر نیب پواسیکیوٹر نے احتساب بیورو کی جانب سے باضابطہ جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت طلب کر لیا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت 24نومبر تک ملتوی کردی۔