اپوزیشن حکومتی قانون سازی عدالت میں چیلنج کرے گی

  • بدھ 17 / نومبر / 2021
  • 2900

اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف  اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے منظور کیے جانے والے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل سمیت دیگر قوانین عدالت میں چینلج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر نے پارلیمنٹ کے رول پاؤں تلے روندھا ہے، رول 10 کے تحت مشترکہ اجلاس کے لیے 222 اراکین کی اکثریت ضروری ہوتی ہے، لیکن حکومت کے پاس 212 اراکین بھی نہیں تھے۔ ووٹ کی گنتی کو غلط پیش کیا گیا۔  ہم نے اسپیکر سے باربار درخواست کی کہ ڈویژن کروائیں، یہ ووٹنگ کی گنتی غلط ہے، ان اراکین اتنی تعداد میں موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر 221 ووٹ پر تلے ہوئے تھے۔ اسپیکر نے ہماری ایک بات نہیں مانی اور آج ای وی ایم اور دوسرے بل منظور کروانے پر تلے ہوئے تھے۔ جس طریقے سے بلڈوز کرتے گئے، ہم نے احتجاج کیا اور اسپیکر کے پاس گئے اور کہا آپ بہت زیادتی کر رہے ہیں اور بتایا کہ آپ نے کہا تھا پارٹی لائن سے باہر نکل کر کردار ادا کروں گا لیکن یہاں بالکل اس کے الٹ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے ہماری ایک بات نہیں سنی، بطور قائد حزب اختلاف میرا استحقاق ہے کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بات کروں لیکن اسپیکر نے میرا مائیک نہیں کھولا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بھرپور تعداد تھی، چند اراکین بیمار تھے وہ نہیں تھے لیکن دیگر اپوزیشن اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز موجود تھے۔ لیکن اسپیکر پی ٹی آئی کا حواری بنا ہوا تھا، جس طرح نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے، آج اسپیکر پی ٹی آئی گٹھ جوڑ نے بھرپور کام دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پارلیمان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب ای وی ایم جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا ہے اور ہم نے تفصیل سے بات بتائی کہ آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں کہ دنیا کے 167 ممالک میں سے صرف 8 ممالک میں یہ چل رہا ہے اور9 ممالک اس کو چھوڑ چکے ہیں۔ پاکستان میں پلے آرٹی ایس سے جان نہیں چھوٹی، جس نے ایک دھاندلی زدہ حکومت اور جعلی حکومت کو قوم پر مسلط کردیا ہے، مہنگائی بے روزگاری نے پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی کمر توڑ دی ہے اور اب یہ ای وی ایم مسلط کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں ہوگا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے ملک کو پتہ ہونا چاہیے کہ آج مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں شکست ہوئی ہے۔ مشترکہ اجلاس اور معمول کے اجلاس کے قواعد الگ ہوتے ہیں اور اسپیکر کو دھیان دلانے اور حکومت کو توجہ دلانے کی کوشش کی۔ 1993 کا مشترکہ اجلاس کا رول ہے وہ یہ کہتا ہے کہ مشترکہ اجلاس سے بل منظور کرنے کے لیے حکومت کے پاس دونوں ایوان کی مجموعی تعداد کا ٓدھا ووٹ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی اسمبلی کے 342 اور سینیٹ 100 اراکین ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مشترکہ اجلاس سے بل منظور کروانے کے لیے حکومت کےپاس 222 ووٹ کم ازکم ضروری ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپوزیشن کے کتنے اراکین حاضر ہیں یا غیرحاضر ہیں۔ اگر حکومتی بینچز میں اراکین کی تعداد 222 سےزیادہ نہیں بنتی تو وہ جو قانون بنانا چاہ رہے ہیں وہ نہیں بنتا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر ای وی ایم اور کلبھوشن یادیو کے این آر او کے لیے یہ قانون قاعدے کے مطابق ہیں تو ہم اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر اسعد محمود نے کہا کہ ہم نے ابتدا میں ہی کہہ دیا تھا کہ یک طرفہ کارروائی قوم تسلیم نہیں کرے گی اور انہیں پھر دعوت دی کہ آپ کو کیا جلدی ہے اگر قوم کے مفاد میں قانون سازی کر رہے ہیں تو اپوزیشن آپ کی دعوت قبول کر چکی ہے۔ حکومت نے دھاندلی کےذریعے بل منظور کیے ہیں تو ان سے کوئی توقع کیسے کرسکتا ہے کہ 22 کروڑ عوام کو عام انتخابات میں شفاف انتخابات دے سکتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیرحیدر ہوتی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کے لیے قانون سازی کی گئی لیکن پاکستان کے ایک شہری اور منتخب رکن قومی اسمبلی علی وزیر اس وقت زیر حراست ہے لیکن اسپیکر نے اتنا گوارا نہیں کیا کہ اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اسپیکر کو ہاؤس کا سربراہ ہونا چاہیے، پچھلے دنوں مذاکرات کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا اور آج جو ان کا کردار تھا بدقسمتی سے اسپیکر صاحب اب مکمل طور پر متنازع ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹ کی کچھ روایات رہی ہیں لیکن آج ان روایات کو روندا گیا ہے، غیرآئینی اور غیر قانونی طریقے سے قانون سازی کی گئی ہے، جس کو ہم نہیں مانتے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کلبھوشن کو فوجی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہے لیکن اس کو آج این آر او دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ہماری ترامیم کو نہیں سنا گیا۔ آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں سوگ ہے، چند دن پہلے سری نگر سے دبئی کے لیے پروازیں شروع کی تھی اور اب کلبھوشن کو این آر او دے دیا ہے۔