پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیا، اپوزیشن کا واک آؤٹ

  • بدھ 17 / نومبر / 2021
  • 4360

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2021 اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی اور مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

اس بل کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں دو ترامیم کی گئی ہیں جو کہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق ہیں۔ بل منظور ہونے پر وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومتی ارکان پارلیمنٹ نے ڈیسک بجا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن نے اس کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قبل ازیں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ انتخابی اصلاحات کی تحریک کے حق میں 221 جبکہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔

ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے اعتراض اٹھایا جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم گنتی کے دوران ایوان میں شدید بےنظمی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے آگئے اور حکومت و وزیر اعظم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

ایوان میں گرما گرمی کے باعث سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لے لیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ بھارتی جاسوسی کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف نظرثانی  بل 2021، اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل ، مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کے 2 بلز، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹی ٹیوٹ بل اوراسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن و انضباط کا بل بھی منظور کئے گئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ایک گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ہی مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل پر ووٹنگ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ اسد قیصر نے بابر اعوان کو ایجنڈا نمبر ٹو یعنی الیکشن ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ کا بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی دعوت دی تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے اسے فی الحال مؤخر کردیا جائے۔

اجلاس میں سب سے پہلے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں انتہائی اہم دن ہے میں اس ایوان میں آج جو حکومت اور اس کے اتحادی بلڈوز کرا کر پارلیمانی روایات کی دھجیاں اڑانا چاہتے ہیں اس کا بوجھ اسپیکر اور معزز ایوان کے کاندھوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل رات کے اندھیرے میں بتایا گیا کہ اگلی صبح پارلیمان کا اجلاس ہوگا اور پھر جب عمران خان کے عشایئے سے پی ٹی آئی کے درجنوں اراکین غیر حاضر اور اتحادی انکاری تھے تو یکایک اجلاس مؤخر کردیا گیا اور حکومتی وزرا نے کہا کہ ہمیں متحدہ اپوزیشن سے مشورہ کرنا ہے۔ جس کے بعد مجھے آپ کا خط موصول ہوا جس پر پورے اپوزیشن اتحاد نے غور کر کے جامع جواب دیا جس میں بہترین تجاویز دی گئیں لیکن اسپیکر نے پھر اپوزیشن سے اپنا رابطہ منقطع کرلیا، ہمیں کوئی جواب نہ ملا۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس سلسلے میں کمیٹی کی تشکیل پر نہ ہم سے مشاورت کی گئی نہ آئندہ کا لائحہ عمل بتایا گیا، یہ ڈھکوسلہ تھا اور وقت حاصل کرنے کا حربہ تھا تاکہ کسی طرح ووٹس کی تعداد پوری کی جائے اور اتحادیوں کو راضی کیا جائے وربہ آپ کا مشاورت کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔

انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، یہی وہ پارلیمان ہے جہاں 1973 کا آئین منظور ہوا تھا جو مشاورت لچک کا شاندار نمونہ ہے جس نے پاکستان کو متحد رکھا ہے۔ آج شخصی اور وقتی مصلحت کی خاطر اگر آپ نے ان بلز کو منظور ہونے دیا تو تاریخ اور 22 کروڑ عوام آپ کو معاف نہیں کرے گی۔

اسپیکر نے  یقین دہانی کروائی کہ میں آپ کے خط کا جواب دوں گا اور کوئی کام آئین و قانون کی خلاف ورزی میں نہیں کروں گا۔

سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے ووٹنگ کے حق سے اختلاف نہیں بلکہ ہم اس کی تائید کرتے ہیں لیکن حکومت سمندر پار پاکستانیوں کا نام استعمال کر کے اپنے فسطائی منصوبوں کو کامیاب کرانا چاہتی ہے۔ حکومت سمندر پار پاکستانیوں کو ای وی ایم اور ووٹنگ رائٹس کا اس طرح سبز باغ دکھا رہی ہے جس طرح ڈیم فنڈ کا دکھایا تھا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ  حکومتی اراکین نے قائد حزب اختلاف کی گفتگو کو سنجیدگی سے سنا، کہا گیا کہ آج تاریخی دن ہے، میں اتفاق کرتا ہوں کہ آج واقعی تاریخی دن ہے۔  آج یہ ایوان ایک ایسی قانون سازی کرے گا جس سے ماضی کی خرابیاں تبدیل ہوکر ایک شفاف الیکٹورل نظام متعارف ہوگا۔ ہم کالا قانون مسلط کرنا نہیں بلکہ ماضی کی کالک کو دھونا چاہتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے کہا تھا کہ قانون اسمبلی میں لانے سے قبل مشاورت کی جائے گی، حکومت کے جھوٹ میں اسپیکر کا دفتر اور عہدہ استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت نے پہلے آرڈیننس کے ذریعے یکطرفہ طور پر انتخابی اصلاحات لانے کی کوشش کی اور آج بلڈوز کرکے اصلاحات منظور کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگریہ قانون منظور کیا گیا تو ہم آج سے اگلے الیکشن نہیں مانتے۔ حکومت زبردستی ای وی ایم لانا چاہتی ہے، اسپیکر اپنے عہدے کی عزت کریں اور اپنی بات پر قائم رہیں۔ ’انتخابی اصلاحات کے متنازع قوانین کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ ایسا نہیں ہوسکتا ووٹ پیرس میں ڈالے اور نتیجہ ملتان کا ہو‘۔

وزیراعظم عمران خان اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر قبل پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کرنے کے لیے جانے سے قبل میڈیا کے سامنے خاموش رہے۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ’آپ اتنی ملاقاتیں کر رہے ہیں، کیا آپ اکثریت ہونے کے باوجود کسی چیز سے پریشان ہیں؟ وزیر اعظم عمران نے جواب دیتے ہوئے اس تاثر کی نفی کرتے نظر آئے کہ انہیں آج کے اجلاس میں اپنے اتحادیوں کو حمایت کے لیے راضی کرنا پڑا۔ اور کہا کہ ’لوگوں سے کون مل رہا ہے؟‘۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک کھلاڑی کھیل کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ ہر ممکنہ نتائج کے لیے تیار ہوتا ہے اور اپنے حریف سے بہتر کارکردگی کا عہد کرتا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے ناراض اتحادیوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے تحفظات وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دور کیے جانے کے بعد منگل کو فیصلہ کیا کہ وہ مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے بلوں کے حق میں ووٹ دیں گے۔

وزیر اعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مصروف دن گزارا جہاں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی ایم ایل (ق) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کی جنہوں نے بلوں کو منظور کرانے میں اپنے تعاون کا یقین دلایا۔