ملکی سیاسی منظر نامہ

پاکستان کے سیاسی منظرنامہ میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول پی ڈی ایم کافی سرگرم  اور فعال نظر آتی ہیں۔ اگرچہ تحریک عدم اعتماد کی  گونج بھی سننے کو مل رہی ہے مگر بظاہر لگتا ایسا ہے کہ اصل مقصد فوری انتخابات کا ہے۔

حزب اختلاف کی کچھ جماعتوں کا موقف ہے کہ ہمیں اپنی توجہ تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں نئے انتخابات تک مرکوز رکھنی چاہیے۔نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، فضل الرحمن فوری انتخابات جبکہ پیپلز پارٹی پنجا ب اور مرکز میں عدم اعتماد کی تحریک کو بنیاد بنا کر حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی کی حامی ہیں۔یہ ہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر  حزب اختلاف حکومت پر بڑا دباؤ ڈال رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ دنوں میں حکومت کو مختلف معاملات جس میں بالخصوص معاشی صورتحال او رمہنگائی کے معاملا ت شامل ہیں اس پر کافی دباؤ کی سیاست کا سامنا ہے۔حکومتی سطح پر بھی یہ اعتراف موجود ہے کہ حکومت کا بڑا مسئلہ حزب اختلاف کی جماعتیں نہیں بلکہ معاشی سطح پر موجود مشکلات او رمہنگائی کا عمل زیادہ خطرناک ہے۔ حکومت کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کو بنیاد بنا کر ہی ا حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کو پسپائی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔اس لیے حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے عملی طو رپر سیاسی محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف  برسر پیکار ہیں۔اس لیے جو لوگ  کہہ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں دونوں سیاسی فریقین یعنی حکومت او رحزب اختلاف میں بداعتمادی کم ہوسکتی ہے، ممکن نہیں۔ آنے والے دنوں میں ہمیں سیاسی سطح پر ایک بڑی محاز آرائی کے امکانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں جوحکومت کے لیے اچھا شگون نہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں میں اگرچہ مشترکہ جدوجہد پر دوریاں یا تضاد نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں ہمیں تقسیم نظر آتی ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن او رجے یو آئی میں جو دوریاں ہیں ان کو ختم کرنے اور دوبارہ پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں شمولیت کی کوشش کررہے ہیں، مگر فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ دونوں فریقین میں حکمت عملی پر اختلافات ہیں جو ان کو یکجا کرنے میں رکاوٹ ہیں۔البتہ اہم بات حزب اختلاف کی جماعتوں کا پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا سامنے آیا ہے اور اس میں شہباز شریف او ربلاول بھٹو نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ دونوں راہنما بنیادی طو رپر مزاحمت کی تحریک کے مخالف ہیں او ران کا خیال ہے کہ ہمیں سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں دباؤ کی سیاست بڑھانا ہوگی۔جبکہ اس کے برعکس مریم نواز، نواز شریف او رمولانا فضل الرحمن لانگ مارچ یا بڑی اجتجاجی تحریک کے حامی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کا حکومت پر دباؤ بڑھانے او ران کو دفاعی پوزیشن میں لا کر پسپائی پر مجبور کرنے میں چار اہم حکمت عملیاں واضح طور پر نمایاں نظر آتی ہیں۔اول حزب اختلاف کو لگتا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک پیچ کی کہانی عملی ختم ہوگئی ہے او راس میں ایک بڑا سیاسی ڈیڈ لاک اور بداعتمادی کا ماحول غالب ہے۔ ایسے میں حزب اختلاف خود کو اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے متبادل قیادت کے طو رپر پیش کرکے عمران خان حکومت او راسٹیبلیشمنٹ میں خلیج کو مزیدگہرا کرنا چاہتی ہیں۔کیونکہ حزب اختلاف جانتی ہے کہ اگر کوئی واقعی حکومت مخالف تبدیلی آنی ہے تو اس میں اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہوگا۔ دوئم حزب اختلاف کی کوشش ہے کہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں جن میں ایم کیو ایم، جی ڈی اے سندھ اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اپنی سیاسی قربتوں کو بڑھاکر ان کو حکومت سے علیحدہ کرنا اور حکومتی حمایت سے دست بردار کرنا شامل ہے۔سوئم تحریک عدم اعتماد کی سیاسی چا ل یا سیاسی ہتھیار کو بطور سیاسی کارڈ استعمال کرکے حکومت کو 2022میں عام انتخابات پر مجبور کرنا، چہارم محاز آرائی اور عدم استحکام کی سیاست کو بڑھانا تاکہ حکومت اگلے ڈیڑھ برس انتخابات سے قبل حکومت محاذ آرائی ہی کی سیاست میں الجھی رہے او رکچھ ایسا کام نہ کرسکے جو اسے آنے والے انتخابات کی سیاست میں عوامی محاذ پر کوئی بڑا فائدہ نہ دے سکے۔پنجم حزب اختلاف اپنی سیاست اور میڈیا پر جاری جنگ کی بنیاد پر عوامی رائے عامہ کے طور پر یہ تصور او رزیادہ گہرا ئی کی صورت میں قائم کرنا چاہتی ہے کہ یہ حکومت تاریخ کی ناکام حکومت ہے تاکہ انتخابی معرکہ میں حکومت کو ہر سیاسی او رانتخابی محاذ پر ایک بڑی سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑے۔اسی کو بنیاد بنا کر میڈیا کی مدد سے اس تصور کو بھی حزب اختلاف کی بعض جماعتیں اس بیانیہ کو قائم کرنا کرنا چاہتی ہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ بھی حکومت سے جان چھڑانا چاہتی ہے او رنئے انتخابات میں ہم ہی متبادل قیادت کے طو رپر سیاسی میدان میں موجود ہیں او رہمیں ہی اقتدار ملے گا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں بنیادی طو رپر اپنی تمام تر توجہ نئے انتخابات پر دینا چاہتی ہیں۔ ان کے خیال میں ہمیں اسٹیبلیشمنٹ پر دباؤ ڈال کر نئے انتخابات کی صورت میں اپنے لیے اقتدار کے کھیل میں نئی سیاسی صف بندی کو یقینی بنانا ہے۔مسلم لیگ ن کی توجہ کا مرکز پنجا ب، جے یو آئی خیبر پختونخواہ میں مخصوص اضلاع میں انتخابی میدان میں اپنا سیاسی حصہ جبکہ پیپلزپارٹی سندھ کے بعد بلوچستان اور مرکز میں بننے والی کسی بھی حکومت میں بطور اتحادی کے طو رپر پیش ہونا چاہتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم نعرہ 2023کے انتخابات میں شفافیت کا نعرہ ہے اور اس سے مراد ان کے لیے سیاسی بندر بانٹ میں حصہ داری ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف کی 2023کے انتخابات کو اپنے حق میں کرنے کی حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے۔حزب اختلاف کی جماعتیں ماضی کے سیاسی تجربات کی بنیاد پر یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ اگر ان کو کامیابی ملنی ہے تو یہ کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ان کو طاقت کے مراکز سے سیاسی خوشنودی کا حصول اور حکومت کو ایک بڑ ے سیاسی بوجھ کے طور پر پیش کرنا ہے۔

حزب اختلاف کو اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ نئے انتخابات کا راستہ ہی ان کے لیے بڑی کامیابی بن سکتا ہے کیونکہ اس کے علاوہ جو بھی تبدیلی کا عمل ہے اس میں حزب اختلاف کو فائدہ کم او رنقصان زیادہ ہوسکتا ہے۔اس لیے اس وقت حزب اختلاف کی تمام تر سیاست کا دائرہ کار اور توجہ کا مرکز نئے انتخابات پر ہے او راسی کو بنیاد بنا کر نئی سیاسی صف بندی بھی کی جارہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی مختلف سیاسی حکمت عملیوں پر حکومت کے پاس کیا سیاسی آپشن ہیں۔ جو چیلنجز اس وقت حکمرانی کے بحران، معاشی بدحالی، مہنگائی جیسے اہم امور پر واقعی اگلے کچھ عرصہ میں حکومتی سطح سے عوامی ریلیف دیا جاسکے گا۔حکومت کو دو ہی بڑے چیلنجز ہیں اول معاشی صورتحال او رمہنگائی پر قابو پاکر عام آدمی کو ریلیف دینا، جو ترقیاتی منصوبے ان کے خیال میں ان کو نئے انتخابات میں سیاسی فائدہ دے سکیں گے وہ کیا اگلے ایک برس میں ممکن ہوسکیں گے اور لوگوں میں اپنا اعتماد بحال ہوسکے گا۔ دوئم اسٹیبلیشمنٹ او رحکومت کے درمیان جو بھی مسائل ہیں ان کو کیا وہ بہتر طور پر نمٹ سکیں گے او راس تاثر کی نفی ممکن ہوسکے گی کہ ایک پیچ پر ہونے کا تاثر  ختم ہوگیا ہے۔حکومت کو عملی طور پر حزب اختلاف کی نئی سیاسی صف بندی، ممکنہ اجتجاجی تحریک، لانگ مارچ، تحریک عدم اعتماد اور فوری انتخابات کے مطالبات یا حکمت عملیوں پر ایک مضبوط ومربوط سیاسی حکمت عملی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ کام محض سیاسی نعروں او رنمائشی باتوں سے ممکن نہیں ہوگا او رنہ ہی محاز آرائی کو پیدا کرنا ان کوکوئی بڑی کامیابی دے سکے گا۔ اس کے لیے حکومت اپنی گورننس اور اپنی سیاسی و معاشی ٹیم میں موجود صف بندی میں جو مسائل ہیں ان کو  حل کرنا ا و رکچھ نئی تبدیلیوں کے ساتھ نئی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔لیکن کیا حکومت اپنے حق میں ایسا کچھ کرسکے گی اس پر حکومتی سطح پر زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہے۔