واشنگٹن میں کشمیر کانفرنس اور بڑی قوتوں کی زمہ داریاں

امریکہ میں مقیم کشمیر گلوبل کونسل اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما راجہ مظفر  اور ساتھیوں کی کوششوں اور مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے واشنگٹن میں  وے فارورڈ کے عنوان سے 11 نومبر کو جموں کشمیر پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔

مہمان مقررین میں صدر امریکہ جوبائڈن کے نمائندہ خصوصی خضرخان، امریکی سیاستدان بیورلی ہل اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی،  پروفیسر حمیرہ گوہر، راجہ مظفر، الطاف قادری رفیق کاٹھواڑی، ٹیری میزا ، سید حسن صدر ڈیمو کریٹ مسلم عائشہ خان، ڈیوڈ وولف ، کیرولین کنک،  مونا شہاب، مسز فاطمہ میر، ڈاکٹر ا ریال راجہ، در شہوار، شا بان خان ، سردار محمد حلیم خان ، انجینئر قاسم کھوسو، ظہور احمد وانی ایڈوکیٹ اور ایاز جرال نے خطاب کیا۔

 یہ کانفرنس کسی کی سپانسر کردہ نہیں بلکہ اپنے محدود وسائل کے بل بوتے پر راجہ مظفر صاحب اور ساتھیوں نے آزادانہ طور پر منعقد کروائی۔ راجہ مظفر خان نے اپنے افتتاحی خطاب میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے خطے کی سیاسی ، جغرافیائی اور اقتصادی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے پر امن راستوں کی تلاش پر دعوت خطاب دی۔ تمام مقررین نے ریاست جموں کشمیر کے دیر پا حل کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے غیر ملکی افواج کے انخلا کو ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔   

بیورلی ہل نے انسانی قدروں کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ بڑی قوتوں کو کشمیریوں کو پاؤں تلے کچلنے کا کی اجازت  نہیں دی جاسکتی۔

  بات تو بالکل درست ہے۔ تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا اور اب بھی ہو رہا ہے جو انتہائی قابل افسوس  ہے۔ بڑی قوتوں کا فرض تو یہ بنتا ہے کہ وہ چھوٹے اور کمزور ممالک کو صرف اپنے ساتھ ہی لے کر نہ چلیں بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کریں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں مدد کریں۔  ان کے اندر خود اعتمادی اور سینس آف سیکورٹی پیدا کرنے میں مدد کریں۔ نفسیاتی رو سے انسانی تحفظ باٹم اپ نہیں ٹاپ ڈاؤن ہوتا ہے۔ یعنی بڑوں کو چھوٹوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے لیکن بد قسمتی سے  اکثر بڑی قوتوں کے ٹکراؤ کا شکار چھوٹے ممالک ہی ہوتے ہیں۔ 

چھوٹے ممالک پر قبضہ کر کے یا تو ان کے وسائل لوٹے جاتے ہیں یا پراکسی وار میں مبتلا کر کے تنزلی کا شکار کیا جاتا ہے۔ جبکہ بڑی قوتیں اپنی عوام کے اندر عظیم قوم ہونے کا تاثر پیدا کر کے انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے کرتے نہیں تھکتیں۔  جنوبی ایشیا خاص کر جموں کشمیر بھی اسی قسم کی سوچ و تفاخر کا شکار ہو رہا ہے۔  چین بھارت اور پاکستان خطے میں بڑی قوتوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے بجائے ٹکراؤ کی راہ پر گامزن ہیں۔

واشنگٹن میں کشمیر کانفرنس آزاد بیانیہ کے حامی کشمیریوں کی ایک چھوٹی سی کاوش کا نتیجہ ہے لیکن ہندوستان اور پاکستان کی لابیوں نے اسے بھی ایک دوسرے کی سازش قرار دے کر متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش کی۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی اس کانفرنس میں شرکت پر پاک بھارت میڈیا نے اپنا اپنا رنگ دینے کی کوشش کی لیکن میزبانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنرل درانی کو صرف اس لیے دعوت دی کہ وہ اپنے تجربے کی روشنی میں پاک بھارت کشمیر پالیسی کو غلط قرار دے چکے ہیں۔

 یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہائینڈ سائٹ وہ سیاسی اور نفسیاتی حقیقت ہے جو ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہی آشکار ہوتی ہے۔  سی آئی اے کے سابق سربراہ اور برطانیہ کے وہ سیاستدان جنہوں نے ماضی میں عرب ممالک پر حملوں کی حمایت کی بلکہ سازش کی وہ بھی آج اپنے ضمیر کے آگے مجبور ہو کر مڈل ایسٹ پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں۔  ماضی میں  مسئلہ کشمیر امریکہ اور سوویت یونین کی عالمی پالیسیوں کا شکار ہوا۔  آج بھی اگر ہم نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے آزاد بیانیہ کی حوصلہ افزائی نہ کی تو ہم ایک بار پھر بڑی قوتوں کے ٹکراؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ 

امریکہ ہو یا چین، روس ہو یا برطانیہ، جو بھی ہمارے آزاد بیانیہ کی حمایت کرے گا اسے  خوش آمدید کہنے  کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آزاد بیانیہ کے حامی ریاستی باشندے کسی کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کو دوست نہیں بلکہ بھائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ دوست کاانتخاب کیا جاتا ہے جبکہ بھائی کا رشتہ فطری ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ترکی اور چین کا پاکستان کے نسبت بھارت کے ساتھ بڑا کاروبار ہے۔ لہذا ریاست جموں کشمیر کی اگر کوئی سفارتی حمایت کرے تو  قابضین کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔