خدشہ ہے گیس کی قلت برآمدات کی نمو کو سست کردے گی: عبدالرزاق داؤد

  • جمعرات 18 / نومبر / 2021
  • 3180

وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس، ٹیکسٹائل، صنعت اور پیداوار عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ وہ پریشان ہیں کہ گیس کی جاری قلت دسمبر اور اس کے بعد برآمدات کی ترقی کی رفتار کو کم کر سکتی ہے۔

 کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جہاں کمبائنڈ سائیکل کیپٹیو پاور پلانٹس ہیں، کو بلاتعطل گیس کی فراہمی جاری رہے گی۔ یہ وہ موثر پاور پلانٹس ہیں جو گیس ٹربائن سے پیدا ہونے والی حرارت کو ایک الگ سٹیم ٹربائن تک پہنچاتے ہیں جو اضافی بجلی پیدا کرتی ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے بتایا کہ صنعتی یونٹ جو سادہ سائیکل کیپٹیو پاور پلانٹس کو صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں گیس کی فراہمی میں ’کچھ‘ کمی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن کمی کی حد سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ 21-2020 میں اشیا کی برآمدات 25.3 ارب ڈالر رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 18.3 فیصد زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا انہوں نے اکتوبر میں 2.4 بلین ڈالر حاصل کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہیں ہم 22-2021 میں 38.7 ارب کی کل برآمدات کی توقع کر رہے ہیں، جس میں سروسز کا حصہ 7.5 ارب ڈالر ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر تجارت نے کہا کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے برآمدی ہدف 20 ارب ڈالر ہےجبکہ ملک رواں مالی سال میں اب تک ’بالکل ہدف پر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت آئی ٹی سیکٹر کی کل برآمدات میں 30 فیصد اضافے کی امیدیں لگا رہی ہے، رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں آئی ٹی کی برآمدات میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔