مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کی مذمت
- جمعرات 18 / نومبر / 2021
- 3620
پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کولگام میں 5 کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق بھارتی قابض افواج نے یکم اکتوبر سے اب تک جعلی مقابلوں یا نام نہاد ’سرچ آپریشنز‘ میں کم از کم 30 کشمیریوں کو جاں بحق کردیا ہے۔ کولگام میں پیش آنے والے واقعے پر دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بے شرمی سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ’ہندوتوا‘ سے متاثر انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی ، آر ایس ایس گٹھ جوڑ کے ذریعے کیے جانے والے ناقابل بیان تشدد کو بے نقاب کرتا ہے جس نے مقبوضہ وادی کو ایک آتش فشاں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین، بچے اور بزرگوں سمیت کوئی معصوم شہری بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے کئی واقعات میں جاں بحق کشمیریوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے کا غیر انسانی اور ظالمانہ عمل بھی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خاندانوں کو مقتولین کی مناسب تدفین کے حق سے محروم کرکے ان کے بنیادی حقوق غصب کرنا بھارتی حکومت کے اخلاقی دیوالیہ پن کو مزید بے نقاب کرتا ہے۔
بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری شہریوں کی ہلاکتیں ان ناقابل تردید حقائق کی بھی توثیق کرتی ہیں جس کے بارے میں پاکستان کی جانب سے حال ہی میں ایک جامع ڈوزیئر فراہم کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لے اور معصوم کشمیریوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے نئی دہلی کو جوابدہ ٹھہرائے۔