ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کو رہا کر دیا گیا

  • جمعرات 18 / نومبر / 2021
  • 4040

پنجاب پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو سات ماہ بعد رہا کر دیا ہے۔

سعد حسین رضوی کو لاہور کوٹ لکھ پت جیل سے بدھ کی شام رہا کیا گیا جس کے بعد وہ ملتان روڈ کے علاقے چوک یتیم خانہ کے قریب مسجد رحمت للعالمین پہنچے جہاں ٹی ایل پی کے کارکنوں نے اُن کا استقبال کیا۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سعد رضوی کو حکومت اور ٹی ایل پی کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت رہائی ملی ہے۔

سعد رضوی اپنے والد مولانا خادم حسین رضوی کے جمعے سے شروع ہونے والے عرس کی تقریبات میں شریک ہوں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعت قرار دیا تھا اور سعد حسین رضوی کا نام کالعدم افراد کی فہرست میں شامل کر دیا تھا۔

حکومتی اقدام کے خلاف ٹی ایل پی کے کارکنوں نے 19 اکتوبر کو یتیم خانہ چوک پر دھرنا دیا جو بعد ازاں اسلام آباد کی طرف مارچ میں بدل گیا۔ ٹی ایل پی کی پیش قدمی روکنے کے لیے پولیس اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کے سات اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

کشیدگی بڑھنے کے بعد حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی کو کالعدم جماعت کی فہرست سے نکالا گیا، گرفتار کارکنوں کو رہائی ملی اور سعد رضوی کی رہائی بھی عمل میں آئی۔ ٹی ایل پی کے تمام منجمند اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں اور اب پارٹی کے ذمے داران اپنے اکاؤنٹس سے رقوم نکلوا یا جمع کرا سکتے ہیں۔

حکومتی نوٹیفکیشن کو انسداد دہشت گردی کے ادارے 'نیکٹا' کو بھی بھیجا گیا تھا تاکہ کالعدم جماعتوں کی فہرست میں 79 نمبر پر موجود اس جماعت کا نام نکالا جا سکے۔​

فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور سعد رضوی کی رہائی کے معاملے پر 12 ربیع الاول کو لاہور میں ٹی ایل پی کے مرکز پر شروع ہونے والا میلاد کا اجتماع میلاد کے بعد احتجاج کا اجتماع بن گیا تھا اور مرکزی قائدین نے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا۔