مظلوم بچوں کے خون کا سودا کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 18 / نومبر / 2021
- 5250
میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ اے پی سی کیس کی گزشتہ روز سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا ہے، تین صفحات پر مشتمل حکمنامہ جناب چیف جسٹس نے قلمبند کیا ہے، جس میں کہا گیاہے کہ سانحہ میں مرنے والے بچوں کے والدین کئی اہم افراد کو اس کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔
20اکتوبر کے عدالتی حکمنامہ کو ری پروڈیوس کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ وزیراعظم نے عدالت میں پیش ہو کرکہا ہے کہ انہوں نے 20 اکتوبر کے حکمنامے کا مطالعہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہےاور غم زدہ والدین کی داد رسی کیلئے ذمہ داران اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام افراد کو قانون کے مطابق ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ یہ ساری مشق چار ہفتوں کے اندر مکمل کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وزیراعظم کے دستخطوں سے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
آئندہ سماعت پر وزیراعظم کے دستخطوں سے عملدرآمد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے بھی عدالت میں صاف صاف بیان کہا ہے کہ وفاقی حکومت اسی قتل و غارت کے موقع پر اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے گی۔ یہ بھی کہا گیاہے کہ بچوں کے والدین اپنےبچوں کی اموات کوقبول و برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور اپنے فرائض میں کوتاہی کرنے والوں کو ان اموات کا ذمہ دار سمجھتے ہیں جن کی نشاندہی 20 اکتوبر کے حکمنامے میں کی گئی ہے۔ پچھلے دنوں جب اٹارنی جنرل اس حوالے سے سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے سے قاصر رہے تو عدالت عظمیٰ نے براہ راست چیف ایگزیکٹو کی طلبی کا حکمنامہ جاری کیا جس پر ان کی پیشی ہوئی اور جو سوالات و جوابات ہوئے وہ سب میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔
عدالت نے صاف لفظوں میں واضح کیا کہ آپ جس کرسی پر براجمان ہیں اس حوالے سے یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ کارروائی کرتے ہوئے مظلوم بچوں کے والدین اور عدالت کو مطمئن کریں۔ جب 20 اکتوبر کے حکمنامہ میں سپریم کورٹ مقتول بچوں کے والدین کی درخواست پر ان شخصیات کے اسمائے گر امی واضح کر چکی ہے تویہاں بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ ان میں اس وقت کے وفاقی وزیرداخلہ کے علاوہ کے پی حکومت کے چیف ایگزیکٹو، سابق آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سابق چیف اور اس وقت کے کور کمانڈر پشاور کی نشاندہی کرتے ہوئے ایف آئی آر کاٹنے کی استدعا کی گئی ہے۔
پاکستان ایک آئینی ریاست ہے تو آئین کی نظر میں تمام شہری برابر کی حیثیت کے مالک ہیں لہٰذا کوئی چھوٹے عہدے پر رہاہے یا بڑے عہدے پر ، سپریم کورٹ آئینی عدالت کی حیثیت سے یہ استحقاق رکھتی ہے کہ وہ وفاق کی نمائندگی کرنے والے سے یہ پوچھے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے وہ کیا اہتمام کر رہی ہے۔ یوں بے دردی و سفاکی سے قتل کیے جانے والے معصوم بچوں کی مائیں جن آہوں کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے سامنے رو رو کر فریاد کر رہی ہیں، 22کروڑ عوام میں سے کون ہے جس کا دل پسیج نہ جائے جس کا ضمیر و شعور اسے اس بات پر نہ اکسائے کہ اس ظلم کے مرتکبین یا کوتاہی کے ذمہ داران کو بھی کیفر کردار تک پہچایا جانا چاہیے۔
ان دکھیاری ماؤں کی آہوں میں کتنا درد ہے کہ ہم نے اپنے پھولوں کو سکول تعلیم کے لئے بھیجا تھا کسی محاذ جنگ پر نہیں بھیجا تھا جو شہید شہید کی نعرے بازی میں ان کے جگر گوشوں کی آہوں کو دبا دیا جائے۔ اس وقت درویش کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں، جب ایک دکھی ماں رندھی ہوئی آواز میں بتا رہی تھی کہ ہم سب مائیں جب اس وقت کے کور کمانڈر پشاور کے پاس انصاف کے لئے حاضر ہوئیں تو وہ بولے یہاں اوربھی بہت شہید ہیں۔ اگر آپ کے بچے شہید ہو گئے ہیں تو اور بچے پیدا کر لو۔
یہ زخموں پر نمک چھڑکنے والا فقرہ اتنا تکلیف دہ ہے جس کی اذیت سے بے خبر کوئی جانور ہی ہو سکتا ہے۔ کیا انسانی جان، محبت شفقت اور مامتا کا کوئی نعم البدل ہو سکتا ہے؟ اگر ان نوعمر بچوں کے متعلق اس نوع کا اظہار کیا جائے تو جنم دینے اور پالنے پوسنے والی ماؤں کے کلیجے پھٹ نہیں جائیں گے کیا؟ مرنے کو تو سینکڑوں ہزاروں لوگ دنیا میں روزانہ مرتے ہیں لیکن جن کا جاتا ہے کوئی سفاک ہی ہوگا جو ان کے درد کو سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
آج لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس دہشت گرد گروہ کے ترجمان احسان اللہ احسان کو جب پکڑ لیا گیا تھا اور اسے میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا گیا تو پھر وہ غائب کیسے ہوا؟ کیوں کر ہوا؟ اس کو چھڑوانے یا بھگانے کے ذمہ داران کا تعین کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ اس شخص نے جب اس نوع کا اظہار خیال بھی کیا کہ اس میں فلاں فلاں لوگ ملوث ہیں اس نوع کی باتیں بھی آئیں کہ مابعد کئی زخمی بچوں کو دوبارہ حملہ کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ اس نوع کے بیانات بھی سامنے آئے کہ یہ سب ہم نے عظیم ہستی کی اتباع میں کیاہے۔ ان کی بلوغت ہم نے زیر ناف بالوں سے جانچی جیسے کہ بنو قریظہ کے یہودی بچوں کے ساتھ کیا گیا وغیرہ۔
اس درد ناک سانحہ کو گزرے اب سات سال ہو رہے ہیں، 16 دسمبر 2014 کو یہ قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس دوران کے پی میں پیہم اس پارٹی کی حکومت چلی آ رہی ہے جو گزشتہ تین برسوں سے وفاق میں بھی براجمان ہے اس حکومت کے چیف خود بھی اے پی سی سکول میں جائے واردات ملاحظہ کر چکے ہیں اور انصاف کی یقین دہانیاں بھی کروا چکے ہیں مگر ہوا کیا ہے؟ آج ان مظلوم مقتول بچوں کی مائیں رو رہی ہیں کہ یہ شخص کیا سکول میں محض وزٹ ڈالنے اور تصاویر بنوانے آیا تھا۔ کیا پلٹ کر کسی نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ہماری فریاد سنی الٹی پورے میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ سکول میں ان مرنے والے نونہالوں کے قاتلوں سے یہ حکومت مذاکرات کر رہی ہے۔ ان سے صلح کرتے ہوئے این آر او کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس طرح پنجاب میں پولیس کے 9 شہیدوں کے خون کا سودا کر لیا گیا ہے۔
اس طرح کے پی میں بھی قاتلوں کو معافی نامے تفویض کئے جانے کی تیاریاں مکمل ہیں، تحریک انصاف کا اگر یہی انصاف ہے تو پھر ظلم و بے انصافی کیا ہے؟