صحافیوں کے تحفظ کا بل، نیب ترمیمی آرڈیننس سینیٹ سے بھی منظور، اپوزیشن کا احتجاج

  • جمعہ 19 / نومبر / 2021
  • 3450

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی صحافیوں کے تحفظ اور قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔

سینیٹ اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کا بل وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری جبکہ نیب ترمیمی آرڈیننس وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے بطور ضمنی ایجنڈا پیش کیا۔ بل پیش کرنے کے ساتھ ہی حکومتی اراکین نے ان پرفوری ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن نے بلز کو ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جانے پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ بل کو بحث کے لیے قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ بل کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگا ہے اس بل پر ابھی ووٹنگ کرائی جائے۔

اپوزیشن اراکین احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے قریب پہنچے اور نعرے بازی کی۔ تاہم چیئرمین سینیٹ نے دونوں بلز پر ووٹنگ کرائی جس میں دلاور خان گروپ نے حکومت کو ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں دونوں بلز ایوان سے منظور ہوگئے۔

بل کی منظوری پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا اراکین کے تحفظ کا جامع قانون فراہم کرنے کے 2 سال کی جدو جہد کے بعد بالآخر یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوگیا جس کا مسودہ صحافتی تنظیموں کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بل اکثریتی ووٹ کے ساتھ قومی اسمبلی سے بھی منظور ہوگیا اور اب صدر کے دستخط کے بعد قانون بن جائے گا۔ انہوں نے قابل قدر تجاویز اور حمایت پر صحافیوں اور میڈیا اراکین کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ بل کا مسودہ اتفاق رائے سے تیار کیا گیا تھا۔

بل کے آغاز میں کہا گیا کہ حکومت آئین کی دفعہ 9 کے مطابق ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کے حقِ زندگی اور شخصی سلامتی کو یقینی بنائے گی اور ایسے کسی شخص کو ناروا سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے۔

سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے دفتر سے کہا گیا تھا کہ تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو جائیں گے لیکن بلز بلڈوز کئے گئے اور کمیٹیوں میں نہیں بھیجے گئے۔ ایسا ہی ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن( ایچ ای سی) سے متعلق بل کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ سینیٹ کی بچی کچی ساکھ آج اس وقت تباہ ہو گئی جب حکومت نے جمعہ کی دوپہر 12.35 بجے نماز کے وقت ایک ضمنی ایجنڈا پیش کیا۔ اس وقت اراکین نمازِ جمعہ کے لیے ایوان سے روانہ ہوچکے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بل پیش کیے بغیر حکومتی اراکین کو نیب بل بلڈوز کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

شیری رحمٰن نے انتباہ دیا کہ آج کے بعد سینیٹ بھی نہیں چلے گی، آج ایک اور یوم سیاہ کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت صوبوں کو بولنے اور سانس لینے کی اجازت دینے کو تیار نہیں، نہ ہی پاکستان کی خودمختاری متعلق ہمیں سوالات پوچھنے کا حق دے رہی ہے۔ چاہے وہ آئی ایم ایف کے بارے میں ہوں یا معافی کے معاہدوں کے بارے میں۔

صحافیوں کے تحفظ کے بل میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا کوئی ایسا شخص ہوگا جو قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے معاملات کی خاصی معلومات اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔

مجوزہ قانون ’جبری یا رضاکارانہ گمشدگی، اغوا، قید یا دباؤ کے دیگر طریقوں‘ کے خلاف تحفظ کو یقینی بنائے گا اور ملک میں تنازع کا شکار علاقوں میں کسی دھمکی، ہراسانی یا حملے کے خوف کے بغیر صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کی ضمانت دے گا۔ وزارت انسانی حقوق اور اطلاعات و نشریات نے صحافیوں کی بہبود کے لیے اسکیم اور معاندانہ ماحول میں کام کرنے کے لیے ان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر صحافیوں کو صحت اور سیفٹی پروٹوکول کے ساتھ تربیت دینے کی تجویز دی ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ بالا دونوں بلز 8 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور ہوئے تھے تاہم حکومت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ان کی منظوری مؤخر کردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کا کیا ان کو امریکا کے حوالے کرنے والے ذمہ داروں کا تعین ہوا ؟ جنہوں نے ان کو اور دیگر پاکستانیوں کو فروخت کیا ان کا حکومت پاکستان نے کیا محاسبہ کیا؟ پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو فروخت کیا۔

اس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ بہت ظلم ہوا کہ لوگوں کو فروخت کیا گیا ،سینیٹر مشتاق آج ہمیں لکچر دے رہے ہیں ،پرویز مشرف نے لوگوں کو باہر بھیجا لیکن آپ کے تعاون سے بھیجا گیا تھا۔