بھارت میں حکومت نے متنازع زرعی قوانین واپس لے لئے

  • جمعہ 19 / نومبر / 2021
  • 3370

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن تین متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے جن کے خلاف گزشتہ ایک سال سے ملک میں کسان احتجاج کر رہے تھے۔

یونائیٹڈ کسان مورچہ نے نریندر مودی کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فوری طور پر ختم نہیں کریں گے اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے اس اعلان پر عملدرآمد ہونے کا انتظار کریں گے۔ کسانوں کی تحریک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ انڈیا میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری کسانوں کی جدوجہد کی ایک تاریخی فتح ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعے کو قوم سے خطاب میں متنازع زرعی قوانین واپس لینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج میں پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہینے کے اواخر میں شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں ہم ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا آئینی عمل مکمل کریں گے۔

واضح رہے کہ پنجاب، ہریانہ، اُترپردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسان ان متنازع قوانین کے خلاف گزشتہ ایک سال سے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ کسانوں کا موقف تھا کہ انڈیا کی حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کروائے جانے والے ان قوانین کی منظوری کے بعد زراعت کے شعبے میں نجی سیکٹر کے افراد اور کمپنیوں کے داخلے کا راستہ کھل جائے گا جس سے ان کی آمدن متاثر ہو گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ان قوانین کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کسانوں بالخصوص چھوٹے کسانوں کی فلاح اور شعبہ زراعت کے مفاد میں دیہی علاقوں اور غریبوں کے بہتر مستقبل کے لیے پوری نیک نیتی کے ساتھ یہ قوانین لے کر آئی تھی۔ ہم اپنی کوششوں کے باوجود کسانوں کو ان قوانین کے بارے میں صحیح سے سمجھا نہیں سکے۔ اس بات سے قطع نظر کہ زرعی ماہرین، ماہر اقتصادیات اور ترقی پسند کسانوں نے بھی انہیں ان قوانین کی افادیت کے بارے میں سمجھانے کی پوری کوشش کی۔ یہ قوانین کسانوں کے حالات بہتر کرنے کے لیے متعارف کروائے گئے تھے۔

کسانوں کے ایک رہنما یوگیندر یادو نے تینوں قوانین واپس لیے جانے کے فیصلے کو ‘کسانوں کی تاریخی جیت‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے یہ واضح ہے کہ کسانوں کو اس ملک میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کسانوں کی نمائندہ تنظیم ’متحدہ کسان مورچہ‘ نے وزیر اعظم مودی کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنا احتجاج فی الفور ختم نہیں کریں گے۔ ایک تحریری بیان میں متحدہ کسان مورچہ نے کہا ہے کہ ان کا احتجاج صرف نئے زرعی قوانین کے حوالے سے نہیں تھا بلکہ حکومت سے فصلوں کی کم از کم قیمت کی قانونی ضمانت پر بھی بات کی گئی تھی جس کے حوالے سے فی الحال کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی ہے۔