پاکستانی حکومت اور ریاست انتہا پسندی کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتی
- جمعہ 19 / نومبر / 2021
- 3910
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کی بڑی وجہ مدارس نہیں بلکہ اسکول اور کالجز ہیں۔ کیوں کہ 80 اور 90کی دہائی میں منصوبے کے تحت ایسے اساتذہ بھرتی کیے گئے جو انتہاپسندی کی تعلیم دیتے تھے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان تو صوفیوں کی دھرتی تھی اور اس طرح کی مذہبی شدت پسندی ہمارے علاقوں میں نہیں بلکہ ان علاقوں میں زیادہ تھی جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف سیاسی وجوہات کی بنا پر ایسے عناصر پیدا کیے جس کے نتیجے میں پاکستان ایک بڑے خطرے سے دوچار ہے۔ حکومت یا ریاست انتہاپسندی سے لڑنے کے لیے اتنی تیار نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے۔ تحریک لبیک پاکستان کے کیس میں بھی ہم نے دیکھا ہے ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا اور یہ خطرے کا ایسا بم ہے جو ٹک ٹک بج رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی بڑی وجہ مدارس ہرگز نہیں ہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی وجہ اسکول اور کالجز ہیں جہاں 80 اور 90کی دہائی میں منصوبے کے تحت ایسے اساتذہ بھرتی کیے گئے جو انتہاپسندی کی تعلیم دیتے تھے۔ تمام بڑے واقعات مدارس کے طلبہ نے نہیں بلکہ عام اسکولوں سے پڑھے ہوئے لوگوں نے کیے۔ اگر آپ ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جس میں دوسرا نقطہ نظر کفر قرار دے دیا جائے، جنم کی بشارت دے دی جائے تو اختلاف رائے کیسے اس معاشرے کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک لمبی لڑائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست جب تک اپنی رٹ قائم نہ کر سکے، لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت نہ کر سکے، کئی بڑے دانشور اور علما پاکستان میں قدم نہیں رکھ سکتے، جاوید غامدی امریکا میں بیٹھے ہوئے ہیں، جب ہم دوسرا نقطہ نظر سامنے ہی نہیں رکھیں گے تو تبدیلی کیسے آئے گی۔ جو بھی شخص حضرت محمدﷺ کی زندگی سے تھوڑا بھی واقف ہے تو وہ شدت پسندی کیسے اختیار کر سکتا ہے؟ اسلام کی تمام تر تعلیمات توازن پر ہیں، مسئلہ اسلام یا کسی مذہب کی تعلیمات کا نہیں بلکہ ان تعلیمات کی تشریح کرنے والوں کا ہے کیونکہ وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کی تعبیر کیا ہوگی۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے قانون کی عملداری کے برطانوی نظام کو بھی تباہ کردیا اور ہم اس کا متبادل بھی فراہم نہیں کر سکے۔ ریاست کا کام صرف قانون کا نفاذ ہونا چاہیے اور جو ریاست قانون کا نفاذ نہ کر سکے تو اس کی بقا پر سوالیہ نشان لگ جائے گا کیونکہ آپ بتدریج خانہ جنگی کی طرف قدم بڑھاتے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے نقطہ نظر کو معاشرے کو خود ٹھیک کرنا ہے۔ ہر شخص کو اپنا نقطہ نظر رکھنے کی آزادی ہے لیکن اس کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے نقطہ نظر کو منوانے کے لیے حکومت پر بندوق لے کر چڑھ دوڑے۔
انہوں کہا کہ اگر ریاست کمزور ہو جائے اور شدت پسند گروپ یہ موقف اپنائیں کہ آپ ہمارے نقطہ نظر کے سوا کوئی اور نقطہ نظر کہہ ہی نہیں سکتے تو پھر یہاں مسئلہ ہے۔ جب تک ہم قانون کی عملداری کو یقینی نہیں بنائیں گے تو اس وقت تک انتہا پسندی میں تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔