ہریانہ میں انتہاپسندوں کے احتجاج پر مسلمانوں کو گوردوارے میں نماز ادا کرنے کی پیش کش
- ہفتہ 20 / نومبر / 2021
- 6610
بھارت کی ریاست ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں ہندو انتہاپسندوں کے احتجاج کے بعد انتظامیہ نے مسلمانوں کو مختلف مقامات پر نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔ تاہم سکھ تنظیم نے گوردوارے میں نماز ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق گروگرام میں چند دن پہلے ایک ہندو شہری نے مسلمانوں کو ان کی زمین میں نماز جمعہ ادا کرنے کی پیش کش کی تھی اور اب سکھ برادری نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گوردوارے کے دروازے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ گوردوارا سنگھ سبھا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام برادریوں کو یہاں عبادت کے لیے خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اگر مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا ہے تو پھر نماز کے لیے گوردوارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
گوردوارا سنگھ سبھا کی کمیٹی کے زیرانتظام 4 بڑے احاطے اور ایک گرودوارہ شامل ہے۔ ہیمکونٹ فاؤنڈیشن کے ہرتیراتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ‘گڑگاؤں کا صدر بازار گوردوارا اب ہمارے مسلمان بھائیوں کو پانچ وقت نماز کے لیے کھلا ہوا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام شہر میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔
شہر میں قائم سونا چوک گوردوارے کے دروازے بھی کھول دیے گئے ہیں۔ سونا چوک گوردوارا کے صدر شیردل سنگھ سندھو نے اسکرول کو بتایا کہ سونا چوک گرودوارہ ریاست ہریانہ کی پرانی عبادت گاہ ہے اور جو حالات پیش آرہے ہیں ان کو ہم روک نہیں سکتے۔
رپورٹ کے مطابق گڑگاؤں میں 3 نومبر کو مقامی افراد اور ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن سے منسلک کئی افراد نے شکایت کی تھی اور مسلمانوں کو 8 مختلف مقامات پر نماز ادا کرنے کی اجازت منسوخ کردی گئی تھی۔ شہر کے ڈپٹی کمشنر نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس کا مقصد نماز کے لیے مقامات کی نشان دہی کرنا تھا۔ اس کمیٹی میں شامل سب ڈویژنل مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، مسلمانوں اور ہندووں کی تنظمیوں کے اراکین اور دیگر سماجی تنظمیوں کے نمائندے شامل کیے گئے تھے۔
دوسری جانب انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کے لیے اجازت دینے کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔ ہریانہ کے وزیرداخلہ انیل ویج نے 7 نومبر کو بتایا تھا کہ ہرکوئی اپنی عبادت اندر کریں اور اس طرح کھلے مقامات میں بغیر اجازت نماز پڑھنے سےگریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو اپنی مذہبی عبادات اپنے مذہبی مقامات کےاندر ادا کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سے ہندو قوم پرستوں کی جانب سے بھارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے کھلے مقامات پر نماز جمعہ کے اجتماعات کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تاہم انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
گزشتہ ماہ بھارت کی ریاست آسام میں مسلمانوں کے خلاف جاری منظم تشدد اور قتل و غارت گری کے خلاف مختلف مشرق وسطی ممالک میں ہندوستانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی تھی۔