دفتر خارجہ نے تابکار مواد کی ضبطی سے متعلق بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
- اتوار 21 / نومبر / 2021
- 3270
دفتر خارجہ نے کراچی سے آنے والے ایک بحری جہاز سے قبضے میں لیے گئے ممکنہ تابکارمواد کی ضبطی کے بارے میں بھارتی دعویٰ مسترد کردیا ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جہاز میں وہ خالی کنٹینرز تھے جنہیں پہلے کے2 اور کے3 نیوکلئیر پاور پلانٹس کو ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی ممکنہ تابکارمواد کی ضبطی بارے رپورٹس خلاف حقیقت، بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوبدنام اوربین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی روایتی چال بازی ہے۔
خیال رہے کہ مندر پورٹ پر بھارتی حکام نے چین کے شہر شنگھائی جانے والے متعدد کنٹینرز جہاز سے اتار لیے تھے۔ پورٹ کا انتظام سنبھالنے والی بھارتی کمپنی ادامی پورٹس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ کسٹمز اور ڈی آر آئی کی ایک مشترکہ ٹیم نے مندرا پورٹ ایک غیر ملکی بحری جہاز سے غیر اعلانیہ خطرناک کارگو کے شبے پر متعدد کنٹینرز ضبط کر لیے۔
بھارتی کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ کارگو کو دستاویزات میں بے ضرر کے طور پر درج کیا گیا تھا حالانکہ ضبط کیے گئے کنٹینرز پر خطرے کے ساتویں درجے کے نشانات تھے جو تابکار مواد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے حکام نے کارگو کو مزید معائنے کے لیے جہاز سے اتار لیا۔
وضاحتی بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کراچی نیوکلئیرپاورپلانٹ کے حکام نے مطلع کیا ہے کہ یہ چین کو واپس کیے جانے والے وہ خالی کنٹینرز تھے جسے پہلے کے2اور کے3 نیوکلئیر پاورپلانٹس کے لیے ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال میں لایا گیا تھا۔ کے2 اور کے3 نیوکلئیر پاور پلانٹس میں بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کے تحت جوہری توانائی کی ایندھن کا استعمال کیاجاتا ہے جو مارچ 2017 سے آئی اے ای اے کے حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں۔
دستاویزات میں کارگو کے غلط ڈیکلریشین کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کنٹینرز خالی ہونے کی وجہ سے کارگو کو درست طور پر بے ضرر قرار دیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کی فیک رپورٹس بدنیتی پرمبنی ہیں تاکہ جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کوبدنام کیا جاسکے۔