ملک میں بدعنوانی کی بنیادی وجہ ہے: شاہد خاقان عباسی
- اتوار 21 / نومبر / 2021
- 3060
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو سیاستدان ٹیکس ادا نہیں کرتے دراصل وہ کرپٹ ہیں۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کسی بھی شہری کو 7 سال کا مالی کھاتہ برقرار رکھنے کا کہتا ہے جبکہ مجھ سے 35 سال کا ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ حقیقتاً احتساب چاہتے ہیں تو میں اس کے لیے حاضر ہوں لیکن قومی احتساب بیورو (نیب) ’احتساب‘ نہیں ہے، آپ جو بھی نیب کو نام دیں لیکن وہ احتساب کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں کا احتساب بہت آسان ہے جو ٹیکس قانونی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اگر سیاستدان کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی اور اراضی رکھتا ہے لیکن وہ ٹیکس ادا نہیں کرتا تو وہ کرپٹ ہے لیکن کوئی بھی اس سمت میں نہیں سوچ رہا۔ جن لوگوں نے احتساب کے قوانین بنائے وہ ان پر لاگو نہیں ہوتے۔ لوگ اپنی وفا داریاں تبدیل کرتے ہیں اور احتساب سے بچ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے دوران کوئی بیروکریٹک کام نہیں کررہا، نیب کا تفتیشی افسر سیکریٹری کے سامنے دو پیپر رکھتا ہے کہ ایک وارنٹ ہوتا ہے اور دوسرا متعلقہ وزیر کے خلاف مالی کھاتوں میں تصدیق کا پیپر ہوتا ہے۔ نیب کبھی بھی اقتدار میں موجود طاقتور طبقے کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ 80 فیصد سے زیادہ سیاستدان قومی خزانے کی دولت میں براہ راست مداخلت نہیں کرتے۔ گورننس کی ناکامی کی بڑی وجہ نیب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب کے الزامات کے بعد متاثرہ شخص کی ساکھ خراب ہوجاتی ہے، وہ کاروبار نہیں کرپاتا اور وہ بینک سے لون نہیں لے سکتا، محض الزام کی بنیاد پر اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا آپ نواز شریف کے خلاف دائر مقدمات کے فیصلوں کو دنیا کی کسی عدالت میں دلائل کا حصہ بنا سکتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت بھی جان لیں کہ نیب نے 21 برس میں صرف ایک سیاستدان کے خلاف عدالتی فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، تو سوال ہوتا ہے کہ دیگر لوگ کہاں ہیں؟ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے دیگر لوگ کدھر ہیں؟وہ ہر حکومت میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کہنا تھا کہ اتفاق رائے سے ہی نیب کے قوانین میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب احتساب کا نہیں ایک سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ بن چکا ہے۔ کوئی 50 کروڑ کے گھر اور 6 کروڑ کی گاڑی میں پھرتا ہے تو اس سے پوچھیں کتنا ٹیکس دیا ہے، یہاں کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔ ہم نے ترامیم دیں کہ جج بنانے سے پہلے اس کے 10 سال کے ٹیکس ریٹرن دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا لیکن میں عدالتوں کے چکر لگا رہا ہوں۔ آج ہم اپنے تمام ہمسایوں سے معاشی طور پر پیچھے ہیں، آج برسرِ اقتدار کسی ایک شخص کے خلاف نیب نے کوئی کیس نہیں بنایا۔
سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب کے قوانین باہمی مشاورت سے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔