سٹیزن پورٹل پر جعلسازی میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کا حکم
- اتوار 21 / نومبر / 2021
- 2750
وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ان سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی جائے جو پاکستان سٹیزن پورٹل پر جعلی شکایات رجسٹر کروانے میں ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ سٹیزن پورٹل پر عوام کی شکایات کی خود نگرانی کرتے ہیں۔ عوامی شکایات کے ازالے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوامی شکایات کے ازالے کی جعلی رپورٹس دینے والے افسران کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
پرائم منسٹر ڈیلیوری یونٹ نے جعلی شکایات کے حوالے سے 254 افسران کے ڈیش بورڈز پر تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی ہے۔ یونٹ نے پنجاب میں 154، خیبرپختونخوا میں 86، سندھ میں تین اور وفاقی حکومت کے 11 افسران کے ڈیش بورڈز کی چھان بین کی۔
چھان بین میں ظاہر ہوا کہ پنجاب میں 44 افسران جعلی شکایتیں درج کروانے میں ملوث پائے گئے ہیں جن کے خلاف صوبائی چیف سیکریٹری ایکشن لے چکے ہیں۔ جن افسران کے خلاف ایکشن لیا گیا ان میں سے 3 افسران کو ملازمت سے برطرف، 7 کو معطل اور 2 کو ان کے عہدے سے ٹرانسفر کردیا گیا۔
پنجاب میں انسپکٹر جنرل پولیس نے 45 افسران کے خلاف ایکشن لیا۔ خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری نے 39 افسران کے خلاف ایکشن لیا اور جعلسازی میں ملوث افسران کو عہدے سے برطرف کردیا جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس نے 10 افسران کے خلاف ایکشن لیا۔ سندھ میں انسپکٹر جنرل پولیس نے جعلسازی میں ملوث 3 افسران کے خلاف ایکشن لیا۔
وزیر اعظم نے تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور آئی جی پیز کو عوامی شکایات میں جعلسازی میں ملوث افسران کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتنے کی ہدایات کی جاری کی ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سٹیزن پورٹل پر ایک شخص نے نیشنل ہائی وے اور موٹروے پولیس کے خلاف 12 شکایات درج کیں اور بعد میں ڈپارٹمنٹ کی تعریف اور اطمینان کا اظہار کیا۔
پرائم منسٹر ڈیلیوری یونٹ نے تجویز دی ہے کہ جعلی شکایات درج کروانے والی آئی ڈیز کو مکمل طور پر بلاک کردیا جائے اور عوامی رائے کے بارے میں پیدا ہونے والےغلط تاثر کے حوالے سے تمام متعلقہ افراد سے وضاحت طلب کی جائے۔