آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پیٹرولیم کی قیمت بڑھانی پڑے گی: شوکت ترین
- سوموار 22 / نومبر / 2021
- 4320
مشیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر ملیں گے جبکہ پیٹرولیم لیوی میں ماہانہ 4 روپے اضافہ سمیت 5 اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔
اسلام آبادمیں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ہے۔ آئی ایم کے ساتھ تبادلہ خیال ہو رہا تھا لیکن یہ ایک اسٹاف معاہدہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا ہے، چھٹے جائزہ اجلاس کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر دے گا، جس کے بعد مجموعی 3 ارب ڈالر ہوجائیں گے جو انہوں نے ہمیں دیے ہیں۔
آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔ جی ایس ٹی پر استثنیٰ ختم کیا جائے گا، پیٹرولیم لیوی ہر مہینے 4 روپے بڑھیں گے، اسٹیٹ بینک قانون میں ترمیم کی جائے گی، کووڈ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش کرنا ہوگی اور کووڈ اخراجات کی بینیفشل اونرشپ بتانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کے بعد ایشائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک سے بھی وسائل ملیں گے۔ آئی ایم ایف نے ایک طرح سے تسلیم کیا ہے کہ کووڈ کے باوجود حکومت پاکستان کی معاشی ترقی جاری ہے اور اصلاحات کے ایجنڈے پر کامیابی سے عمل کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ میں ایڈجسٹمنٹ، ٹیکس کے نظام میں بہتری، اخراجات میں احتیاط اور مالیاتی نظم و ضبط وہ چند اہم اقدامات ہیں جن سے ملک کو ٹھوس معاشی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ چند اقدامات ہیں جن کو انہوں تسلیم کیا ہے کہ ہم بنیادی طور پر درست سمت پر ہیں۔ درمیانی سے طویل مدت کی پالیسی اصلاحات پر زور دیا ہے کہ جو خرابیاں ہیں وہ دور ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے بیرونی اکاؤنٹ پر دباؤ ہے اس لیے اسٹیٹ بینک کو وقت پر اقدامات کرنے چاہیئں۔ پاکستان اس وقت بین الاقوامی سطح پر آنے والے سپلائی چین مسائل سےمتاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی ایک مسئلہ ہے، اس پر کوئی اقدامات کرنے ہوں گے۔ معیشت میں دباؤ کو بھی کم کرنا پڑے گا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ طویل مدتی اسٹرکچرل مسائل ہیں۔ سرکاری اداروں کی انتظامیہ میں شفافیت میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ پبلک فنانس میں اصلاحات کرنا پڑیں گی، ٹیکس کے قوانین سہل بنانے اور کاروباری ماحول میں آسانی پیدا کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے فرائض واضح کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں، جس کے تحت اسٹیٹ بینک کا بنیادی مقصد یہ بھی ہوگا وہ قیمتوں کے توازن میں مدد کرے گا۔ دیگر مانیٹری پالیسی ریٹ، ایکسچینج ریٹ پالیسی اسٹیٹ بینک کے پاس ہوگی اور اس آزادی دی جائے گی۔
قبل ازیں آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چھٹے جائزے کے لیے درکار پالیسیوں اور اصلاحات پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوگیا ہے، جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پیشگی اقدامات کی تکمیل بالخصوص مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بعد مذکورہ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔ آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق اس سے پروگرام کی اب تک دی گئی رقم 3 ارب 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ جائے گی اور باہمی اور کثیرالجہتی شراکت داروں سے فنڈنگ کھلنے میں مدد ملے گی۔
پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کے بعد بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف نے ’مشکل ماحول کے باوجود‘ پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں ملک کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔ بجٹ کے بنیادی خسارے کے سوا جون کے آخر تک کے لیے تمام مقداری کارکردگی کے معیارات کو بڑے مارجن کے ساتھ پورا کیا گیا۔