ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ ملک چلاسکیں: وزیراعظم عمران خان

  • منگل 23 / نومبر / 2021
  • 4070

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ ملک چلاسکیں، قرض لینا پڑتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ٹیکس کلچر بنا ہی نہیں۔ ٹیکس چوری کرنے کو لوگ برا نہیں سمجھتے۔  نوآبادیاتی نظام میں لوگ ٹیکس چوری کرنا اچھا سمجھتے تھے، 2008 سے ٹریک اینڈ ٹریس نظام لانے کی کوشش ہورہی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ جب لوگ سمجھیں کہ ٹیکس ہم پر اکٹھا ہوگا تو برتاؤ الگ ہوتا ہے، حکمران اشرافیہ نے کبھی ٹیکس کلچر پروان نہیں چڑھایا۔ اشرافیہ کے شاہانہ طرز زندگی سے لوگ سمجھتے تھے، ہمارا احساس نہیں، امیر ملکوں میں بھی وزرا کا طرز زندگی ایسا نہیں۔

وزیراعظم نے  کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں وزرا کو یاد دلایا جاتا ہے کہ آپ عوام کا کتنا پیسہ خرچ کررہے ہیں۔ مقروض ملک کے وزیراعظم نے دوروں پر 10،10 گنا زیادہ خرچ کیا۔ حکمران کو ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے کا احساس نہ ہو تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔ ملک کا استحکام داؤ پر لگ گیا، ضروری ہے ٹیکس کلیکشن بڑھے۔ 10 سال میں 6 ٹریلین سے 30 ٹریلین پر قرض لانے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔

شوگر انڈسٹری، سیمنٹ، فرٹیلائزر اور سریے پر بھی نظام لاگو کیا جائے گا، ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ٹیکس کلیکشن بڑھاسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی ڈیم نہیں بنے، کوئی بڑا کام نہیں ہوا، ہماری حکومت کا ہدف 6 ہزار ارب روپے کا ریونیو ہے۔

اشرافیہ کا شاہانہ طرز زندگی نیچے لائیں گے لوگوں کا حکومت پر اعتبار بڑھے گا۔ لوگ سمجھتے تھے کیوں ٹیکس دیں ہمارا پیسہ باہر جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی اور حیدرآباد میں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلوں میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار  بھی کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما غوث علی شاہ نے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی شریک تھے۔ اس اہم ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما غوث علی شاہ نے سندھ کی سیاسی صورتحال اور وفاقی حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو کی۔t

اس کے علاوہ وزیرِاعظم نے سندھ بالخصوص کراچی اور حیدر آباد میں ملک کے باقی حصوں کے مقابلے میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔