ثاقب نثار بتائیں کس نے مجھے اور نواز شریف کو سزا دینے پر مجبور کیا: مریم نواز
- بدھ 24 / نومبر / 2021
- 4170
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بتائیں کس نے آپ کو مریم اور نواز شریف کو سزا دینے پر مجبور کیا۔ منظر عام پر آنے والی آڈیو کے ساتھ پروپیگنڈا شروع ہوگیا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نامور امریکی ادارے سے آڈیو کی فرانزک کی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ آڈیو ایڈیٹڈ نہیں ہے۔ جب یہ آڈیو سامنے آئی تو ثاقب نثار صاحب کا کہنا تھا کہ یہ ان کی آڈیو نہیں ہے، بعد ازاں ایک چینل کی مدد سے انہوں نے قبول کیا اور کہا کہ یہ آڈیو توڑ جوڑ کر بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے فیصلے ادارے دیتے ہیں۔ آڈیو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لانا ہے تو نواز شریف کو سزا دینی ہوگی اور بیٹی کو بھی سزا دی جائے۔ میں پروپیگنڈا کرنے والے چینل کو کہنا چاہتی ہوں کہ وہ جملے بتائیں جو آپ چھپا رہے ہیں اور ہماری رہنمائی کریں کہ یہ جملے جسٹس ثاقب نثار نے کس تقریر میں کہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز نے اگر کوئی الزام لگایا ہے جس میں آپ نے اعتراف کیا ہے کیا وہ ویڈیو بھی جھوٹی ہے۔ شوکت عزیز کی گواہی کے بعد ارشد ملک جنہوں نے نواز شریف کو سزا سنائی تھی اس وقت جو میں نے ویڈیو ریلیز کی تھی عوام کے سامنے ہے۔ نواز شریف کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا، جسٹس کھوسہ صاحب نے اس وقت کہا تھا کہ فیصلہ عدلیہ کے چہرے پر کالا دھبہ ہے۔ آپ نے اس جج کو نکال دیا لیکن وہ فیصلہ اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے جج کا بیان حلفی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس صاحب نے کسی کو فون کیا جس میں انہوں نے کہا کہ الیکشن سے قبل مریم اور نواز شریف کو ضمانت نہیں دینی۔ آڈیو اور ویڈیو میں شک و شہبات ہوسکتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے چیف جج اور شوکت عزیز حیات ہیں۔ انہیں بلا کر اس حوالے پوچھیں اور اپنی بے گناہی ثابت کریں۔
مریم نواز نے کہا کہ ثاقب نثار بتائیں کس نے آپ کو مریم اور نواز شریف کو سزا دینے پر مجبور کیا۔ اگر تمام شواہد کو چھوڑ دیا جائے جس میں جسٹس شوکت عزیز، گلگت بلتستان کے چیف جج سمیت تمام افراد کی گواہی جھوٹی بھی ہے تو یہ نواز شریف کے حق میں پانچویں شہادت آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو ایک سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا، نواز شریف کے کیس میں تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ خود اتھارٹی بنی اور نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کیے گئے۔ جب پنڈورا پیپرز آئے تو اس وقت جے آئی ٹی کہاں تھی؟ پاکستان کی تاریخ میں کونسا ایسا کیس ہے جس میں سپریم کورٹ، نیب کو ریفرنس بھیجتا ہے اور اس پر ایک مانیٹرنگ جج بٹھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان پر کیس کیا گیا تو ان کے کسی ساتھی اور اہل خانہ کو نہیں بلایا گیا۔ جھوٹی منی ٹریل پر کسی نے کچھ نہیں کیا۔ بنی گالہ گھر ریگولرائز کرنے کے حوالے سے یو سی نے کہا کہ یہ دستاویزات کمپیوٹرائزڈ ہیں حالانکہ اس وقت ہمارے پاس کمپیوٹر ہی موجود نہیں تھا۔
مریم نواز نے کہا کہ سابق چیف جسٹس تو اپنی بے گناہی میں کچھ نہیں کہہ رہے لیکن حکومت کے ورزا جواب دینے کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں۔ وہ ثاقب نثار کے بےنقاب ہونے پر اپنے گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ جب آڈیو سامنے آئی تو عمران خان نے ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا حالانکہ مہنگائی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔
ہم بطور پاکستانی عدلیہ کو تمام شک و شبہات سے بلا تر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ثاقب نثار صاحب نے عدلیہ کو بدنام کیا ہے۔ فیصلہ کروانے والے اب بھی پس پردہ ہیں لیکن عدلیہ بدنام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تمام تر شواہد موجود ہیں لیکن عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ کو خود دھوئے۔