یورپ میں کورونا سے مزید 7 لاکھ اموات کا خدشہ

  • بدھ 24 / نومبر / 2021
  • 4050

عالمی ادارہ صحت  نے خبردار کیا ہے کہ یورپ اب بھی کورونا وائرس کی ’مضبوط گرفت‘ میں ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو رواں موسم سرما میں ہلاکتوں کی تعداد 22 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

یورپ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نبرد آزما ہے جس کی وجہ سے رواں ہفتے آسٹریا میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا جبکہ جرمنی اور نیدرلینڈز بھی پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ یکم مارچ تک وبا سے مزید 7 لاکھ یورپی ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ اس سے قبل کورونا وائرس کے باعث 15 لاکھ افراد دم توڑ چکے ہیں۔

یکم مارچ 2022 کے درمیان براعظم کے 53 میں سے 49 ممالک میں انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یو) پر بہت زیادہ دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ یورپ کے دوبارہ وبا کا مرکز بننے کا ذمہ دار کچھ ممالک میں سست روی سے جاری ویکسین مہم کو ٹھہرایا گیا ہے۔ مہلک ڈیلٹا ویرینٹ اور موسم سرما نے پابندیوں میں نرمی کو محدود کرتے ہوئے شہریوں کو دوبارہ گھروں میں منتقل کردیا ہے۔

یورپی یونین کی 67.7 فیصد آبادی مکمل طور پر ویکسینیٹڈ ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد مختلف ہے۔ سب سے کم ویکسین مشرقی ممالک میں لگائی گئی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے 53 ممالک پر مشتمل یورپی ریجن میں ایک روز میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 ہزار 200 پر پہنچ چکی تھی جو ستمبر میں ایک روز میں ہونے والی 2 ہزار 100 اموات سے دوگنی تعداد ہے۔

اس بات کے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ ویکسین کی حوصلہ افزائی سے متعدی مرض میں کمی آرہی ہے۔ یونان، فرانس اور جرمنی سمیت متعدد ممالک تیسری خوراک کی بوسٹر لگائی جارہی ہے۔ یورپ میں کورونا وائرس سے جرمنی کا خطہ شدید متاثر ہونے کے بعد لاک ڈاؤن کا نیا اعلان کردیا گیا ہے، اس دوران کرسمس کی مارکیٹیں بھی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر امریکا کے محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو جرمنی اور اس کے پڑوسی ملک ڈنمارک سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دریں اثنا آسٹریا میں دکانیں، ریسٹورنٹس اور بڑی مارکیٹیں بند ہیں اور حالیہ مہینوں میں شمالی یورپ میں سخت پابندیوں کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ حالیہ مطالعے کے مطابق ماسک کورونا وائرس کے خطرے کو 53 فیصد روکتا ہے اور اگر دنیا میں 95 فیصد ماسک استعمال کیے جائیں تو اس کے ذریعے یکم مارچ تک متوقع ایک لاکھ 60 ہزار اموات سے بچا جاسکتا ہے۔