وقت پر ایل این جی خریدی جاتی تو گیس بحران پیدا نہ ہوتا: شوکت ترین کا اعتراف
- بدھ 24 / نومبر / 2021
- 3480
مشیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے اگر وقت پر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگوز خرید لیے ہوتے تو گیس کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
نجی ٹی وی چینل ’سما نیوز‘ کے پروگرام میں انٹرویو میں شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے ملک میں گیس مہنگی ہے۔ ملک میں گیس کے شدید بحران کے حوالے سے سوال پر شوکت ترین کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں ہمیں جو کارگوز لے لینے چاہیے تھے وہ ہم نے نہیں لیے۔ اگر کارگوز وقت پر خرید لیے جاتے تو بھی صرف 2 سے 3 ماہ کا ہی فائدہ ہوتا۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ پیٹرول اور گیس کی درآمدات 7 سے 8 ڈالرز بڑھ گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دسمبر اور جنوری کے درمیان قیمتیں کم ہوں گی۔ لکی مروت اور دوسرے مقامات پر گیس کی دریافت ہوئی ہے، مقامی کمپنیاں کچھ نہیں کر رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس کیش نہیں ہے۔ ان کے اوپر گردشی قرضہ اتنا ہے کہ وہ ڈویڈنٹ نہیں دے سکتیں، تو جیسے ہی وہ ڈیویڈنٹ دیں گے اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔
آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حوالے سے مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم سے دوسرے معاہدے کی شرائط گزشتہ معاہدے کے مقابلے اتنی مشکل نہیں ہیں۔ پچھلے معاہدے میں 700 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے تھے اور بجلی کے فی یونٹ پر 4 روپے کا ٹیرف بڑھانا تھا اور مرکزی بینک کو آزاد بنانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپریل میں عہدہ سنبھالا اور حکومت آئی ایم ایف سے پہلے ہی معاہدہ کر چکی تھی، میں نے حکومت کو ٹیکس دینے والوں پر بوجھ کم کر کے مزید ٹیکس کنندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا مشورہ دیا۔ میں نے حکومت سے کہا کہ گردشی قرضہ بڑھنے کا سبب بے شمار بجلی گھر ہیں، آج آپ ٹیرف میں اضافہ کریں تو اس کا نقصان عام شہری کو بھرنا پڑے گا لہٰذا اس کا کوئی دوسرا حل نکالا جائے۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں موجود اسٹیٹ بینک سے متعلق کئی ایسی شرائط نکال دی ہیں جو ہم پوری نہیں کر سکتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے بتایا کہ منی بجٹ کا اعلان آئندہ ہفتے تک کردیا جائے گا۔ منی بجٹ سے 350 ارب روپے کی چھوٹ ختم کی گئی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں چھوٹ حاصل کر رکھی ہے۔
بجلی قیمت کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے سے زائد اضافہ کرنے کے لیے کہا گیا لیکن ہم نے ایک روپیہ 68 پیسے اضافہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن پیٹرول کی قیمت کے زیادہ اثرات پڑتے ہیں، اگر پیٹرول کی قیمت کم نہیں ہوئی تو یہ لوگوں کے لیے بوجھ ہوگا۔