آڈیو ٹیپس اور ججوں کے نام، سب ڈراماہے: وزیراعظم
- بدھ 24 / نومبر / 2021
- 3490
وزیراعظم عمران خان نے سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو اور دیگر سامنے آنے والی دستاویزات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جو آڈیو ٹیپس نکل رہی ہیںِ ججز کے نام آرہے ہیں، سب ڈراما ہے۔
اسلام آباد میں کامیاب نوجوان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب میں سیاست میں آیا تو 14 سال تک میرا مذاق اڑایا گیا اور کہاگیا کہ دو پارٹی نظام ہے اور تیسری پارٹی نہیں آسکی جب وہ پارٹی آگئی تو تین سال سے سن رہا ہوں تم فیل ہوجاؤ گے۔ سب اپنی نظروں سے پاکستان کو ایک عظیم قوم بنتے ہوئے دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس کو دنیا میں کامیاب ہونا ہے، کوئی بھی محنت کے بغیر کامیاب نہیں ہوا، کامیابی کا راز یہ ہے کہ بڑی سوچ رکھنا، خواب جتنا بڑا ہوگا اتنا بڑا انسان ہوگا، اللہ نے انسان کو طاقت دی ہے، جتنا خود کو آزماؤگے، چیلنجز کاسامنا کروگے اتنا بڑے انسان بنتے جاؤگے۔ کامیاب وہ نہیں ہوتا جو ذہین ہوتا ہےبلکہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو بڑی سوچ، بڑا خواب رکھتا ہے اور اس کے بعد ہار نہیں مانتا ہے۔ جتنی اوپر سوچ رکھیں گے، اتنی زیادہ مایوسیاں آئیں گی، انسان کے کردار کی پہچان برے وقت میں ہوتی ہے، مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے کہ انسان کا کتنا کریکٹر ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کل ٹیپس کی بات ہو رہی ہے، ٹیپس نکل رہی ہیں۔ ججوں کے نام آرہے ہیں، میں نے 25 سال پہلے کہا تھا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ یہ ٹیپس سارا ڈراما ہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے جس ملک کے اندر ان کا سربراہ اور وزیراعظم چوری شروع کردیں۔ ملک کے پیسے کو چوری کرکے باہر لے جانا شروع کردیں۔
قومیں وسائل کی کمی سے غریب نہیں ہوتیں، قومیں اس لیے غریب ہوتی ہیں جب ان کے سربراہ، وزیراعظم اور وزرا چوری کرتے ہیں تو وہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ 2016 میں پاناما کیس آیا، دنیا میں جنہوں نے اپنا پیسہ چھپا کر آفشور اکاؤنٹس میں رکھے تھے، ان کا نام آیا۔ ان میں سے ایک نام آیا لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹ ہیں اور ان کی مالکہ مریم صفدر تھیں۔
انہوں نے کہا کہ بات یہاں سے شروع ہوئی، اس کے بعد عدالت میں کیس گیا۔ اس کے بعد جے آئی ٹی بنی اور پھر سپریم کورٹ میں آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کو سزا ہوگئی۔ عدالتوں اور پاکستانیوں کو لندن میں 4 فلیٹس کے پیسے کہاں سے آئے یہ بتانے کی بجائے پہلے مجھے کیوں نکالا، عدلیہ کو برا بھلا، پھر پاکستانی فوج کو برا بھلا اور مجھے تو وہ بہت ظالم کہتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جواب دیں کہ آپ نے یہ 4فلیٹس لیے کدھر سے، ساری چیزیں کر رہے ہیں لیکن جواب نہیں دے رہے۔ میرے اوپر کیس کیا، میرا لندن میں فلیٹ تھا تاہم سپریم کورٹ میں 40 سال پرانے معاہدے کے کاغذات دیے جبکہ میں تو عہدیدار نہیں تھا ایک کھلاڑی تھا اور عدالت نے جو مانگا وہ میں نے دے دیا، 10 مہینے لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوس اس چیز کا ہے کہ لاہور میں ایک تقریب ہوتی ہے، وہاں سپریم کورٹ کے ججوں کو بلایا جاتا ہے اور ادھر جس کو سپریم کورٹ نے سزا دی ہے جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، وہ تقریر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قوم وہ قوم بننے جارہی جس کا آپ ابھی تصور نہیں کرسکتے۔ اللہ نے اس قوم کو سب کچھ دیا ہوا ہے، مجھے کوئی شک نہیں یہ قوم عظیم قوم بنے گی۔ جب تک ہم اپنا اخلاقی معیار اوپر نہیں اٹھائیں گے، ہم ادھر نہیں پہنچ سکتے جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے۔ اس لیے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے تاکہ نبی ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور ان کی سیرت زندگیوں میں لاگو کریں۔