ڈیلرز کی ہڑتال کے سبب بیشتر پیٹرول پمپ بند

  • جمعرات 25 / نومبر / 2021
  • 3270

پاکستان میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کمیشن میں اضافے کے مطالبے کے لئے ہڑتال کے باعث ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپ بند ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ان کا کمیشن 2.75 فی صد سے بڑھا کر چھ فی صد کیا جائے۔ رپورٹس کے مطابق کمیشن میں اضافے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی ہڑتال کی کال دی تھی البتہ حکام سے ملاقاتوں کے بعد ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی تھی۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی حالیہ ہڑتال کا دورانیہ کیا ہو گا البتہ ایسوسی ایشن کے اراکین نے اپنے پیٹرول پمپ جمعرات کی صبح چھ بجے سے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بدھ کی شب سے پیٹرول پمپس کے باہر پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔ جمعرات کی صبح بھی ان پیٹرول پمپس پر رش تھا جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری تھی۔

دوسری جانب وزارت پیٹرولیم کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ملک کے سرکاری ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور نجی کمپنیوں شیل، ہیسکول اور گو کے کمپنی آپریٹڈ پمپس پر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری ہے۔ پی ایس او نے بدھ کو ہی اعلان کر دیا تھا کہ کمپنی کے زیرِ ملکیت اور زیرِ انتظام پیٹرول پمپس پر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت جاری رہے گی۔ اس حوالے سے پی ایس او نے ایک فہرست بھی جاری کی ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کہہ چکے ہیں کہ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ رابطہ برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرِثانی کے حوالے سے ایک سمری پہلے ہی اکنامک کوآرڈینشن کمیٹی میں پیش کی جا چکی ہے۔ آئندہ اجلاس میں اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ سمری میں ڈیلرز کے منافع کی شرح کیا رکھی گئی اور اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں اضافہ ہوگا یا حکومت قمیتیں برقرار رکھے گی۔ مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبد السمیع خان کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ڈیلرز کے مارجن کے حوالے سے تیار کی گئی سمری کے نکات معلوم نہ ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق یقین دہانیوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے ڈیلرز کے لیے پمپس چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات تاریخ کی بلند ترین سطح پر فروخت ہو رہی ہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔