پارٹیشن سے متعلق آر ایس ایس سربراہ کے بیان کی مذمت
- ہفتہ 27 / نومبر / 2021
- 3010
دفتر خارجہ نے بھارتی قوم پرست تنظیم راشٹریہ سوام سیوک سَنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھگوت کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’تقسیم کے درد کو ختم کرنے کا واحد حل تقسیم ختم کرنا ہے‘۔
بھارتی اخبار کے مطابق نوئیڈا میں ایک تقریب سے خطاب میں موہن بھگوت نے ’اکھنڈ بھارت‘ کے نظریے کی وکالت کرتے ہوئے اسے ناقابل فراموش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کا درد تب ہی ختم ہوگا جب تقسیم ختم کردی جائے گ۔، جو ٹوٹ گیا اسے دوبارہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے، بھارت کی تقسیم کے لیے سازشیں گھڑی گئی تھیں جو اب بھی جاری ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی تقسیم امن کی بحالی کے لیے کی گئی تھی لیکن اس کے بعد ملک میں فسادات پھوٹ پڑے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ان کے بیان کو پرفریب سوچ اور تاریخ میں ترمیم کی خواہش قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کرتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ اس سے قبل بھی عوامی سطح پر تقسیم کو ختم کرنے کی اشتعال انگیزی میں ملوث رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی کئی بار خطے کے امن و استحکام کو لاحق خطرے کی نشاندہی کرچکا ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس بی جے پی کے انتہا پسند ’ہندوتوا‘ نظریے اور توسیع پسندانہ خارجہ پالیسی کے زہریلے مرکب کو فروغ دیا جارہا ہے۔ یہ نظریہ بھارت کے لیے بھی خطرناک ہے جس کی وجہ سے ناصرف وہاں اقلیتوں کو مکمل طور پر پسماندہ اور ختم کردیا جائے گا بلکہ یہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے پڑوسی ممالک کے لیے بھی خطرے کا سبب ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ دنیا، بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے اور کشمیریوں پر بھارتی فوج کی جانب سے بے دریغ جبر کی شاہد ہے۔ فروری 2019 سمیت بھارت کی دیگر غلط مہم جوئی سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرہ ہے اور یہ دنیا کے سامنے ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے توسیع پسندانہ رویے کی مذمت کی ہے اور کسی بھی اشتعال انگیز عمل کو ناکام بنانے کے پختہ عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
امن و استحکام کا عزم کرتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہری اور مسلح افواج ملکی خود مختاری اور علاقائی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے متنبہ کیا کہ بی جے پی اور ان کے نظریاتی ساتھی آر ایس ایس سے منسلک افراد اس قسم کے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان دینے سے گریز کریں اور پُرامن بقائے باہمی کے تقاضوں کو سیکھنے کی کوشش کریں۔