عالمی ادارہ صحت نے کورونا کی نئی قسم کو باعث تشویش قرار دے دیا

  • ہفتہ 27 / نومبر / 2021
  • 3720

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ ’اومی کرون‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس کرونا کے دیگر اقسام کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران جنوبی افریقہ میں اس ویریئنٹ کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ اومی کرون پانچواں ویریئنٹ ہے جسے اتنا مہلک قرار دیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق لوگوں میں اومی کرون ویریئنٹ کی تشخیص کورونا کی پہلے کی اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار قدرے تیز ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا کے پی سی آر ٹیسٹ میں اس ویریئنٹ کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کا نیا ویریئنٹ جنوبی افریقہ میں سامنے آیا ہے جس کو ڈبلیو ایچ او نے ’اومی کرون‘ کا نام دیا ہے جس کی تشخیص کے بعد متعدد ممالک نے افریقہ کے متعدد ممالک سے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

دوسری طرف اومی کرون ویریئنٹ کی تشخیص کے بعد بحر اوقیانوس کے دونوں جانب اسٹاک مارکیٹس میں ایک سال کے دوران سب سے بڑا نقصان سامنے آیا ہے۔ طبی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اومی کرون ویریئنٹ کے سبب لگائی جانے والی سفری پابندیوں میں بہت دیر کر دی گئی ہے۔

کورونا وائرس کے اومی کرون ویریئنٹ کی تشخیص یورپی کے ملک بیلجیئم، بوسٹوانا، اسرائیل اور ہانگ کانگ میں بھی ہوئی ہے۔بائیڈن انتظامیہ کے مطابق امریکہ، جنوبی افریقہ اور ہمسایہ ممالک سے آنے والی پروازوں پر آئندہ ہفتے سے پابندی عائد کرے گا۔ کینیڈا نے بھی کہا ہے کہ ان ممالک کی سرحدوں کو بند کیا جارہا ہے جن پر برطانیہ اور یورپی یونین کی طرف سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یورپی یونین کا بھی کہنا ہے کہ وہ بھی ممکنہ طور پر ان ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگائے گا جہاں اومی کرون ویریئنٹ کی تشخیص ہو گی۔ یورپی یونین کے مطابق ان ممالک سے آنے والی پروازوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے جہاں سے اس ویریئنٹ کی تشخیص کی گئی ہے جن میں ہانگ کانگ اور اسرائیل شامل ہیں۔

برطانیہ نے پہلے ہی افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ آسٹریلیا نے افریقہ کے نو ممالک سے آنے والی پروازوں پر ہفتے سے پابندی لگائی ہے۔

ہالینڈ کی وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو جنوبی افریقہ سے آنے والے 61 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور ان افراد کے مزید ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ مذکورہ افراد اومی کرون سے متاثرہ تو نہیں ہیں۔

عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی چار برس کے دوران ہونے والی سب سے بڑی کانفرنس کورونا وائرس کے اومی کرون ویریئنٹ کے سبب ملتوی کر دی گئی۔ یہ کانفرنس عالمی ادارہٴ صحت کی طرف سے اومی کرون ویریئنٹ کو تشویش ناک قرار دیے جانے کے بعد ملتوی کی گئی۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ نئی قسم سابقہ اقسام کے لہروں کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے ابھری ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سائنسدان کورونا کی اس نئی قسم کی تفصیلات جاننے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ کس حد تک متعدی ہے اور کووڈ ویکسینز اس کے مقابلے میں غیر مؤثر تو نہیں ہیں۔

فائزر کے ساتھ مل کر کووڈ ویکسین تیار کرنے والی کمپنی بائیو این ٹیک نے 26 نومبر کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ کورونا کی اس نئی تشویشناک قسم کے حوالے سے مزید ڈیٹا 2 ہفتوں کے اندر سامنے آجائے گا جس سے تعین ہوسکے گا کہ اس کی تیار کردہ ویکسین کس حد تک مؤثر ہے یا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ایسٹرا زینیکا نے بھی ایک بیان میں بتایا ہے کہ وہ اس نئی قسم کے اثرات کا تجزیہ ویکسین اور اینٹی باڈی دوا پر کررہی ہے۔ توقع ہے کہ ادویات کا امتزاج بدستور مؤثر ثابت ہوگا۔