قصور پھر بھی آئی ایم ایف کا ہے!

ناں ناں کرتے بالآخر ہاں کرنی پڑی، آئی ایم ایف کے ساتھ معطل پروگرام کو دوبارہ جاری کرنے کی مجبوری کے سامنے حکومت نے ہتھیار ڈال دیے۔

آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط میں سے کچھ پر پہلے ہی عملدرآمد ہو چکا ، بقیہ پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرانی پڑی۔ اب جنوری میں بورڈ کی منظوری کے بعد روکی ہوئی ایک ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔  یہ وہی اچھی خبر ہے جس کا یقین وزیر خزانہ پچھلے کئی ہفتوں کے دوران کراتے رہے۔ اور اسی اچھی خبر کی بے تابی میں اسٹاک ایکسچینج بار بار لڑکھڑائی اور روپے کی ویلیو بھی ڈالر کے مقابلے میں مزید گری۔ حسب توقع پیشگی شرائط کی تفصیل سامنے آنے پر میڈیا پر شور مچ گیا، مہنگائی پہلے ہی اس قدر ہے آئی ایم ایف کے ساتھ ان نئی شرائط کی رضامندی سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا۔ 

 اس نئے طوفان پر عوام کی تشویش  کو ایک لمحے کے لئے ایک طرف چھوڑیں،  آئیے ایک ہی دن کی دو خبریں دیکھیں کہ حکومت اور سیاسی اشرافیہ اس چیلنج پر کیا سوچ رہے ہیں اور اس کا حل کیا تجویز کیا ہے۔  وزیراعظم عمران خان کا فرمانا ہے: ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ملک کو چلانے کے لئے پیسہ مجبوراً قرضہ لینا پڑتا ہے، اخراجات زیادہ اور آمدن کم ہے۔ پاکستان پر 30 ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھانے والوں کو سزائیں ملنی چاہئیں۔

مہنگائی سے گھر نہیں چل رہے , اس لئے ارکان اسمبلی کا الاؤنس بڑھایا جائے۔ ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن کی راحیلہ خادم کو پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ ہر سیاسی مسئلے ہر اختلاف اور چیخ چنگھاڑ پر آمادہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں جھٹ سے اتفاق ہو گیا۔ اور یوں ارکان پنجاب اسمبلی نے اپنا الاؤنس بڑھانے کی قرار داد منظور کر لی۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ ملک چلانے کے لئے پیسہ نہیں ہے، دوسری طرف سب سے بڑی صوبائی اسمبلی کے ارکان کا بھی یہی گلہ ہے کہ ان کا گھر نہیں چل رہا جس کا حل انہوں نے خود ہی تجویز کردیا کہ ہمارے الاؤنس بڑھا دیں۔ وزیراعظم کے پاس مگر اپنی مجبوری کا اس قدر سادہ حل نہ تھا،  ان کے پاس  اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ آئی ایم ایف کی مشکل شرائط مان لیں۔  نہ صرف یہ بلکہ سعودی عرب سے مزید تین ارب ڈالرز کے قرض کا بھی بندوبست کرنا پڑا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو نہیں معلوم کہ ملک اور عوام کس حال میں ہیں؟ جواب بہت سادہ ہے کہ انہیں خوب معلوم ہے کہ ملک معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے مگر ان کا بلکہ دیگر  سیاسی اشرافیہ کا طرز عمل اور انداز فکر یہی رہا ہے کہ حکومت جانے اور آئی ایف جانے، ہماری بلا سے، اپنے حصے کا مال بٹورو اور بس۔۔اللہ اللہ خیر صلا۔ ہمارے ہاں منافقت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ورنہ جہاں آج معاشی ابتری کے جس عالم میں ہیں وہاں پہنچتے ہی کیوں۔ یہ منافقت ہی تو کہ ہر آنے والی حکومت کو ڈنگ ٹپانے کے لئے آئی ایم ایف قرضے کے لئے ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہیں۔ اپوزیشن  اس پر جانی پہچانی تنقیدی سنگ باری کرتی ہے کہ حکومت عوام دشمنی کر رہی ہے مگر جب اپنی باری آتی ہے وہ سمجھاتے نہیں تھکتی کہ کیا کریں مجبوری ہے، پہلے والوں نے کام ہی اتنا خراب کردیا ہے ، اس کے سوا چارہ نہیں ورنہ ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ چند دنوں کی بات ہے، کچھ اصلاحات اور انتظامی اقدامات اور بس۔۔

مگر اسی پر بس رہتی نہیں۔ماضی کے پینتیس سالوں کے دوران کسی بھی حکومت نے ان تباہ کن عوامل کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں جن کے سبب ملک اب یہاں پہنچ چکا ہے کہ تمام ترقیاتی اخراجات قرض سے پورے ہوتے ہیں۔ موٹر ویز، میٹرو بسیں، ہائی ویز، سی پیک کے بیشتر منصوبے سب قرض کے محتاج ہیں۔ حکومت کے اپنے جاری اخراجات اور پنشن بھی اپنے ریونیو سے پورا نہیں پو پاتے۔ کیوں؟  بہت سادہ وجہ ہے، جب اخراجات اور آمدن کا توازن برقرار نہیں رکھا جائے گا تو خسارہ کاہے سے پورا ہوگا ؟ قرض سے۔ جب برآمدی کمائی ایک سو ڈالر ہو اور درآمد تین سو ڈالر کی ہو تو تجارتی خسارہ کہاں سے پورا ہوگا؟ قرض سے۔ کچھ حصہ بیرونی  ترسیلات زر سے مگر باقی کا فرق قرض سے پورا ہوتا ہے۔ ملک کی اکانومی کا دو تہائی کیش اکانومی پر مشتمل ہے،  براہ راست ٹیکس کا شئیر ناکافی ہے، ٹیکس کلچر ہے نہیں اور جو ہے وہ کرپشن اور چوری میں لتھڑا ہوا ہے۔۔۔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں والا معاملہ ہے۔

 کسی بھی گھر، کاروبار یا حکومت کے بجٹ اور مالیاتی استحکام کے لئے یہی بنیادی کام سینس درکار ہے ۔ مگر معاملات اس وقت خراب ہوتے ہیں جو بدنیتی اور مفاد پرستی کامن سینس کو کام سے روک  دیتی ہے۔ کرنے کے چار پانچ کام ہیں جو کسی بھی ملک اور حکومت  کے بنیادی فرائض میں سے ہیں۔  ہم میں کوئی سرخاب کے پر تو ہیں نہیں کہ ہم خود کو ان سے بالا بھی سمجھیں اور یہ توقع بھی رکھیں کہ آئی ایم ایف ہر روز گڑگڑا کر عرض گزار ہو کہ حضور ہمارا خزانہ آپ کا ہے جیسے اور جب چاہیں اس پر ہاتھ صاف کریں۔  بالکل اسی طرح جیسے اپنے خزانے اور وسائل پر آپ ہاتھ صاف کرنے کے عادی ہیں۔

وفاقی،  صوبائی اور مقامی حکومتوں کا سائز ضرورت سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ وزارتوں ، ڈویژنوں اور ڈیپارٹمنٹ کی لائینیں لگی ہوئی ہیں۔ گزشتہ پینتیس سالوں کے دوران کسی بھی سیاسی اور غیر سیاسی حکومت نے سائز کم کرنے کی بجائے بڑھایا ہی ہے۔ دنیا بھر میں حکومتی ڈھانچے میں کمی کرتے ہوئے نجی شعبے اور مارکیٹ مقابلے کو فروغ دیا گیا ہے مگر ہمارے ہاں اس سے الٹ ہے۔ تنخواہوں اور بینیفٹس اور پنشن کا بوجھ حکومت کی کمر دوہری کر رہاہے مگر سیاسی مفاد پرستی اور منافقت کسی بھی سیاسی جماعت کو اس طرف آنے نہیں دیتی۔

پانچ چھ دہائیوں قبل تک پبلک سیکٹر ادارے مکس اکانومی کا معمول تھا۔ واپڈا، ریلوے، پی آئی اے سمیت درجنوں ادارے بنائے گئے۔ بعد ازاں کچھ صنعتی اور دیگر ادارے بھی قائم ہوئے۔ آج حالات یہ ہیں کہ بالعموم یہ ادارے نقصان میں ہیں، کرپشن کی ایک سے ایک بڑی داستان سننے کو ملتی ہے۔ ان اداروں کا سالانہ نقصان وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی بجٹ سے بھی زائد یو چکا ہے۔  گورننس کسی بھی ملک اور ادارے کی کامیابی کی کلید ہے، بدانتظامی کسی بھی ملک اور ادارے کی تباہی کا سامان ہے۔ ہمارے ہاں بدانتظامی نے تقریباً ہر جگہ ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ کہیں سیاسی مداخلت اور مفادپرستی اس کی سرپرست ہے تو کہیں کرپشن اور اقرباپروری اسکی مضبوط ڈھال۔ انتظامی و عدالتی نظام ہو یا تعلیم صحت کے ادارے، ہر طرف چوپٹ نام کا راجہ حکمران ہے۔

کرپشن جو کبھی چھپ چھپا کر ہوتی تھی، اب روزمرہ نظام کا حصہ بن چکی ہے۔ عالمی کرپشن انڈکس  پر نچلے درجے پر ہمارا مستقل  قیام اسی بات کا غماز ہے ۔  پچھلے چالیس سالوں میں عالمی تجارت اور صنعت کا نقشہ بدل چکا ہے مگر ہم اسی فرسودہ اقتصادی ڈھانچے کے اسیر ہیں۔ زراعت کی پیداوار میں مسلسل گراوٹ ہے، صنعتی پیداوار میں جدت اور ویلیو ایڈیشن مفقود ہے۔ پالیسیاں اشرافیہ کی ضرورتوں کے مطابق بنتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ویتنام، ملائشیا ، کوریا سمیت بہت سے ملک کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ایک ہم ہیں کہ ٹیکسٹائل کے سوا ایکسپورٹ کے لئے خاطر خواہ کچھ بھی نہیں، ہر شے امپورٹ ہو رہی ہے۔ ایسے میں تجارتی خسارہ نہ بڑھے تو اور کیا ہوگا

 ایسے میں ہر جانے والی حکومت ملک کو مزید مقروض اور مفلوک الحال چھوڑ کرگئی۔ سیاسی بیانئے کی گولہ باری اور میڈیا پر بیان بازی کی لذت سے سیاسی بازار سجا ہوا ہے مگر کرنے کے یہ چند کام اگر کوئی بھی حکومت کر سکتی تو کیا برا تھا۔۔ہاں مگر برا ہے تو آئی ایم ایف ، کم از کم ہم تو ہرگز ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ اپنی وضع کے وکھرے لوگ جو ہوئے۔ رہی آئی ایم ایف کی غلامی سے چھٹکارہ تو باقی صدیقی یاد آئے:

ایک دیوار کی دوری ہے قفس

توڑ سکتے تو چمن میں ہوتے